بلوچستان میں بم دھماکے
بلوچستان میں دشمنوں کے ایجنٹوں کے مقاصد اور ان کی تخریب کاری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے منسلک ہے
بلوچستان میں دشمنوں کے ایجنٹوں کے مقاصد اور ان کی تخریب کاری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے منسلک ہے فوٹو : فائل
بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے میں ریموٹ کنڑول بم دھماکے میں اے این پی کے رہنما بھائی سمیت جاں بحق ہوگئے۔ جمعہ کو لیویز کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء عبدالرزاق اچکزئی اور ان کا بھائی عبدالخا لق اچکزئی جلسے میں شرکت کے لیے پشین جا رہے تھے کہ شاہرگ کے علاقے میں ان کی گاڑی کے قریب ریموٹ کنڑول بم کا دھماکا ہوا جس میں دنوں جاں بحق ہو گئے، گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے جائے وقوع کا دورہ کیا، صوبائی وزیر داخلہ نے سیاسی رہنماؤں پر بزدلانہ حملے کی شد ید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ملوث عناصر کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچا یا جائے گا، دہشتگردوں کے بہیمانہ عزائم اور بلوچستان کی مضطرب صورتحال ایک بڑے کریک ڈاؤن کا تقاضہ کرتی ہے، اس درد انگیز سانحہ میں ملوث دہشتگردوں کی حکمت عملی کو غیر موثر بنانے کی مزید ضرورت ہے جنہیں ان کے نیٹ ورک تو متوقع ہدف کی آمد اور ان پر حملہ کی ٹائمنگ کا موقع دیتے ہیں مگر دہشتگردی مخالف صوبائی میکنزم اور مختلف علاقوں میں موجود سیاسی شخصیات کے اعلانیہ سفر کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات مزید فالٹ فری بنائے جانے چاہئیں، ارباب اختیار اور سلامتی پر مامور اداروں اور لیویز کی کارکردگی بلوچستان میں پیدا شدہ شورش زدہ صورتحال میں مایوس کن نہیں تاہم بلوچستان میں دہشتگروں کی نقل وحرکت کے لیے دستیاب زمینی مواقع بہر حال ان پر تنگ ہونے چاہئیں، انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ہمہ وقتی کارروائی اور دہشتگردوں کو واردات سے پہلے دبوچنے کی اہلیت اور مستعدی کو نتیجہ خیز بنایا جائے تو دہشتگرد بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
بلوچستان میں دشمنوں کے ایجنٹوں کے مقاصد اور ان کی اسٹرٹیجی تخریب کا ری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے منسلک ہے، مذکورہ واقعہ کے علاوہ بھی نصیرآباد کی تحصیل چھتر میں باروی سرنگ کے2 دھماکوں میں 2 افراد جاں بحق اور1 زخمی ہو گیا، ادھر بولان میں ٹریک پر بم دھماکے کے نتیجے میں اکبر بگٹی ایکسپریس میں سوار 6 افراد زخمی ہو گئے جب کہ اور1 بوگی کو نقصان پہنچا، مچھ سے نمائندہ کے مطابق ٹرین جیسے ہی بولان کے علاقے ہرک کے مقام پر پہنچی تو ٹریک کے ساتھ نصب ریمورٹ کنٹرول بم کا زور دار دھماکا ہوا تھا۔
اسے دہشتگرد کارروائیوں کا تسلسل سمجھنا چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سیاست دانوں کے کانوائے اور ان کی نقل و حرکت جانی نقصان کا باعث نہ بنے۔ دہشتگردانہ کارروائیوں اور بارودی سرنگ حملوں کی ٹائمنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں سے ہر گز اوجھل نہیں رہنی چاہیے۔
صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی اور وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے جائے وقوع کا دورہ کیا، صوبائی وزیر داخلہ نے سیاسی رہنماؤں پر بزدلانہ حملے کی شد ید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ملوث عناصر کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچا یا جائے گا، دہشتگردوں کے بہیمانہ عزائم اور بلوچستان کی مضطرب صورتحال ایک بڑے کریک ڈاؤن کا تقاضہ کرتی ہے، اس درد انگیز سانحہ میں ملوث دہشتگردوں کی حکمت عملی کو غیر موثر بنانے کی مزید ضرورت ہے جنہیں ان کے نیٹ ورک تو متوقع ہدف کی آمد اور ان پر حملہ کی ٹائمنگ کا موقع دیتے ہیں مگر دہشتگردی مخالف صوبائی میکنزم اور مختلف علاقوں میں موجود سیاسی شخصیات کے اعلانیہ سفر کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات مزید فالٹ فری بنائے جانے چاہئیں، ارباب اختیار اور سلامتی پر مامور اداروں اور لیویز کی کارکردگی بلوچستان میں پیدا شدہ شورش زدہ صورتحال میں مایوس کن نہیں تاہم بلوچستان میں دہشتگروں کی نقل وحرکت کے لیے دستیاب زمینی مواقع بہر حال ان پر تنگ ہونے چاہئیں، انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ہمہ وقتی کارروائی اور دہشتگردوں کو واردات سے پہلے دبوچنے کی اہلیت اور مستعدی کو نتیجہ خیز بنایا جائے تو دہشتگرد بچ کر کہیں نہیں جا سکتے۔
بلوچستان میں دشمنوں کے ایجنٹوں کے مقاصد اور ان کی اسٹرٹیجی تخریب کا ری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے منسلک ہے، مذکورہ واقعہ کے علاوہ بھی نصیرآباد کی تحصیل چھتر میں باروی سرنگ کے2 دھماکوں میں 2 افراد جاں بحق اور1 زخمی ہو گیا، ادھر بولان میں ٹریک پر بم دھماکے کے نتیجے میں اکبر بگٹی ایکسپریس میں سوار 6 افراد زخمی ہو گئے جب کہ اور1 بوگی کو نقصان پہنچا، مچھ سے نمائندہ کے مطابق ٹرین جیسے ہی بولان کے علاقے ہرک کے مقام پر پہنچی تو ٹریک کے ساتھ نصب ریمورٹ کنٹرول بم کا زور دار دھماکا ہوا تھا۔
اسے دہشتگرد کارروائیوں کا تسلسل سمجھنا چاہیے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ سیاست دانوں کے کانوائے اور ان کی نقل و حرکت جانی نقصان کا باعث نہ بنے۔ دہشتگردانہ کارروائیوں اور بارودی سرنگ حملوں کی ٹائمنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھوں سے ہر گز اوجھل نہیں رہنی چاہیے۔