جامعہ کراچی این ٹی ایس سے ٹیسٹ کرانے پرشش و پنج کا شکار

 داخلہ ٹیسٹ شعبہ جاتی سطح پر کرانے پر بھی غورشروع کر دیا گیا، حتمی فیصلہ اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں کیا جائے گا

 داخلہ ٹیسٹ شعبہ جاتی سطح پر کرانے پر بھی غورشروع کر دیا گیا، حتمی فیصلہ اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں کیا جائے گا

این ٹی ایس کے تحت منعقدہ ایم بی بی ایس کے داخلہ ٹیسٹ کا امتحانی پرچہ آؤٹ ہونے کامعاملہ سامنے آنے کے بعد جامعہ کراچی کی انتظامیہ اپنا داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس سے کرانے کے حوالے سے شش وپنج میں مبتلاہوگئی ہے ، این ٹی ایس کا ٹیسٹ پیپرآؤٹ ہونے کے بعد پیداہونے والی صورتحال کے سبب داخلہ ٹیسٹ این ٹی ایس کے بجائے جامعہ کراچی میں شعبہ جاتی سطح پر کرائے جانے پر بھی غورشروع کر دیا گیا ہے۔


تاہم این ٹی ایس سے داخلہ ٹیسٹ کرانے یانہ کرانے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آئندہ چند روز میں ہونے والے اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں ہی کیاجائے گا، ذرائع نے بدھ کو ''ایکسپریس'' کو بتایاکہ جامعہ کراچی کی 31رکنی داخلہ کمیٹی میں شامل رئیس کلیہ قانون جسٹس (ر) غوث محمد پہلے ہی وائس چانسلرجامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹرمحمد اجمل اور قائم مقام رجسٹرارڈاکٹرمنوررشیدکواین ٹی ایس کے حوالے سے لاہورہائی کورٹ کے فیصلے کاعکس فراہم کرچکے ہیں جس میں این ٹی ایس کے بجائے سرکاری سطح پر ٹیسٹنگ سروس کی تشکیل کے حوالے سے ایچ ای سی کو ہدایت کی گئی تھیں تاہم اب موجودہ صورتحال کے باعث رئیس کلیہ قانون کی جانب سے دیے گئے لاہورہائی کورٹ کے اس فیصلے کومزیدتقویت مل گئی ہے، ادھرجامعہ کراچی کے رجسٹرار کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم پروفیسرڈاکٹراحمد قادری کی کنوینئرشپ میں کام کرنے والی جامعہ کراچی کی داخلہ کمیٹی نے اس بار داخلہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں اور پہلی بار شعبہ ویژول اسٹڈیزکے داخلوں کوبھی مرکزی داخلہ پالیسی میں شامل کردیا گیا ہے۔

اب اس شعبہ کے لیے علیحدہ ٹیسٹ نہیں ہوگابلکہ دیگر شعبہ جات کے ساتھ اس کا ٹیسٹ بھی لیا جائے گا، شعبہ میں داخلوں کے لیے انٹرویوز بھی ختم کر دیے گئے ہیں،علاوہ ازیں رجسٹرارجامعہ کراچی کے قریبی ذرائع نے مزیدبتایاکہ کھیلوں کے مختص کوٹے کے سلسلے میں بھی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ان داخلوں کے لیے چاررئیس کلیات پر مشتمل کمیٹی بنادی گئی ہے، اندورن سندھ، بلوچستان، فاٹااور گلگت بلتستان کے کوٹے میں کمی یا بیشی کی منظوری اکیڈمک کونسل کے اجلاس میں لی جائے گی، یادرہے کہ اس بار داخلہ پالیسی آن لائن ہوگی جبکہ داخلہ کتابچہ (پراسپیکٹس) بھی شائع نہیں ہوگابلکہ آن لائن دستیاب ہو گا آن لائن فارم کی قیمت اور داخلہ پراسس کے چارجز کا تعین شعبہ فنانس کرے گا۔
Load Next Story