منظم اور ذہنی دباؤ سے آزاد زندگی
ہمیں چاہیے کہ اپنے اہم کاموں کو ان کے آخری وقت سے پہلے کرلیں تاکہ ایک منظم اور ذہنی دباؤ کے بغیر زندگی گزارسکیں
ہمیں چاہیے کہ اپنے اہم کاموں کو ان کے آخری وقت سے پہلے کرلیں تاکہ ایک منظم اور ذہنی دباؤ کے بغیر زندگی گزارسکیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
میں نے ایک بار لاہور کے ایک مشہور ایڈکشن اسپیشلسٹ، ڈاکٹرصداقت علی کا ایک لیکچر سنا جس میں انہوں نے بتایا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں: اوّل منظم اور دوم غیر منظم۔ غیر منظم شخص یہ سمجھتا ہے کہ منظم شخص (جو اپنی زندگی منظم طریقے سے گزارتا ہے) اپنی زندگی کو مزے سے نہیں گزارتا، جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں۔ تب یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی، شاید اس لئے کیونکہ جب تک ہمارا دماغ مشاہداتی طور پر کسی کام کو نہ دیکھ لے، اُس وقت تک یقین نہیں ہوتا، یا زندگی کے تجربات بھی ہمیں سمجھا دیتے ہیں۔
کئی دن بعد مجھے میرے ایک دوست نے دعوت پر اپنے گھر بلایا اور اس نے اپنے ایک دوست کا واقعہ سنایا: چاند رات کو میرا دوست میرے پاس آیا۔ اسے کچھ پیسے چاہیے تھے۔ میں بڑا حیران ہوا کیونکہ وہ ایک کاروباری شخص تھا۔ میں نے اُس سے اِس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ایک پارٹی نے مجھے 15 دن پہلے ایک چیک دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ ابھی بہت دن ہیں اس لئے وہ چیک کیش نہیں کروایا۔ پھرکئی دن بعد اچانک مجھے یاد آیا کہ آج تو بینک کی آخری تاریخ ہے۔ میں نے جلدی سے موٹرسائیکل اسٹارٹ کی لیکن جلد بازی کی وجہ سے راستے میں میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا؛ اور جب میں بڑی مشکل سے بینک پہنچا تو وہ بند ہوچکا تھا۔ میرے پاس جو پیسے تھے وہ دوسرے کاموں میں خرچ ہوگئے۔
اِس روز مجھے سمجھ میں آیا کہ منظم لوگ کس طرح اپنی زندگی انجوائے کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے اہم کاموں کو ان کے آخری لمحات سے پہلے کرتے ہیں۔ ہمارے لئے کچھ کام اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن ان کو کرنا ابھی ضروری نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ کے پاس بجلی کا بِل آگیا ہے اور اس کی آخری تاریخ 15 دن بعد ہے۔ ایک طالب علم کو ایک پروجیکٹ ملا ہے لیکن اسے دو ہفتے بعد جمع کروانا ہے۔ ایک افسر کو سمری تیار کرنی ہے لیکن اس کےلیے اسے 10 دن کا وقت ملا ہے۔ ایک شخص اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتا کہ بعد میں دیکھ لیں گے۔ ماں باپ چھوٹی عمر سے بچوں کی تربیت نہیں کرتے کہ ابھی چھوٹے ہیں۔ عورتیں اولاد ہونے کے بعد اپنی فٹنس کا خیال نہیں رکھتیں۔ ایسے بہت سے کام جو ہمارے لئے اہم ہوتے ہیں لیکن ہم انہیں بروقت کرنا یا ان پر فوری توجہ دینا ضروری نہیں سمجھتے۔
جب ہم یہ کام (جو ہمارے لئے اہم ہیں) اُس وقت کرتے ہیں جب انہیں انجام دینے کا آخری وقت آن پہنچتا ہے تو اُس وقت ہمیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ بل کی لیٹ فیس کے ساتھ ادائیگی، لمبی قطار، پروجیکٹ میں سے کچھ رہ جانا، باس سے ڈانٹ، صحت خراب ہونا، دواؤں پر اضافی رقم کا خرچ ہوجانا، بچوں کا ماں باپ کی عزت نہ کرنا، مرد کا اپنی بیوی میں دلچسپی نہ لینا وغیرہ۔ اسی کے ساتھ ہم اسٹریس یعنی ذہنی دباؤ کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں اور اس صورتحال میں ہم اپنے کام کو صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتے جیسا کہ ہم عام حالات میں دیتے ہیں یا دے سکتے ہیں۔
