ہاکی فیڈریشن کو آزاد بورڈ میں تبدیل کرنے کی ہدایت
بلوآسٹرو ٹرف کی تنصیب،اکیڈمیز قائم کی جائیں، سینیٹ قائمہ کمیٹی
پلیئرز کو ملازمتیں ملنا بند ہوگئی ہیں کیسے عمدہ پرفارم کر سکتے ہیں،شہباز۔ فوٹو: فائل
WASHINGTON:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک آزاد بورڈ میں تبدیل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
گذشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ، ڈائریکٹرز پی ایس بی سید حبیب شاہ، اعظم ڈار اور پی ایچ ایف کے سیکریٹری شہباز سینئر نے شرکت کی۔
شہباز سینئر نے کمیٹی کو بتایا کہ بطور کھلاڑی 27 سال قبل ایشین گیمز جبکہ 23 سال قبل آسٹریلیا میں ورلڈ ہاکی چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کی، اس وقت تمام کھلاڑیوں کو مختلف اداروں میں ملازمتیں ملی ہوئی تھیں۔ 25 سال کے بعد بھی ہم ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے، نیشنل کلرز کے حامل کھلاڑی بینک اور پی آئی اے میں صرف 25 ہزار تنخواہ پر ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔
ہاکی پلیئرز کو نوکریاں ملنا بند ہوگئی ہیں، ان حالات میں وہ کیسے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ فوجی فاؤنڈیشن کی ہاکی ٹیم بنائی ہے اور اب پی او ایف واہ کی ٹیم بنانے جا رہے ہیں۔ انڈر 18ہاکی ٹیم نے آسٹریلیا میں گولڈ میڈل حاصل کیا، یہ ٹیم زرعی ترقیاتی بینک کو دی ہے اور 2020 کے اولمپک گیمز کیلیے یہی ٹیم تیار کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارے کھلاڑیوں کا فزیکل فٹنس کا معیار بہتر نہیں ہے، دو تین سال مسلسل تربیت کے بعد ہی اچھی ٹیم سامنے آسکتی ہے۔ ملک میں 4 ہاکی اکیڈمیز کی ضرورت ہے جہاں کھلاڑیوں کیلیے رہائش کی سہولت ہو اور کھلاڑیوں کو پورا سال تربیت فراہم کی جائے، اس حوالے سے حکومت کی مدد درکار ہے۔
شہباز سینئر نے بتایا کہ اپریل 2018 میں ہاکی لیگ کروانے جا رہے ہیں جس کیلیے 25کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے جائیں گے اور یہ پیسہ ہم خود اکٹھا کریں گے، ہاکی لیگ کیلیے حکومت سے کوئی فنڈز نہیں مانگیں گے۔ 35 غیر ملکی ہاکی کے کھلاڑی اس ہاکی لیگ میں شرکت کریں گے۔ ہاکی لیگ کے میچز لاہور، شیخوپورہ، کراچی اور گوجرہ میں منعقد ہوں گے جبکہ ہاکی لیگ کے انعقاد کیلیے پنجاب حکومت سے این او سی کی اجازت کا انتظار ہے۔ کوئٹہ آسٹروٹرف کیلیے دو سال سے کوششیں کر رہے ہیں لیکن یہ کوششیں ابھی تک بار آور نہیں ہوسکیں۔
وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو آزاد بورڈ بنانے، اسلام آباد میں 2 ہاکی گراؤنڈ کے قیام اور پلیئرز کو ملازمتیں فراہم کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم سے بات کروں گا۔ میڈلز جیتنے والی گیمز کی طرف توجہ دینا ہوگی، فاٹا کے نوجوان جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہیں اس لیے فاٹا میں اکیڈمی کا قیام ضروری ہے۔ انٹر یونیورسٹی گیمز سے نیا ٹیلنٹ سامنے آنے کے قوی امکانات ہیں۔
کمیٹی کے چیئرمین سعود مجید نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک آزاد بورڈ میں تبدیل کیا جائے، پی ایچ ایف کو دفتر کیلیے اسلام آباد میں جگہ دیدی ہے، اسلام آباد میں ہاکی کا نیشنل ٹریننگ سینٹر قائم ہونا چاہیے اور دو بلوآسٹروٹرف کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے، ان کو انٹر نیشنل معیار کے کوچ ہم فراہم کریں گے، ہاکی کے کھلاڑیوں کو ملازمتیں ملنی چاہئیں۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ تمام صوبوں کے وزرا سے مشاورت کرکے تمام صوبوں اور اسلام آباد میں ہاکی اکیڈمیز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انڈر18کی طرح انڈر12 اور انڈر 15 ہاکی ٹیمیں بھی تیار کی جائیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک آزاد بورڈ میں تبدیل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
گذشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ، ڈائریکٹرز پی ایس بی سید حبیب شاہ، اعظم ڈار اور پی ایچ ایف کے سیکریٹری شہباز سینئر نے شرکت کی۔
شہباز سینئر نے کمیٹی کو بتایا کہ بطور کھلاڑی 27 سال قبل ایشین گیمز جبکہ 23 سال قبل آسٹریلیا میں ورلڈ ہاکی چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کی، اس وقت تمام کھلاڑیوں کو مختلف اداروں میں ملازمتیں ملی ہوئی تھیں۔ 25 سال کے بعد بھی ہم ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے، نیشنل کلرز کے حامل کھلاڑی بینک اور پی آئی اے میں صرف 25 ہزار تنخواہ پر ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔
ہاکی پلیئرز کو نوکریاں ملنا بند ہوگئی ہیں، ان حالات میں وہ کیسے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ فوجی فاؤنڈیشن کی ہاکی ٹیم بنائی ہے اور اب پی او ایف واہ کی ٹیم بنانے جا رہے ہیں۔ انڈر 18ہاکی ٹیم نے آسٹریلیا میں گولڈ میڈل حاصل کیا، یہ ٹیم زرعی ترقیاتی بینک کو دی ہے اور 2020 کے اولمپک گیمز کیلیے یہی ٹیم تیار کر رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہمارے کھلاڑیوں کا فزیکل فٹنس کا معیار بہتر نہیں ہے، دو تین سال مسلسل تربیت کے بعد ہی اچھی ٹیم سامنے آسکتی ہے۔ ملک میں 4 ہاکی اکیڈمیز کی ضرورت ہے جہاں کھلاڑیوں کیلیے رہائش کی سہولت ہو اور کھلاڑیوں کو پورا سال تربیت فراہم کی جائے، اس حوالے سے حکومت کی مدد درکار ہے۔
شہباز سینئر نے بتایا کہ اپریل 2018 میں ہاکی لیگ کروانے جا رہے ہیں جس کیلیے 25کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے جائیں گے اور یہ پیسہ ہم خود اکٹھا کریں گے، ہاکی لیگ کیلیے حکومت سے کوئی فنڈز نہیں مانگیں گے۔ 35 غیر ملکی ہاکی کے کھلاڑی اس ہاکی لیگ میں شرکت کریں گے۔ ہاکی لیگ کے میچز لاہور، شیخوپورہ، کراچی اور گوجرہ میں منعقد ہوں گے جبکہ ہاکی لیگ کے انعقاد کیلیے پنجاب حکومت سے این او سی کی اجازت کا انتظار ہے۔ کوئٹہ آسٹروٹرف کیلیے دو سال سے کوششیں کر رہے ہیں لیکن یہ کوششیں ابھی تک بار آور نہیں ہوسکیں۔
وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیرزادہ نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو آزاد بورڈ بنانے، اسلام آباد میں 2 ہاکی گراؤنڈ کے قیام اور پلیئرز کو ملازمتیں فراہم کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم سے بات کروں گا۔ میڈلز جیتنے والی گیمز کی طرف توجہ دینا ہوگی، فاٹا کے نوجوان جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط ہیں اس لیے فاٹا میں اکیڈمی کا قیام ضروری ہے۔ انٹر یونیورسٹی گیمز سے نیا ٹیلنٹ سامنے آنے کے قوی امکانات ہیں۔
کمیٹی کے چیئرمین سعود مجید نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک آزاد بورڈ میں تبدیل کیا جائے، پی ایچ ایف کو دفتر کیلیے اسلام آباد میں جگہ دیدی ہے، اسلام آباد میں ہاکی کا نیشنل ٹریننگ سینٹر قائم ہونا چاہیے اور دو بلوآسٹروٹرف کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے، ان کو انٹر نیشنل معیار کے کوچ ہم فراہم کریں گے، ہاکی کے کھلاڑیوں کو ملازمتیں ملنی چاہئیں۔ وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ تمام صوبوں کے وزرا سے مشاورت کرکے تمام صوبوں اور اسلام آباد میں ہاکی اکیڈمیز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انڈر18کی طرح انڈر12 اور انڈر 15 ہاکی ٹیمیں بھی تیار کی جائیں۔