لندن کا منظر نامہ ۔ شاہد خاقان اور شہباز استعفیٰ پر کیوں تیار
اگر کوئی ایسا موقع آگیا کہ ان کی حکومت کو نواز شریف کو گرفتار کرنا پڑا تو وہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیں گے۔
msuherwardy@gmail.com
لندن میں کیا ہو رہا ہے، سب جاننے کی جستجو میں ہیں۔کیوں سب لندن پہنچ رہے ہیں۔لندن میں کیا فیصلہ ہونے والا ہے۔ نواز شریف کیوں سعودی عرب سے پاکستان آنے کے بجائے لندن پہنچ گئے ہیں۔ سعودی عرب ان کی کس سے ملاقات ہوئی اور کیا پیغام ملا کہ انھوں نے وطن و اپسی موخر کر دی اور لندن آگئے۔ سب کو لندن بلا لیا۔کیا اشارے ہیں۔کیا خدشات ہیں۔ نواز شریف کیا چاہتے ہیں۔ پارٹی کیا چاہتی ہے۔ وراثت کی کیا لڑائی ہے۔
نواز شریف کی گرفتاری کا خدشہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کی گرفتاری پر ن لیگ کی حکومتوں کا کیا ر دعمل ہو گا۔ نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جا ری ہو چکے ہیں۔ اس لیے اب اگر وہ آئیں گے تو انھیں ایک دفعہ گرفتار کرنا قانون کی مجبوری ہے۔ لیکن یہ بھی کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر عدالت نے ان کی مستقل گرفتاری کا فیصلہ کر دیا۔ نام ای سی ایل پر ڈال دیا تو حکومتوں کا کیا ردعمل کیا ہو گا۔
اطلاعات یہی ہیں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ واضع کر دیا ہے کہ اگر کوئی ایسا موقع آگیا کہ ان کی حکومت کو نواز شریف کو گرفتار کرنا پڑا تو وہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ یہ نواز شریف کی مرضی ہے کہ وہ اس کے بعد نیا وزیر اعظم لائیں یا حکومتیں ختم کر دیں۔ لیکن شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کی گرفتاری کی صورت میں وزیر اعظم رہنے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا بھی یہی موقف ہے کہ اگر انھیں ایک دن کے لیے بھی نواز شریف کو پنجاب کی کسی جیل میں بطور قیدی رکھنا پڑا تو وہ بھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیں گے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی جب لاہور شہباز شریف کو ملنے آئے تھے تو یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ ایک تو اداروں سے محاذ آرائی نہیں کی جائے گی، دوسرا میاں نواز شریف کی گرفتاری کی صورت میں استعفے دے دئے جائیں گے۔ کیونکہ اگر جیل میں مراعات دی جائیں گی تو بھی اعتراض ہو گا کہ اپنی حکومت کی جیل میں مراعات دی جا رہی ہیں۔ اور اگر مراعات نہیں دی جائیں گی تو بھی گلہ ہو گا کہ اپنی حکومت ہے اور اس میں بھی مراعات نہیں مل رہی ہیں۔
خبر تو یہ بھی ہے کہ اسحاق ڈار روز روز کی نیب پیشی تنگ آچکے ہیں۔ اور انھوں نے بیماری کا بہانہ لگا کر باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی لیے انھیں دل کا عارضہ ہو گیا ہے۔ وہ لندن پہنچ گئے ہیں۔ خبر یہی ہے کہ وہ اب مستقل لندن رہنا چاہتے ہیں۔ وہ اب مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ جو محاذ آرائی کے حامی تھے ان کی سوچ میں بھی تبدیلی ہے۔ نواز شریف کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے نہ صرف وہ خود بوڑھے ہو گئے ہیں بلکہ ان کی ساری ٹیم بھی بوڑھی ہو رہی ہے۔ اس بوڑھی ٹیم کے ساتھ محاذ آرائی ممکن نظر نہیں آرہی۔ نیا خون مریم ہیں۔ لیکن دوسری طرف بابے تیار نہیںہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ابھی نواز شریف کی وطن واپسی ممکن ہے۔ وہ پاکستان آسکتے ہیں۔ پھر واپس بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔یا مستقل پاکستان میں رہنا ہو گا۔ یا لندن میں رہنا ہو گا۔ یہ آنا جانا اب مزید نہیں چل سکتا۔ اگر پاکستان میں رہیں گے تو جلد سزا ہو جائے گی۔ اگر لندن رہیں گے تو سزا سے بچ جائیں گے۔ لیکن پھر اشتہاری اور مفرور ہو جائیں گے۔
