قبائلی جرگے کا طالبان قیادت سے ابتدائی رابطے کا فیصلہ
گورنرشوکت اللہ،فضل الرحمن صدرکوپیش رفت سے آگاہ کریں گے،اجلاس چندروزمیں متوقع
گورنرشوکت اللہ،فضل الرحمن صدرکوپیش رفت سے آگاہ کریں گے،اجلاس چندروزمیں متوقع فوٹو: فائل
طالبان سے مذاکرات کیلیے گرینڈ قبائلی جرگے نے گورنرخیبر پختونخوا اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی صدر مملکت سے ملاقات سے قبل طالبان کے رہنمائوں سے ابتدائی رابطے کافیصلہ کیا ہے۔
طالبان سے ابتدائی بات چیت کی روشنی میں گورنر انجینئر شوکت اللہ اور مولانا فضل الرحمٰن صدر سے ملاقات کرکے انھیں اعتماد میں لیں گے، اس دوران آرمی چیف کو اعتماد میں لینے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا۔ قبائلی جرگے کا اجلاس چندروز میں پشاور یا ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوگا جس میں مذاکراتی عمل کا جائزہ لیا جائے گا اور ان طالبان رہنمائوں سے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا جن کے حکومت کے ساتھ مختلف معاہدے اور اچھے روابط ہیں، ان سے ملنے والے فیڈ بیک کی روشنی میں گورنر شوکت اللہ اور مولانا فضل الرحمٰن صدر زرداری کے ساتھ ملاقات کریں گے اور انھیں تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
جرگے کے ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ طالبان سے مذاکرات قبائلی علاقوں میں ہوںگے جو جگہ طالبان کو موزوں لگے وہیں مذاکرات کیے جائیں گے، جرگے کے ارکان کو مذاکرات کیلیے کسی بھی جگہ جانے میں کوئی عار نہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس بات کا فیصلہ بھی جرگہ کرے گا کہ طالبان کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیلیے جرگے کے تمام ارکان جائیں یا نمائندہ وفد ابتدائی مذاکرات کرے۔
طالبان سے ابتدائی بات چیت کی روشنی میں گورنر انجینئر شوکت اللہ اور مولانا فضل الرحمٰن صدر سے ملاقات کرکے انھیں اعتماد میں لیں گے، اس دوران آرمی چیف کو اعتماد میں لینے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا۔ قبائلی جرگے کا اجلاس چندروز میں پشاور یا ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوگا جس میں مذاکراتی عمل کا جائزہ لیا جائے گا اور ان طالبان رہنمائوں سے مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا جن کے حکومت کے ساتھ مختلف معاہدے اور اچھے روابط ہیں، ان سے ملنے والے فیڈ بیک کی روشنی میں گورنر شوکت اللہ اور مولانا فضل الرحمٰن صدر زرداری کے ساتھ ملاقات کریں گے اور انھیں تمام صورتحال سے آگاہ کریں گے۔
جرگے کے ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ طالبان سے مذاکرات قبائلی علاقوں میں ہوںگے جو جگہ طالبان کو موزوں لگے وہیں مذاکرات کیے جائیں گے، جرگے کے ارکان کو مذاکرات کیلیے کسی بھی جگہ جانے میں کوئی عار نہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس بات کا فیصلہ بھی جرگہ کرے گا کہ طالبان کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کیلیے جرگے کے تمام ارکان جائیں یا نمائندہ وفد ابتدائی مذاکرات کرے۔