شوبز میں کام کی مقدار نہیں معیار کوزیادہ اہمیت دیتا ہوں
معروف اداکار، ماڈل اور میزبان احسن خان سے مکالمہ
معروف اداکار، ماڈل اور میزبان احسن خان سے مکالمہ۔ فوٹو : فائل
فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں ایسے فنکاربہت کم ہیں جواپنی فنی صلاحیتوں کوکسی ایک شعبے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اداکاری کے ساتھ ماڈلنگ اورمیزبانی میں بھی ہمیشہ نمایاں کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے ہی فنکار لوگوں کے آئیڈیل بنتے ہیں اوران کا کیا کام ناظرین کی توجہ کا مرکز بھی رہتا ہے۔ ان باصلاحیت فنکاروں میں ایک نام احسن خان کا بھی ہے جنہوں نے اپنے فنی سفرکے دوران فلم اور ٹی وی کے شعبوں میں بہترین کام کرتے ہوئے اپنی ایک منفردپہچان بنائی ہے۔ موجودہ دور میں احسن خان ٹی وی کے مقبول ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی کردارکو اداکرتے ہیں تواس میں حقیقت کے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہنستے ہیں توناظرین ہنسنے لگتے ہیں اورکبھی سنجیدہ ہوجائیں توپھرماحول میں سنجیدگی آجاتی ہے۔
یہ ان کی بہترین اداکاری کی چھوٹی سی مثال ہے۔ احسن خان جہاں اداکاری میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں فیشن کی دنیا میں ان کے نت نئے اندازہمیشہ ہی نوجوانوں کو بھاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اکثرگرینڈ پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں اوران کے لب ولہجے کی شائستگی پروگرام کوچارچاند لگادیتی ہے ۔ پروگرام میں میزبانی کے علاوہ ان کی مقبول گیتوں پر پرفارمنس بھی ان کی فنی صلاحیتوں کا ایک بہترین نمونا ہے۔ ایسے فنکارپاکستانی شوبز انڈسٹری میں بہت کم ہیں جواداکاری کریں توحقیقت کے رنگ دکھائی دیں، رقص کریں تواعضاء کی شاعری ہونے لگے جبکہ میزبانی کریں توایک سماں بندھ جائے۔ گزشتہ دنوں اداکاراحسن خان نے ''نمائندہ ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویودیا جوقارئین کی نذرہے۔
احسن خان کہتے ہیں کہ برطانیہ سے پاکستان آتے ہوئے یہ سوچا نہ تھا کہ فنون لطیفہ سے ایسا گہرا ناتا قائم ہوگا جوپھر نہ ٹوٹ پائے گا۔ شوبز کی دنیا کی ''رنگینیاں'' ایک طرف رہیں لیکن اس جیسا زبردست شعبہ کوئی دوسرا نہیں۔ یہاں پرکام کرتے ہوئے زندگی کے ان گنت پہلوؤں کوانتہائی قریب سے دیکھا اوربہت کچھ سیکھا بھی۔ آج سے دس برس قبل جب میں برطانیہ سے پاکستان آیا تومیں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ شوبز انڈسٹری کے مختلف شعبوں میں کام کروں گا۔ میں توصرف اداکاری کرنا چاہتاتھا اوراس کے لیے مجھے کیرئیر کے آغاز میں ہی ایک طرف فلم انڈسٹری میں کام کرنے کا موقع ملا تودوسری طرف ٹی وی سیریل میں بھی اچھا کردار آفرہوگیا۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ پاکستان شوبز انڈسٹری نے مجھے کچھ اس طرح سے خوش آمدید کہا کہ پھر اس کوچھوڑ کرکسی دوسرے پروفیشن میں جانے کا سوچا ہی نہیں۔
