ریکس ٹلرسن کی آمد و روانگی

دونوں ملکوں کے مابین اعلیٰ سطح کے رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا

دونوں ملکوں کے مابین اعلیٰ سطح کے رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے، مریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں اضافہ اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے دو طرفہ تعلقات کو بڑھانا چاہتے ہیں جب کہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا ہے کہ خطہ میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کی آمد اور مختصر قیام کے بعد بھارت روانگی سے خطے کی صورتحال پر اس ملاقات کے اثرات و مضمرات نے ایک نیا سینیاریو تشکیل دیا ہے، ریکس ٹلرسن نے پاکستانی قیادت کو جو پیغام پہنچایا وہ خلاف توقع دھیمے پن کا مظہر تھا، جس میں ممکنہ رعونت، گھن گرج، برہمی اور خارجہ پالیسی پر رجزیہ انداز بیاں کم از کم میڈیا پر کھل کر سامنے نہیں آیا، امریکی وفد اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ٹلرسن کو جو حقیقت پسندانہ اور معروضی تصویر ان کے سامنے پیش کی وہ میڈیا کی چکاچوند سے خالی تھی، میڈیا کے بعض حلقوں نے ٹلرسن کی ملاقات میں سرد مہری کا عندیہ دیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کی آمد اپنے ہی پیدا کردہ مختلف الجہات مسائل اور چیلنجز میں الجھے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی پیغام کو بذات خود پاکستان تک پہنچانا مقصود تھا، وہ ڈو مور کا مطالبہ کرکے گئے مگر بادی النظر میں اس ملاقات کی اصل تکمیل غالباً وزیر دفاع جیمز میٹس کی دسمبر آمد سے مشروط ہوگی۔ وہ بھی کچھ کہیں گے۔


ٹلرسن کو لائن آف کنٹرول، مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کے اندر دہشتگردوں کی سرپرستی اور موجودگی سے آگاہ کیا گیا، تاہم ان کی طرف سے کوئی ان سائیڈ کریک ڈاؤن کی بات نہیں ہوئی۔ واضح رہے منگل کو وزیراعظم ہاؤس سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے پاکستان کے ایک روزہ دورہ پر آئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، ملاقات میں وفاقی وزراء خرم دستگیر، خواجہ آصف، احسن اقبال، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ میڈیا کے مطابق ملاقات میں پاک، مریکا تعلقات سمیت افغانستان، خطہ کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف جنگ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نتائج بھی حاصل کیے ہیں، دونوں ممالک کو اقتصادی اور معاشی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔

انھوں نے دونوں ملکوں کے مابین اعلیٰ سطح کے رابطوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور حالیہ مہینوں میں ان روابط کے نتیجہ میں پاک مریکا دوطرفہ تعلقات میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے امریکی وزیر خارجہ کو ملکی سیکیورٹی اور اقتصادی صورتحال میں بہتری کے حوالے سے آگاہ کیا، امریکی وفد کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ دوسری جانب پاکستان میں قائم امریکی سفارتخانے نے بھی ریکس ٹلرسن کے دورہ پاکستان پر بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ امریکی وزیرخارجہ نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات میں اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور پاک مریکا تعاون اور شراکت داری پر بات کی۔ ملاقات میں خطے میں پاکستان کے کردار سے متعلق بات ہوئی۔ امریکی وزیر خارجہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے مریکا کے ساتھ مل کر کردار ادا کرسکتا ہے۔

بلاشبہ ٹلرسن کے ڈو مور کے تقاضہ پر ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں، چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے دورہ کابل کے موقع پر پاکستان سے متعلق دیے گئے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ کا کابل میں بیان پارلیمنٹ کو کسی صورت قابل قبول نہیںہے۔ادھر مریکا کے وڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر فار اسکالرز نے اپنی رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ اپنی نئی پالیسی کے تحت پاکستان پر بہت زیادہ دباؤ ڈالنے سے گریز کرے، افغانستان میں بھارت کو زیادہ کردار دینے سے افغانستان میں امریکی اثرورسوخ پر منفی اثرات مرتب ہونا یقینی ہیں، سنگین مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے مفید خفیہ معلومات، مریکا کو طالبان اور القاعدہ کے جنگجوؤں کو گرفتار اور ان کے خلاف بروقت لاجسٹک سپورٹ مہیا کی ہے۔ ریکس ٹلرسن کے دورہ پاکستان کے حوالے سے آن لائن امریکی جریدے ''دی ہل'' میں شایع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹرمپ کے 21 اگست کے خطاب میں اعلان کردہ افغان پالیسی سے مطمئن نہیں۔ بہرحال ریکس ٹلرسن کی آمد سے پہلے ''بہت شور سنتے تھے'' کی حقیقت اجاگر ہوئی، پاکستان کی معروضات امریکی وفد کے لیے سوچ کا جہان معنی لیے ہوئے ہیں، مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے، حکمراں سیاسی و معاشی استحکام اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا تسلسل جاری رکھیں، مریکا کے پاس پاکستان کے فرنٹ لائن کردار کو بھارت کی بھینٹ چڑھانے کا کوئی جواز نہیں۔
Load Next Story