اس لئے ہمیں چاہیے کہ اپنے اہم کاموں کو ان کے ضروری ہونے اور آخری وقت سے پہلے کرلیں تاکہ ایک منظم اور ذہنی دباؤ کے بغیر زندگی گزاریں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کئی دن بعد مجھے میرے ایک دوست نے دعوت پر اپنے گھر بلایا اور اس نے اپنے ایک دوست کا واقعہ سنایا: چاند رات کو میرا دوست میرے پاس آیا۔ اسے کچھ پیسے چاہیے تھے۔ میں بڑا حیران ہوا کیونکہ وہ ایک کاروباری شخص تھا۔ میں نے اُس سے اِس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ایک پارٹی نے مجھے 15 دن پہلے ایک چیک دیا تھا۔ میں نے سوچا کہ ابھی بہت دن ہیں اس لئے وہ چیک کیش نہیں کروایا۔ پھرکئی دن بعد اچانک مجھے یاد آیا کہ آج تو بینک کی آخری تاریخ ہے۔ میں نے جلدی سے موٹرسائیکل اسٹارٹ کی لیکن جلد بازی کی وجہ سے راستے میں میرا ایکسیڈنٹ ہوگیا؛ اور جب میں بڑی مشکل سے بینک پہنچا تو وہ بند ہوچکا تھا۔ میرے پاس جو پیسے تھے وہ دوسرے کاموں میں خرچ ہوگئے۔
اِس روز مجھے سمجھ میں آیا کہ منظم لوگ کس طرح اپنی زندگی انجوائے کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے اہم کاموں کو ان کے آخری لمحات سے پہلے کرتے ہیں۔ ہمارے لئے کچھ کام اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن ان کو کرنا ابھی ضروری نہیں ہوتا۔ مثلاً آپ کے پاس بجلی کا بِل آگیا ہے اور اس کی آخری تاریخ 15 دن بعد ہے۔ ایک طالب علم کو ایک پروجیکٹ ملا ہے لیکن اسے دو ہفتے بعد جمع کروانا ہے۔ ایک افسر کو سمری تیار کرنی ہے لیکن اس کےلیے اسے 10 دن کا وقت ملا ہے۔ ایک شخص اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتا کہ بعد میں دیکھ لیں گے۔ ماں باپ چھوٹی عمر سے بچوں کی تربیت نہیں کرتے کہ ابھی چھوٹے ہیں۔ عورتیں اولاد ہونے کے بعد اپنی فٹنس کا خیال نہیں رکھتیں۔ ایسے بہت سے کام جو ہمارے لئے اہم ہوتے ہیں لیکن ہم انہیں بروقت کرنا یا ان پر فوری توجہ دینا ضروری نہیں سمجھتے۔
جب ہم یہ کام (جو ہمارے لئے اہم ہیں) اُس وقت کرتے ہیں جب انہیں انجام دینے کا آخری وقت آن پہنچتا ہے تو اُس وقت ہمیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ بل کی لیٹ فیس کے ساتھ ادائیگی، لمبی قطار، پروجیکٹ میں سے کچھ رہ جانا، باس سے ڈانٹ، صحت خراب ہونا، دواؤں پر اضافی رقم کا خرچ ہوجانا، بچوں کا ماں باپ کی عزت نہ کرنا، مرد کا اپنی بیوی میں دلچسپی نہ لینا وغیرہ۔ اسی کے ساتھ ہم اسٹریس یعنی ذہنی دباؤ کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں اور اس صورتحال میں ہم اپنے کام کو صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتے جیسا کہ ہم عام حالات میں دیتے ہیں یا دے سکتے ہیں۔
اس لئے ہمیں چاہیے کہ اپنے اہم کاموں کو ان کے ضروری ہونے اور آخری وقت سے پہلے کرلیں تاکہ ایک منظم اور ذہنی دباؤ کے بغیر زندگی گزاریں۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