کیرئیر کے آغازمیں جہاں فلم اورٹی وی ڈرامے میں اداکاری جاری تھی وہیں مختلف ٹی وی کمرشلزمیں ماڈلنگ بھی جاری تھی۔اس دوران جہاں آفرزکا سلسلہ جاری تھا وہیں میں نے یہ بات سوچ رکھی تھی کہ تعداد کی بجائے ہمیشہ معیاری کام کوترجیح دونگا۔ انہوں نے کہاکہ فلم انڈسٹری کے معروف ہدایتکاروں اورمعروف فنکاروں کے ساتھ کام کیا اوراپنے سینئرز سے بہت کچھ سیکھا بھی۔ لیکن فلم انڈسٹری میں بننے والی فلموںکا معیارجب نہ رہاتومیں نے ٹی وی انڈسٹری پر اپنی تمام توجہ مرکوزکر لی۔ یہاں پرمجھے کچھ ایسے اچھوتے کردار کرنے کا موقع ملا جنہوں نے مجھے منفرد پہچان دی۔
ویسے توٹی وی انڈسٹری پربہت سے فنکارچھائے ہوئے تھے لیکن جب میں نے ٹی وی ڈراموں میں باقاعدہ اداکاری کی اننگز شروع کی توکرداروں میں حقیقت کے رنگ بھرتے ہوئے ایسے چوکے اور چھکے لگے کہ ناظرین داددیئے بغیرنہ رہ سکے۔ یہی میری کامیابی اورمیرے لئے سب سے بڑاایوارڈ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداکاری کے ساتھ ٹی وی کمرشلزاورمختلف پروگراموں میں مقبول گیتوں پر پرفارمنسز نے مجھے ایک ایسا 'ہیرو' بنادیا ہے جواداکاری، ماڈلنگ، میزبانی اورڈانس کے شعبوں میں خوب مہارت رکھتا ہے اوراب بہت سے نوجوان مجھ جیسا بنناچاہتے ہیں۔
ایک دورتھا جب ہمارے ہاں ایک فنکارٹی وی ڈراموں میں کام کرتے ہوئے اگرکامیاب ہوجاتاتووہ تمام عمراسی شعبے تک محدود رہتاتھا اوراسی طرح فلم سے وابستہ ہیروبھی محدود رہتے تھے، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے اظہارکے لئے اداکاری ہی نہیں بلکہ فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کا فیصلہ کیااوراس کوپرفیکٹ بنانے کے لیے خوب محنت بھی کی۔ جس کانتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ '' یہ توابھی آغازہے ، کامیابی کی بہت سی منزلیں طے کرنا باقی ہیں''۔ میں مستقبل میں پروڈکشن، ڈائریکشن سمیت دیگرشعبوں میں بھی کام کروں گا لیکن ان کی طرف آنے کا فیصلہ درست وقت پرکروں گا۔
ایک سوال کے جواب میں احسن خان نے بتایاکہ کچھ مخالفین میرے بارے میں یہ پراپیگنڈہ بھی کرتے رہتے ہیں کہ میں مفاد پرست ہوں اورٹی وی ڈراموں میں کام کرنے کی وجہ سے فلم انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیارکرچکا ہوں تووہ بالکل غلط ہے۔ میں نے حال ہی میں ہدایتکارشہزادرفیق کی فلم ''عشق خدا '' میں ایک اہم کردار مراکش سے تعلق رکھنے والی اداکارہ وائم دھامنی کے ساتھ ادا کیا ہے جس کی نمائش آئندہ ماہ متوقع ہے جبکہ ہدایتکار مہرین جبار کی فلم ''دل میرا دھڑکن تیری'' میں بھی ایک منفرد کردار کے ساتھ سامنے آؤں گا۔ یہی نہیں فلم ''کم بخت'' اور''سلطنت'' میں بھی مرکزی کردار نبھائے ہیں جن کو فلم بین دیکھیں گے توان کومیری اداکاری کاایک نیاانداز دکھائی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین صرف پراپیگنڈہ کرسکتے ہیں مگرمیں ان کوبیان بازی سے جواب نہیں دیتا بلکہ کام سے جواب دیتا رہوں گا۔ میرا ٹارگٹ لوگوںکو انٹرٹین کرنا ہے اوراس منفرد شعبے کی بدولت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
