موبائل فون اب انسانی سمگلنگ میں بھی ’’مددگار‘‘ بن گیا

سجاد کھوسو نے پنجاب کی سونیا کو موبائل فون پر باتوں سے لبھا کر شادی کر لی

پولیس نے نیوپنڈ میں چھاپہ مار کر خوش قسمت سونیا کو بازیاب کروا لیا،ملزم گرفتار

موبائل فون کو دور حاضر کی اہم ترین ٹیکنالوجی کا شرف حاصل ہے، آج چھوٹے سے لے کر بڑے اور خواتین سے لے کر مرد حضرات تک ہر کوئی موبائل فون کے بغیر خود کو ادھورا محسوس کرتا ہے۔ موبائل فون ایک طرف وقت کی اہم ضرورت تو دوسری جانب معاشرے پر مرتب ہوئے اس کے مضر اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ موبائل فون کے بے تحاشا بلکہ بے جا استعمال سے کرائم ریٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس میں خاص طور پر اغوا برائے تاوان کی وارداتیں شامل تھیں لیکن اب موبائل فون کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر میں موبائل فون کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کے انکشاف کا بھانڈا اس وقت پھوٹا جب پنجاب کے علاقے ٹوبہ ٹیک سنگھ کی رہائشی زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی سونیا چار ماہ قبل موبائل فون پر ہونے والی دوستی اور پھر محبت میں اندھی ہوکر انسانی اسمگلنگ کرنے والے گروہ کے پاس پہنچ گئی۔


سونیا کو موبائل فون پر انسانی اسمگلنگ کرنے والے گروہ کے سرغنہ سجاد کھوسو نے اپنے لفظوں کی مٹھاس کا ایسا گرویدہ کیا کہ وہ برسوں اپنے گھر میں محبت کی چھاؤں میں پلنے والی اپنی بوڑھی ماں اور بھائیوں کی محبت کو ٹھکرا کر اس کے شکجنے میںجا پھنسی۔ 10 ستمبر کو اس نے سجاد سے نکاح بھی کر لیا، جس کے بعد اسے معلوم ہوا کہ اس کا شوہر پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور اس کی امارت بھی جھوٹ نکلی۔ کچھ دن ساتھ گزارنے کے بعدسونیا پر یہ واضح ہوا کہ اس کا شوہر لڑکیوں سے فون پر ان کو بھلا پھسلا کر شادی کرنے اور پھر انہیں فروخت کرنے کا عادی ہے۔ سونیا کی قسمت دیگر لڑکیوں سے اچھی تھی کہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث ہونے سے قبل ہی پولیس نے اسے بازیاب کرا لیا۔

ایس ایس پی سکھرامجد شیخ کو جب پنجاب کے علاقے رونتی کی پولیس نے آگاہ کیا کہ 20سالہ سونیا گھر سے لاپتہ ہے اور ہمیں شک ہے کہ اسے کسی نے اغوا کیا ہے، جس کی ایف آئی آر سونیا کے بھائی عبدالحفیظ کی مدعیت میں رونتی تھانہ میں درج کی گئی تھی ۔ ایس ایس پی سکھر نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے سکھر کے گنجان آبادی والے علاقے نیوپنڈ کے نزدیک بھوسہ لائن کے گھر میں چھاپہ مارکر سونیا کو بازیاب کروا لیا۔ جب ایس ایس پی سکھر نے اس سے دریافت کیا کہ آپ اب کہاں جانا چاہتی ہیں تو لڑکی کے آنکھوں میں ٹھرے ہوئے آنسوں بہنے لگے اور اس نے دل گیر آواز میں ایس ایس پی سکھر سے التجا کی کہ میں اپنے گھر جانا چاہتی ہوں۔ پولیس کی جانب سے انسان اسمگلنگ کے گھناؤنے دھندے میں ملوث اس شخص کو تو گرفتار کر لیا گیا، مگر یہ واقعہ شہریوں کے لیے کسی ایت سے کم نہیں۔ نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی کو منفی انداز میں استعمال کر رہی ہے جبکہ کچھ انسانیت دشمن عناصر دولت کی حوس اور لالچ میں اس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ وہ انسانی اسمگلنگ جیسی گھٹیا اور شرمناک حرکات میں ملوث ہوکر لوگوں کو زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

حکومت بالخصوص پولیس کی جانب سے جرائم کو روکنے کے لیے موثر اقدامات تو کیے جا رہے ہیں تاہم موبائل فون کے منفی استعمال سے پہنچے والے نقصانات سے بچنے کے لیے کچھ ایسی تدابیر اور ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے، جن کی وجہ سے ہم اپنی اس ضرورت کی چیز کو استعمال تو کریں مگر اس کے معاشرے میں مرتب ہونے بد اثرات سے بچا جاسکے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے وہ بچوں کو موبائل فون لے کر دینے سے پہلے اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ ان کے بچوں کو موبائل کی ضرورت کیوں ہے اور بچے اس کا استعمال کس طرح کر رہے ہیں اور وہ کس سے باتیں کر رہے ہیں ، کیا باتیں کر رہے ہیں؟ بچوں کی غیر موجودگی میں ان کے موبائل فون کو چیک کریں تاکہ موبائل فون کے غلط استعمال سے آگاہی حاصل ہوسکے۔
Load Next Story