نگراں حکومت کا قیام اسٹیک ہولڈرزکوشامل کیاجائے سنی تحریک

نگراں سیٹ اپ کے حوالے سے ابھی تک حکومت یا اپوزیشن نے ہم سے رابطہ نہیں کیا.

بلدیاتی نظام کی واپسی عوامی دبائوکا شاخسانہ ہے،شکیل قادری کی انورسومروسے ملاقات. فوٹو: فائل

پاکستان سنی تحریک اور قومی عوامی تحریک کے رہنمائوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کراچی میں دہشتگردوں کے نرغے سے اردو بولنے والوں اور اندرون سندھ ڈاکوئوں کے نرغے سے سندھی بولنے والوں کو آزاد کرایا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کا بلدیاتی نظام کی واپسی کا فیصلہ عوامی دبائو کا ساخشانہ ہے اگر ایسا نہ کیا جاتا تو انتخابات میں اندرون سندھ کے عوام پیپلزپارٹی والوں کا انڈوں سے استقبال کرتے ، پی ایس ٹی نے ہمیشہ اچھے حکومتی اقدامات کی حمایت کی ہے لیکن عوام مخالف فیصلوں کے خلاف احتجاج کیا جائے گا، ان خیالات کا اظہار پی ایس ٹی اور قومی عوامی تحریک کے رہنمائوں نے ہفتہ کو ''مرکز اہلسنت'' پر ملاقات اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، قبل ازیں قومی عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری سردار انور سومرو کی قیادت میں ایک چار رکنی وفد جس میں مرکزی نائب صدر سید عالم شاہ، نور احمد کاتیار اور عبدالحئی بلوچ شامل تھے نے پی ایس ٹی کے مرکزی رہنما محمد شکیل قادری سے ملاقات کی۔




اس موقع پر رکن رابطہ کمیٹی فہیم الدین شیخ اور دیگر بھی موجود تھے، ملاقات میں ملکی بالخصوص صوبے کی سیاسی صورتحال، آئندہ انتخابات اور دونوں جماعتوں کی جانب سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے قومی عوامی تحریک کے رہنما سردار انور سومرو نے کہا کہ عوامی دبائو اور پریشر کے باعث پیپلزپارٹی نے پیپلزلوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 کو واپس لیا ہے ، انھوں نے کہا کہ متحدہ اور پیپلزپارٹی کی نورا کشتی نے سندھ کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔
Load Next Story