احسن خان نے مزید بتایا کہ بالی وڈ میں پاکستانی فنکاروںکے کام کرنے کا سلسلہ بڑھ رہاہے لیکن علی ظفرکے علاوہ کوئی بھی دوسرا فنکارنمایاں کام نہیں کرسکا۔ مجھے بھی بالی وڈ میں کام کرنے کی آفرز ہوچکی ہیں مگرمیں اس معاملے میں بہت محتاط رہتاہوں ۔ اسی لئے میں نے تاحال کوئی بھی آفر قبول نہیں کی ہے۔ بالی وڈ میں جس طرح سے پاکستانی فنکاروں کو متعارف کروایا جاتا ہے وہ طریقہ کاردرست نہیں ہے۔ وہاں ہمیشہ مرکزی کرداراپنے فنکاروں کو دیئے جاتے ہیں اورسیکنڈ رول میں پاکستانیوں کو چانس دیا جاتا ہے۔
ویسے بھی میں اس وقت اداکاری، ماڈلنگ اورمیزبانی کے شعبوں میں بہت مصروف ہوں۔ دن رات شوٹنگز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس لئے اپنے ملک میں ملنے والی عزت کوچھوڑ کرپرائے دیس میں دردرپرسلامی دینے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں تو بس ایک ہی بات جانتا ہوں کہ ''ہرچمکتی چیزسونا نہیں ہوتی''۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اورہمارے ہاں فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں بہترین کام ہورہا ہے۔
جولوگ فنکارانہ صلاحیتوں سے مالامال ہیں وہ اپنے ملک میں ہی بہت کام کررہے ہیں اورجولوگ یہاں اپنی صلاحیتوں سے متاثر نہیں کرپاتے وہ بالی وڈ میں شہرت پانے کے سپنے دیکھتے رہتے ہیں۔ ایسوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جوپھرکام پانے کے لئے تمام حدوں کو پار کر دیتے ہیں لیکن ان کی ایسی حرکتوں سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے جو درست نہیں ہے۔ میں اس بات کا مانتا ہوں کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اورہرفنکارکا یہ حق ہے کہ وہ دنیا میں جہاں بھی بہتر کام ہورہاہو وہاں اپنی فنی صلاحیتوں سے لوگوں کومحظوظ کرے ، لیکن ہمارے بہت سے فنکار اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرحدپار توجاتے ہیں مگران کے کارنامے پوری قوم کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔
ایسے ہی فنکار لوگوں کے آئیڈیل بنتے ہیں اوران کا کیا کام ناظرین کی توجہ کا مرکز بھی رہتا ہے۔ ان باصلاحیت فنکاروں میں ایک نام احسن خان کا بھی ہے جنہوں نے اپنے فنی سفرکے دوران فلم اور ٹی وی کے شعبوں میں بہترین کام کرتے ہوئے اپنی ایک منفردپہچان بنائی ہے۔ موجودہ دور میں احسن خان ٹی وی کے مقبول ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی کردارکو اداکرتے ہیں تواس میں حقیقت کے رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ہنستے ہیں توناظرین ہنسنے لگتے ہیں اورکبھی سنجیدہ ہوجائیں توپھرماحول میں سنجیدگی آجاتی ہے۔
یہ ان کی بہترین اداکاری کی چھوٹی سی مثال ہے۔ احسن خان جہاں اداکاری میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں وہیں فیشن کی دنیا میں ان کے نت نئے اندازہمیشہ ہی نوجوانوں کو بھاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ اکثرگرینڈ پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں اوران کے لب ولہجے کی شائستگی پروگرام کوچارچاند لگادیتی ہے ۔ پروگرام میں میزبانی کے علاوہ ان کی مقبول گیتوں پر پرفارمنس بھی ان کی فنی صلاحیتوں کا ایک بہترین نمونا ہے۔ ایسے فنکارپاکستانی شوبز انڈسٹری میں بہت کم ہیں جواداکاری کریں توحقیقت کے رنگ دکھائی دیں، رقص کریں تواعضاء کی شاعری ہونے لگے جبکہ میزبانی کریں توایک سماں بندھ جائے۔ گزشتہ دنوں اداکاراحسن خان نے ''نمائندہ ایکسپریس'' کو خصوصی انٹرویودیا جوقارئین کی نذرہے۔
