بھارت مذاکرات کی بحالی میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے
مودی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو کشمیر کے لیے مذاکرات کار مقرر کیا ہے
مودی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو کشمیر کے لیے مذاکرات کار مقرر کیا ہے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارت ایک عرصہ سے جس طرح ہٹ دھرمی اور مذاکرات کی میز پر آنے سے گریزاں تھا، اس سے صاف ہے کہ بھارت اس مسئلے کے حل کے لیے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرے گا لیکن گزشتہ دنوں بھارت نے اس سلسلے میں ایک اور غیر سنجیدہ نمائشی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے لایعنی رویے پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو کشمیر کے لیے مذاکرات کار مقرر کیا ہے جو آیندہ 8 سے 10 روز میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے۔ تنازعہ کشمیر خطے کا وہ سلگتا ہوا مسئلہ ہے جس نے پاک بھارت تعلقات کو کبھی پنپنے نہیں دیا، نادان پڑوسی ملک 70 سال سے دیدہ و دانستہ اس مسئلہ کو طول دیتا رہا ہے، اور حالیہ ناگزیر صورتحال میں بھارت کی جانب سے تمام فریقین کی شمولیت کے بغیر مذاکرات کار کی نامزدگی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کے سابقہ رویہ کی طرح یہ کوشش بھی مخلصانہ اور حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس تقرری کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر میں سابق انٹیلی جنس افسر دنیشور شرما کی نامزدگی طاقت کے استعمال کی عکاس ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت کے عمل میں پاکستان، بھارت اور کشمیری بھی شامل ہوں، حریت کانفرنس کو شامل کیے بغیر کوئی بھی بات بے معنی ہوگی۔ دوسری جانب حریت کانفرنس کے رہنما مولوی عباس انصاری کا کہنا بھی یہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مذاکرات کے لیے پاکستان کی شمولیت پیشگی شرط ہے جس کے بغیر مقبوضہ کشمیر پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک تینوں فریق کشمیری، بھارت اور پاکستان مذاکرات کی میز پر نہیں آئیں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بھارت کی دو عملی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ایک جانب وہ عالمی میڈیا میں مذاکرات کا ڈھونگ رچاتا ہے اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں دردناک مظالم کا سلسلہ بھی جاری ہے، اس کے علاوہ پاکستان سے مذاکرات کی بحالی کا عندیہ دینے کے باوجود لائن آف کنٹرول کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی جاری ہے۔ منگل کو بھی بھارتی فورسز نے لیپا سیکٹر کے نوکوٹ اور قیصر کوٹ گاؤں میں فائرنگ اور گولہ باری کرکے شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس میں 2 خواتین شہید اور ایک خاتون سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بھارت خطے میں مکمل قیام امن اور پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کے لیے سنجیدگی اختیار کرے اور اپنے طرز عمل سے بھی مذاکرات کو کامیابی کی جانب گامزن کرے۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارت ایک عرصہ سے جس طرح ہٹ دھرمی اور مذاکرات کی میز پر آنے سے گریزاں تھا، اس سے صاف ہے کہ بھارت اس مسئلے کے حل کے لیے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرے گا لیکن گزشتہ دنوں بھارت نے اس سلسلے میں ایک اور غیر سنجیدہ نمائشی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے لایعنی رویے پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مودی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو کشمیر کے لیے مذاکرات کار مقرر کیا ہے جو آیندہ 8 سے 10 روز میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے۔ تنازعہ کشمیر خطے کا وہ سلگتا ہوا مسئلہ ہے جس نے پاک بھارت تعلقات کو کبھی پنپنے نہیں دیا، نادان پڑوسی ملک 70 سال سے دیدہ و دانستہ اس مسئلہ کو طول دیتا رہا ہے، اور حالیہ ناگزیر صورتحال میں بھارت کی جانب سے تمام فریقین کی شمولیت کے بغیر مذاکرات کار کی نامزدگی ظاہر کرتی ہے کہ بھارت کے سابقہ رویہ کی طرح یہ کوشش بھی مخلصانہ اور حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اس تقرری کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر میں سابق انٹیلی جنس افسر دنیشور شرما کی نامزدگی طاقت کے استعمال کی عکاس ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بات چیت کے عمل میں پاکستان، بھارت اور کشمیری بھی شامل ہوں، حریت کانفرنس کو شامل کیے بغیر کوئی بھی بات بے معنی ہوگی۔ دوسری جانب حریت کانفرنس کے رہنما مولوی عباس انصاری کا کہنا بھی یہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مذاکرات کے لیے پاکستان کی شمولیت پیشگی شرط ہے جس کے بغیر مقبوضہ کشمیر پر مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک تینوں فریق کشمیری، بھارت اور پاکستان مذاکرات کی میز پر نہیں آئیں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بھارت کی دو عملی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ ایک جانب وہ عالمی میڈیا میں مذاکرات کا ڈھونگ رچاتا ہے اور دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں دردناک مظالم کا سلسلہ بھی جاری ہے، اس کے علاوہ پاکستان سے مذاکرات کی بحالی کا عندیہ دینے کے باوجود لائن آف کنٹرول کی کھلم کھلا خلاف ورزی بھی جاری ہے۔ منگل کو بھی بھارتی فورسز نے لیپا سیکٹر کے نوکوٹ اور قیصر کوٹ گاؤں میں فائرنگ اور گولہ باری کرکے شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس میں 2 خواتین شہید اور ایک خاتون سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ بھارت خطے میں مکمل قیام امن اور پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کے لیے سنجیدگی اختیار کرے اور اپنے طرز عمل سے بھی مذاکرات کو کامیابی کی جانب گامزن کرے۔