تاہم شاہد خاقان اور شہباز شریف کے پاس اس کا بھی حل ہے۔ وہ کہتے ہیں نواز شریف لندن میں رہیں گے کچھ نہیں ہو گا۔ پرویز مشرف کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ان کا کیا ہوا ہے۔ جو نواز شریف کا کچھ ہو جائے گا۔ اس لیے لندن رہنا محفوظ ہے۔ دوسری طرف اگر وہ لندن رہنا چاہتے ہیں تو انھیں پارٹی کی کمان شہبا ز شریف کو دینی ہو گی۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ لندن سے پارٹی چلائیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان کی بیٹی مریم یہ نہیں چاہتیں کہ پارٹی کی کمان چچا کو دے دی جائے اور یہ ممکن نہیں کہ پارٹی اس وقت مریم بی بی کو اپنا لیڈر مان لے اور مریم کو یہ قبول نہیں کہ ان کے علاوہ کسی اور کوکمان مل جائے۔ اس لیے ڈیڈ لاک ہے۔
لندن میں کیا ہو رہا ہے ۔ نواز شریف کی وطن واپسی کا اعلان نواز شریف کی سیاسی مجبوری ہے۔ لیکن اس سے سیاست چلتی نظر نہیں آرہی۔ بند گلیوں کے دروازے نہیں کھل سکتے۔ نواز شریف کو اپنے لیے راستہ بنانے کے لیے اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنا ہو گا۔ جوش نہیں ہوش سے فیصلے کرنا ہو ںگے۔ غصہ ختم کرنا ہو گا۔ شاہد خاقان اور شہباز شریف کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ لیکن بات ماننے کو دل بھی نہیں مان رہا۔ دل اور دماغ کی اس لڑائی نے نواز شریف کو مفلوج کر دیا ہے۔
پارٹی ٹوٹنے کا بھی خطرہ ہے۔ کون جانے اب پارٹی ٹوٹ گئی تو دوبارہ بن بھی سکے یا نہیں۔ ق لیگ سب کے سامنے ہے۔ اب بھی چوہدری پرویز الہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ 70 ایم این اے ان کے ساتھ ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ نہیں ہیں لیکن کل ہو بھی سکتے ہیں۔ عمران خان کو قابو کرنے کے لیے جیتنے والے گھوڑے ق لیگ جیسے کسی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ بات سمجھنے کی ہے۔ لیکن سمجھ ہی تو نہیں آرہی۔ یہی لندن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
نواز شریف کی گرفتاری کا خدشہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ نواز شریف کی گرفتاری پر ن لیگ کی حکومتوں کا کیا ر دعمل ہو گا۔ نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جا ری ہو چکے ہیں۔ اس لیے اب اگر وہ آئیں گے تو انھیں ایک دفعہ گرفتار کرنا قانون کی مجبوری ہے۔ لیکن یہ بھی کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر عدالت نے ان کی مستقل گرفتاری کا فیصلہ کر دیا۔ نام ای سی ایل پر ڈال دیا تو حکومتوں کا کیا ردعمل کیا ہو گا۔
اطلاعات یہی ہیں کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ واضع کر دیا ہے کہ اگر کوئی ایسا موقع آگیا کہ ان کی حکومت کو نواز شریف کو گرفتار کرنا پڑا تو وہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیں گے۔ یہ نواز شریف کی مرضی ہے کہ وہ اس کے بعد نیا وزیر اعظم لائیں یا حکومتیں ختم کر دیں۔ لیکن شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کی گرفتاری کی صورت میں وزیر اعظم رہنے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا بھی یہی موقف ہے کہ اگر انھیں ایک دن کے لیے بھی نواز شریف کو پنجاب کی کسی جیل میں بطور قیدی رکھنا پڑا تو وہ بھی پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دے دیں گے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی جب لاہور شہباز شریف کو ملنے آئے تھے تو یہ فیصلہ ہو گیا تھا کہ ایک تو اداروں سے محاذ آرائی نہیں کی جائے گی، دوسرا میاں نواز شریف کی گرفتاری کی صورت میں استعفے دے دئے جائیں گے۔ کیونکہ اگر جیل میں مراعات دی جائیں گی تو بھی اعتراض ہو گا کہ اپنی حکومت کی جیل میں مراعات دی جا رہی ہیں۔ اور اگر مراعات نہیں دی جائیں گی تو بھی گلہ ہو گا کہ اپنی حکومت ہے اور اس میں بھی مراعات نہیں مل رہی ہیں۔