احسن خان کہتے ہیں کہ برطانیہ سے پاکستان آتے ہوئے یہ سوچا نہ تھا کہ فنون لطیفہ سے ایسا گہرا ناتا قائم ہوگا جوپھر نہ ٹوٹ پائے گا۔ شوبز کی دنیا کی ''رنگینیاں'' ایک طرف رہیں لیکن اس جیسا زبردست شعبہ کوئی دوسرا نہیں۔ یہاں پرکام کرتے ہوئے زندگی کے ان گنت پہلوؤں کوانتہائی قریب سے دیکھا اوربہت کچھ سیکھا بھی۔ آج سے دس برس قبل جب میں برطانیہ سے پاکستان آیا تومیں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ شوبز انڈسٹری کے مختلف شعبوں میں کام کروں گا۔ میں توصرف اداکاری کرنا چاہتاتھا اوراس کے لیے مجھے کیرئیر کے آغاز میں ہی ایک طرف فلم انڈسٹری میں کام کرنے کا موقع ملا تودوسری طرف ٹی وی سیریل میں بھی اچھا کردار آفرہوگیا۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ پاکستان شوبز انڈسٹری نے مجھے کچھ اس طرح سے خوش آمدید کہا کہ پھر اس کوچھوڑ کرکسی دوسرے پروفیشن میں جانے کا سوچا ہی نہیں۔
کیرئیر کے آغازمیں جہاں فلم اورٹی وی ڈرامے میں اداکاری جاری تھی وہیں مختلف ٹی وی کمرشلزمیں ماڈلنگ بھی جاری تھی۔اس دوران جہاں آفرزکا سلسلہ جاری تھا وہیں میں نے یہ بات سوچ رکھی تھی کہ تعداد کی بجائے ہمیشہ معیاری کام کوترجیح دونگا۔ انہوں نے کہاکہ فلم انڈسٹری کے معروف ہدایتکاروں اورمعروف فنکاروں کے ساتھ کام کیا اوراپنے سینئرز سے بہت کچھ سیکھا بھی۔ لیکن فلم انڈسٹری میں بننے والی فلموںکا معیارجب نہ رہاتومیں نے ٹی وی انڈسٹری پر اپنی تمام توجہ مرکوزکر لی۔ یہاں پرمجھے کچھ ایسے اچھوتے کردار کرنے کا موقع ملا جنہوں نے مجھے منفرد پہچان دی۔
ویسے توٹی وی انڈسٹری پربہت سے فنکارچھائے ہوئے تھے لیکن جب میں نے ٹی وی ڈراموں میں باقاعدہ اداکاری کی اننگز شروع کی توکرداروں میں حقیقت کے رنگ بھرتے ہوئے ایسے چوکے اور چھکے لگے کہ ناظرین داددیئے بغیرنہ رہ سکے۔ یہی میری کامیابی اورمیرے لئے سب سے بڑاایوارڈ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اداکاری کے ساتھ ٹی وی کمرشلزاورمختلف پروگراموں میں مقبول گیتوں پر پرفارمنسز نے مجھے ایک ایسا 'ہیرو' بنادیا ہے جواداکاری، ماڈلنگ، میزبانی اورڈانس کے شعبوں میں خوب مہارت رکھتا ہے اوراب بہت سے نوجوان مجھ جیسا بنناچاہتے ہیں۔
ایک دورتھا جب ہمارے ہاں ایک فنکارٹی وی ڈراموں میں کام کرتے ہوئے اگرکامیاب ہوجاتاتووہ تمام عمراسی شعبے تک محدود رہتاتھا اوراسی طرح فلم سے وابستہ ہیروبھی محدود رہتے تھے، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے اظہارکے لئے اداکاری ہی نہیں بلکہ فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کا فیصلہ کیااوراس کوپرفیکٹ بنانے کے لیے خوب محنت بھی کی۔ جس کانتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ '' یہ توابھی آغازہے ، کامیابی کی بہت سی منزلیں طے کرنا باقی ہیں''۔ میں مستقبل میں پروڈکشن، ڈائریکشن سمیت دیگرشعبوں میں بھی کام کروں گا لیکن ان کی طرف آنے کا فیصلہ درست وقت پرکروں گا۔
