موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ نہیں چل سکتا عبدالحسیم
عدم دستیابی کوریٹائرمنٹ سمجھاجائے،ملک کیلیے ہمہ وقت حاضرہوں،ہاکی اسٹار
حنیف خان کا بھتیجا ہونے کی سزا ملی، فٹ ہونے کے باوجود منتخب نہیں کیاگیا
LONDON/ISLAMABAD:
قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اولمپئن عبدالحسیم خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ سیٹ اپ کیساتھ نہیں چل سکتے، سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین حسن سردار الزامات لگانے کے بجائے اپنا قبلہ درست کریں اورسچ بولیں، سب سے زیادہ فٹ تھا پھربھی ٹیم سے نکال دیاگیا، حنیف خان کا بھتیجا ہونے کی سزادی جارہی ہے، میری کارکردگی اور فٹنس سب کے سامنے ہے۔
ہمارا المیہ ہے کہ جو کھلاڑی کھیلنے کے قابل ہوجاتا ہے تو اسے ٹیم سے باہر کردیا جاتا ہے، موجودہ حالات میں میری عدم دستیابی کو ریٹائرمنٹ سمجھاجائے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا، انھوں نے کہاکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین و سابق قومی کپتان اولمپئن حسن سردار میرے بڑے اور آئیڈیل کھلاڑی ہیں لیکن مجھے بہت افسوس ہے کہ انھوں نے فٹنس کے حوالے سے مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے، مجھے قومی ٹیم کا سب سے بہترفٹ کھلاڑی قرار دیکر نوجوان کھلاڑیوں کے سامنے مجھے ماڈل کھلاڑی گرداناگیا لیکن عالمی کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستان کی شکست کے بعد ایشین کپ کے لیے مجھے نہ صرف قومی قیادت بلکہ ٹیم سے بھی باہرکردیا گیا۔
اگر میں ان فٹ تھا توقومی کیمپ میں کیوں بلایا گیا تھا، مجھے یہ تو معلوم تھا کہ چچا اولمپئن حنیف خان کو قومی ٹیم سے فارغ کرنے کے بعد مجھے بھی کپتان نہیں بنایا جائیگا لیکن مجھے ایونٹ میں شرکت کے قابل بھی نہیں سمجھا گیا، انھوں نے دعویٰ کیا کہ میں اس وقت پاکستان ٹیم کا سب سے فٹ کھلاڑی ہوں، کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے مزیدکہا کہ ایشیا کپ سمیت ورلڈ لیگ اور پچھلی پرفارمنس سب کے سامنے ہے، ہمیشہ پاکستان کیلیے ہاکی کھیلی، مشکل وقت میں ٹیم کی قیادت کی، ورلڈ لیگ میں جونیئرز کیساتھ میدان میں اترا اورعالمی کپ میں کوالیفائی کرنے کا ٹاسک بھی پورا کیا اسکے باوجود ذاتی پرخاش پرحسن سردار نے ٹیم سے باہرکردیا ، سلیکشن کمیٹی بتائے کہ مجھے ٹیم سے کیوں نکالا، انھوں نے الزام عائد کیا کہ سلیکشن کمیٹی من پسند کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر کررہی ہے، وقاص اکبر کو 7 سال کے بعد ٹیم میں لیا اورایک ٹورنامنٹ کھلا کرٹیم سے باہر کردیا۔
اسی طرح کراچی کے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جارہی ہے، سندھ کے 2ہزارکھلاڑیوں میں سے کسی کوبھی نہ تو تربیتی کیمپ میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی ٹیم کا حصہ بنایا جاتا ہے حالانکہ سندھ میں 15 آسٹروٹرف اور لاتعداد بہترین کھلاڑی موجود ہیں، سابق کپتان نے مزید کہا کہ اگرقومی ٹیم میں بہتری لانے کے لیے غیرملکی کوچ لازمی ہے،دنیا بھر میں فزیوکی اہمیت ہے لیکن قومی ٹیم فزیو کی خدمات سے محروم ہے، انھوں نے کہا کہ پلیئرز ایسوسی ایشن کا قیام ناممکن ہے اسے چلانے کیلیے فنڈ درکار ہوتا ہے جو ہاکی کے کھلاڑیوں کے پاس نہیں، ایک سوال کے جواب میں حسیم خان نے کہا کہ مسئلہ ہاکی فیڈریشن کا نہیں ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کا ہے۔
قومی ہاکی ختم ہورہی ہے، اگلے چار برس تک پاکستان کی عالمی ایونٹس میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، انھوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ ہاکی لیگ میں شرکت پر روڑے نہیں اٹکائے جائیں گے،تنقید پر کھلاڑی دباؤ میں آ جاتے ہیں، میری کسی سے کوئی لڑائی نہیں، بڑوں سے مشورہ کرکے فیصلہ کیا اور اس پر قائم رہوں گا مجھے بتایا جائے کہ قومی ٹیم کی سلیکشن کی اہلیت کا پیمانہ کیا ہے، سلیکشن پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر ایک فون کال پر کی گئی، احتجاج کے طورپر پاکستان ہاکی سے ریٹائرمنٹ لیتاہوں، ڈومیسٹک ہاکی کھیلتا رہوں گا، ملک کے لیے ہر وقت حاضر ہوں۔