خبر تو یہ بھی ہے کہ اسحاق ڈار روز روز کی نیب پیشی تنگ آچکے ہیں۔ اور انھوں نے بیماری کا بہانہ لگا کر باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی لیے انھیں دل کا عارضہ ہو گیا ہے۔ وہ لندن پہنچ گئے ہیں۔ خبر یہی ہے کہ وہ اب مستقل لندن رہنا چاہتے ہیں۔ وہ اب مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ جو محاذ آرائی کے حامی تھے ان کی سوچ میں بھی تبدیلی ہے۔ نواز شریف کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے نہ صرف وہ خود بوڑھے ہو گئے ہیں بلکہ ان کی ساری ٹیم بھی بوڑھی ہو رہی ہے۔ اس بوڑھی ٹیم کے ساتھ محاذ آرائی ممکن نظر نہیں آرہی۔ نیا خون مریم ہیں۔ لیکن دوسری طرف بابے تیار نہیںہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ابھی نواز شریف کی وطن واپسی ممکن ہے۔ وہ پاکستان آسکتے ہیں۔ پھر واپس بھی جا سکتے ہیں۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔یا مستقل پاکستان میں رہنا ہو گا۔ یا لندن میں رہنا ہو گا۔ یہ آنا جانا اب مزید نہیں چل سکتا۔ اگر پاکستان میں رہیں گے تو جلد سزا ہو جائے گی۔ اگر لندن رہیں گے تو سزا سے بچ جائیں گے۔ لیکن پھر اشتہاری اور مفرور ہو جائیں گے۔
تاہم شاہد خاقان اور شہباز شریف کے پاس اس کا بھی حل ہے۔ وہ کہتے ہیں نواز شریف لندن میں رہیں گے کچھ نہیں ہو گا۔ پرویز مشرف کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ان کا کیا ہوا ہے۔ جو نواز شریف کا کچھ ہو جائے گا۔ اس لیے لندن رہنا محفوظ ہے۔ دوسری طرف اگر وہ لندن رہنا چاہتے ہیں تو انھیں پارٹی کی کمان شہبا ز شریف کو دینی ہو گی۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ لندن سے پارٹی چلائیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان کی بیٹی مریم یہ نہیں چاہتیں کہ پارٹی کی کمان چچا کو دے دی جائے اور یہ ممکن نہیں کہ پارٹی اس وقت مریم بی بی کو اپنا لیڈر مان لے اور مریم کو یہ قبول نہیں کہ ان کے علاوہ کسی اور کوکمان مل جائے۔ اس لیے ڈیڈ لاک ہے۔
لندن میں کیا ہو رہا ہے ۔ نواز شریف کی وطن واپسی کا اعلان نواز شریف کی سیاسی مجبوری ہے۔ لیکن اس سے سیاست چلتی نظر نہیں آرہی۔ بند گلیوں کے دروازے نہیں کھل سکتے۔ نواز شریف کو اپنے لیے راستہ بنانے کے لیے اس ڈیڈ لاک کو ختم کرنا ہو گا۔ جوش نہیں ہوش سے فیصلے کرنا ہو ںگے۔ غصہ ختم کرنا ہو گا۔ شاہد خاقان اور شہباز شریف کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ لیکن بات ماننے کو دل بھی نہیں مان رہا۔ دل اور دماغ کی اس لڑائی نے نواز شریف کو مفلوج کر دیا ہے۔
پارٹی ٹوٹنے کا بھی خطرہ ہے۔ کون جانے اب پارٹی ٹوٹ گئی تو دوبارہ بن بھی سکے یا نہیں۔ ق لیگ سب کے سامنے ہے۔ اب بھی چوہدری پرویز الہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ 70 ایم این اے ان کے ساتھ ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ نہیں ہیں لیکن کل ہو بھی سکتے ہیں۔ عمران خان کو قابو کرنے کے لیے جیتنے والے گھوڑے ق لیگ جیسے کسی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ بات سمجھنے کی ہے۔ لیکن سمجھ ہی تو نہیں آرہی۔ یہی لندن کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