ایک سوال کے جواب میں احسن خان نے بتایاکہ کچھ مخالفین میرے بارے میں یہ پراپیگنڈہ بھی کرتے رہتے ہیں کہ میں مفاد پرست ہوں اورٹی وی ڈراموں میں کام کرنے کی وجہ سے فلم انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیارکرچکا ہوں تووہ بالکل غلط ہے۔ میں نے حال ہی میں ہدایتکارشہزادرفیق کی فلم ''عشق خدا '' میں ایک اہم کردار مراکش سے تعلق رکھنے والی اداکارہ وائم دھامنی کے ساتھ ادا کیا ہے جس کی نمائش آئندہ ماہ متوقع ہے جبکہ ہدایتکار مہرین جبار کی فلم ''دل میرا دھڑکن تیری'' میں بھی ایک منفرد کردار کے ساتھ سامنے آؤں گا۔ یہی نہیں فلم ''کم بخت'' اور''سلطنت'' میں بھی مرکزی کردار نبھائے ہیں جن کو فلم بین دیکھیں گے توان کومیری اداکاری کاایک نیاانداز دکھائی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین صرف پراپیگنڈہ کرسکتے ہیں مگرمیں ان کوبیان بازی سے جواب نہیں دیتا بلکہ کام سے جواب دیتا رہوں گا۔ میرا ٹارگٹ لوگوںکو انٹرٹین کرنا ہے اوراس منفرد شعبے کی بدولت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
احسن خان نے مزید بتایا کہ بالی وڈ میں پاکستانی فنکاروںکے کام کرنے کا سلسلہ بڑھ رہاہے لیکن علی ظفرکے علاوہ کوئی بھی دوسرا فنکارنمایاں کام نہیں کرسکا۔ مجھے بھی بالی وڈ میں کام کرنے کی آفرز ہوچکی ہیں مگرمیں اس معاملے میں بہت محتاط رہتاہوں ۔ اسی لئے میں نے تاحال کوئی بھی آفر قبول نہیں کی ہے۔ بالی وڈ میں جس طرح سے پاکستانی فنکاروں کو متعارف کروایا جاتا ہے وہ طریقہ کاردرست نہیں ہے۔ وہاں ہمیشہ مرکزی کرداراپنے فنکاروں کو دیئے جاتے ہیں اورسیکنڈ رول میں پاکستانیوں کو چانس دیا جاتا ہے۔
ویسے بھی میں اس وقت اداکاری، ماڈلنگ اورمیزبانی کے شعبوں میں بہت مصروف ہوں۔ دن رات شوٹنگز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اس لئے اپنے ملک میں ملنے والی عزت کوچھوڑ کرپرائے دیس میں دردرپرسلامی دینے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں تو بس ایک ہی بات جانتا ہوں کہ ''ہرچمکتی چیزسونا نہیں ہوتی''۔ پاکستان ایک خوبصورت ملک ہے اورہمارے ہاں فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں بہترین کام ہورہا ہے۔
جولوگ فنکارانہ صلاحیتوں سے مالامال ہیں وہ اپنے ملک میں ہی بہت کام کررہے ہیں اورجولوگ یہاں اپنی صلاحیتوں سے متاثر نہیں کرپاتے وہ بالی وڈ میں شہرت پانے کے سپنے دیکھتے رہتے ہیں۔ ایسوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جوپھرکام پانے کے لئے تمام حدوں کو پار کر دیتے ہیں لیکن ان کی ایسی حرکتوں سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے جو درست نہیں ہے۔ میں اس بات کا مانتا ہوں کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اورہرفنکارکا یہ حق ہے کہ وہ دنیا میں جہاں بھی بہتر کام ہورہاہو وہاں اپنی فنی صلاحیتوں سے لوگوں کومحظوظ کرے ، لیکن ہمارے بہت سے فنکار اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرحدپار توجاتے ہیں مگران کے کارنامے پوری قوم کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