صدر زرداری کا جرات مندانہ اعلان

اب کوئی ہم سے جمہوری نظام نہیں چھین سکتا، انتخابات وقت پر ہوں گے، میں غلام اسحاق خان نہیں بنوں گا، صدر زرداری۔

رکاوٹوں کے باوجود حکومت نے بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے بہت کام کیاہے، صدر زرداری۔ فوٹو: فائل

ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر جہاں ایک طرف امریکی انتظامیہ کے بعض اراکین کی جانب سے دھمکیوں کی زبان استعمال کی جا رہی ہے اور پاکستان کو امکانی پابندیوں سے ڈرایا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ہی اندرون ملک ان علاقوں میں تشدد اور خونریزی کو ہوا دینے کی خاطر سازشوں کے جال بھی بنے جا رہے ہیں۔ مگر ان تمام رکاوٹوں کے باوصف صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے لاہور میں برملا اعلان کیا ہے کہ کوئی طاقت ایران پاکستان گیس پائپ لائن بنانے سے نہیں روک سکتی۔

واضح رہے صدر زرداری گزشتہ تھوڑے عرصے میں دوسری مرتبہ لاہور تشریف لائے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کے حوالے سے صلاح مشورہ کر رہے ہیں۔ گیس پائپ لائن کے حوالے سے صدر کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ''پاکستان ایک آزاد ملک ہے، توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کسی بھی ملک سے معاہدے کر سکتے ہیں۔'' لہٰذا اس حوالے سے یہ سوچ کہ عالمی سامراج کی ایسی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھی سر تسلیم خم کر دیا جائے جس پر ہمارا سربسر نقصان ہو کسی لحاظ سے بھی حق بجانب نہیں۔ ملک میں جمہوریت کے بارے میں شکوک و شبہات کے حوالے سے صدر کا کہنا تھا کہ ''اب کوئی ہم سے جمہوری نظام نہیں چھین سکتا، انتخابات وقت پر ہوں گے، میں غلام اسحاق خان نہیں بنوں گا۔''

لاہور میں اخبارات کے ایڈیٹرز اور ٹی وی اینکرز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ انھیں گیس پائپ لائن منصوبے کا خیال 1994ء میں آیا تھا اور اب وہ گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا سے بھی بات کریں گے۔ صدر نے کہا کہ ''پاک ایران گیس پائپ لائن اور گوادر دونوں منصوبوں پر ملکی مفاد کے لیے اتفاق رائے ضروری ہے۔ اتفاق رائے ہو تو کوئی بیرونی طاقت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ اس پائپ لائن کی اونر شپ پاکستانی عوام لیں گے۔'' ملک کی سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ''نان اسٹیٹ ایکٹرز کچھ سیاسی جماعتوں کی مجبوریاں ہیں۔ سیاسی طاقتیں مضبوط ہونے سے نان اسٹیٹ ایکٹرز خود بخود کمزور ہو جائیں گے۔'' انتخابات کے بارے میں بے یقینی کے حوالے سے صدر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ''انتخابات وقت پرہوں گے اور جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے نہیں دیں گے۔''


انتخابات کے بارے میں مختلف خدشات کو رد کرتے ہوئے صدر نے یقین دہانی کرائی کہ ''انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی۔ جو بھی حکومت بنی اس سے فوری حلف لیں گے۔'' ملک میں پارٹی کی انتخابی مہم کے حوالے سے صدر نے بتایا کہ ''سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی نگرانی کریں گے، وہ پارٹی کے جلسوں سے خطاب بھی کریں گے۔'' بلوچستان کے بارے میں صدر نے کہا کہ ''حقوق بلوچستان پیکیج سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کر سکتے۔ عام انتخابات میں بلوچستان کے تمام گروپ حصہ لیں گے۔'' صدر نے کہا کہ وہ ہر ماہ پنجاب کے صحافیوں سے ملاقات کریں گے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنماؤں چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی نے صدر زرداری سے ملاقات کی، اس موقع پر ملکی سیاسی صورتحال، نگران سیٹ اپ اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ صدر نے چوہدری برادران سے کہا کہ وہ نگران وزیراعظم کے لیے نام تجویز کریں اور آیندہ چار روز تک نام دیں۔ واضح رہے کہ پیپلزپارٹی اور ق لیگ نے الگ الگ انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے کے متعلق حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور اب دونوں جماعتوں کا مشترکہ انتخابی نشان پر الیکشن لڑنے کا آپشن ختم ہو گیا ہے۔ چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کی موجودگی میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے بھی صدر سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال، آیندہ انتخابات اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر گفتگو ہوئی۔

فضل کریم نے گوادر پورٹ کا انتظام چین کو دینے اور پاک ایران گیس منصوبے کے حکومتی فیصلے کو سراہا اور اسے جرات مندانہ اقدام قراردیا۔ صدر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے دہشت گردی اور طالبانائزیشن کے خلاف تاریخی جدوجہد کی۔ پیپلزپارٹی بھی صوفیاء کو ماننے والی جماعت ہے۔ دہشت گردی کی مخالف اور امن کی حامی جماعتوں کو متحد ہونا چاہیے۔ گورنر سندھ عشرت العباد نے بھی گذشتہ روز بلاول ہاؤس میں صدر زرداری سے ملاقات کی اور پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان دوریاں ختم کر کے ساتھ ساتھ چلنے پر اتفاق کیا ہے۔ صدر زرداری نے ایم کیو ایم کے تمام خدشات اور تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ صدر زرداری نے کہا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عمل سے ایماندار لوگ آگے آئیں گے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو صدر آصف علی زرداری نے لاہور میں خاصا مصروف دن گزارا۔ انھوں نے ملکی سیاسی معاملات اور پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ملک میں جمہوری نظام کے مضبوطی کے حوالے سے بھی ان کی باتیں خوش آیند ہیں۔ اب ملک میں عام انتخابات کے لیے تیاریوں کا عمل شروع ہوچکا ہے۔اب اگلا مرحلہ نگران سیٹ اپ کے قیام کا ہے ، صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ یہ مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہوجائے گا،لاہور میں صدر مملکت نے اتحادی جماعتوںکے رہنمائوں سے ملاقاتیں کرکے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کردی ہے۔ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ق، سنی اتحاد کونسل اور ایم کیوایم کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے گی۔
Load Next Story