قومی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اولمپئن عبدالحسیم خان نے کہا ہے کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ سیٹ اپ کیساتھ نہیں چل سکتے، سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین حسن سردار الزامات لگانے کے بجائے اپنا قبلہ درست کریں اورسچ بولیں، سب سے زیادہ فٹ تھا پھربھی ٹیم سے نکال دیاگیا، حنیف خان کا بھتیجا ہونے کی سزادی جارہی ہے، میری کارکردگی اور فٹنس سب کے سامنے ہے۔
ہمارا المیہ ہے کہ جو کھلاڑی کھیلنے کے قابل ہوجاتا ہے تو اسے ٹیم سے باہر کردیا جاتا ہے، موجودہ حالات میں میری عدم دستیابی کو ریٹائرمنٹ سمجھاجائے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے بدھ کو اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا، انھوں نے کہاکہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین و سابق قومی کپتان اولمپئن حسن سردار میرے بڑے اور آئیڈیل کھلاڑی ہیں لیکن مجھے بہت افسوس ہے کہ انھوں نے فٹنس کے حوالے سے مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے، مجھے قومی ٹیم کا سب سے بہترفٹ کھلاڑی قرار دیکر نوجوان کھلاڑیوں کے سامنے مجھے ماڈل کھلاڑی گرداناگیا لیکن عالمی کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں پاکستان کی شکست کے بعد ایشین کپ کے لیے مجھے نہ صرف قومی قیادت بلکہ ٹیم سے بھی باہرکردیا گیا۔
اگر میں ان فٹ تھا توقومی کیمپ میں کیوں بلایا گیا تھا، مجھے یہ تو معلوم تھا کہ چچا اولمپئن حنیف خان کو قومی ٹیم سے فارغ کرنے کے بعد مجھے بھی کپتان نہیں بنایا جائیگا لیکن مجھے ایونٹ میں شرکت کے قابل بھی نہیں سمجھا گیا، انھوں نے دعویٰ کیا کہ میں اس وقت پاکستان ٹیم کا سب سے فٹ کھلاڑی ہوں، کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے مزیدکہا کہ ایشیا کپ سمیت ورلڈ لیگ اور پچھلی پرفارمنس سب کے سامنے ہے، ہمیشہ پاکستان کیلیے ہاکی کھیلی، مشکل وقت میں ٹیم کی قیادت کی، ورلڈ لیگ میں جونیئرز کیساتھ میدان میں اترا اورعالمی کپ میں کوالیفائی کرنے کا ٹاسک بھی پورا کیا اسکے باوجود ذاتی پرخاش پرحسن سردار نے ٹیم سے باہرکردیا ، سلیکشن کمیٹی بتائے کہ مجھے ٹیم سے کیوں نکالا، انھوں نے الزام عائد کیا کہ سلیکشن کمیٹی من پسند کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر کررہی ہے، وقاص اکبر کو 7 سال کے بعد ٹیم میں لیا اورایک ٹورنامنٹ کھلا کرٹیم سے باہر کردیا۔
اسی طرح کراچی کے کھلاڑیوں کے ساتھ بھی ناانصافی کی جارہی ہے، سندھ کے 2ہزارکھلاڑیوں میں سے کسی کوبھی نہ تو تربیتی کیمپ میں شامل کیا جاتا ہے اور نہ ہی ٹیم کا حصہ بنایا جاتا ہے حالانکہ سندھ میں 15 آسٹروٹرف اور لاتعداد بہترین کھلاڑی موجود ہیں، سابق کپتان نے مزید کہا کہ اگرقومی ٹیم میں بہتری لانے کے لیے غیرملکی کوچ لازمی ہے،دنیا بھر میں فزیوکی اہمیت ہے لیکن قومی ٹیم فزیو کی خدمات سے محروم ہے، انھوں نے کہا کہ پلیئرز ایسوسی ایشن کا قیام ناممکن ہے اسے چلانے کیلیے فنڈ درکار ہوتا ہے جو ہاکی کے کھلاڑیوں کے پاس نہیں، ایک سوال کے جواب میں حسیم خان نے کہا کہ مسئلہ ہاکی فیڈریشن کا نہیں ٹیم مینجمنٹ اور سلیکشن کمیٹی کا ہے۔
قومی ہاکی ختم ہورہی ہے، اگلے چار برس تک پاکستان کی عالمی ایونٹس میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، انھوں نے مزید کہا کہ امید ہے کہ ہاکی لیگ میں شرکت پر روڑے نہیں اٹکائے جائیں گے،تنقید پر کھلاڑی دباؤ میں آ جاتے ہیں، میری کسی سے کوئی لڑائی نہیں، بڑوں سے مشورہ کرکے فیصلہ کیا اور اس پر قائم رہوں گا مجھے بتایا جائے کہ قومی ٹیم کی سلیکشن کی اہلیت کا پیمانہ کیا ہے، سلیکشن پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر ایک فون کال پر کی گئی، احتجاج کے طورپر پاکستان ہاکی سے ریٹائرمنٹ لیتاہوں، ڈومیسٹک ہاکی کھیلتا رہوں گا، ملک کے لیے ہر وقت حاضر ہوں۔