سری لنکا احسان فراموش نہیں
ہمیں سری لنکا جیسے مخلص دوستوں کی ہی ضرورت ہے بنگلادیش اور افغانستان جیسے نام نہاد خیرخواہ نہیں
سری لنکن ٹیم میں اسٹارز کی عدم موجودگی سے بھی ہم اپنا پورا مقصد حاصل نہیں کر پائے۔ فوٹو: اے ایف پی
3 مارچ 2009 کا دن کوئی پاکستانی نہیں بھول سکتا، خاص طور پر شائقین کرکٹ کیلیے وہ ایک ڈراؤنے خواب جیسا تھا، لاہور میں حکومت اور پی سی بی نے سری لنکن ٹیم کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا جس کی وجہ سے دہشت گردوں کو حملے کا موقع ملا، شکر ہے کسی کھلاڑی یا آفیشل کا جانی نقصان تو نہیں ہوا مگر کئی دیگر قیمتی جانیں گنوانا پڑیں۔
اس واقعے کے 8 سال بعد 29 اکتوبر 2017 ایک بار پھر تاریخی دن ثابت ہوا جب سری لنکن ٹیم دوبارہ لاہور آئی اور قذافی اسٹیڈیم میں 25 ہزار شائقین کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا، لاہوریوں نے مہمان کرکٹرز کا شاندار استقبال کیا، سیکیورٹی فورسز نے بہترین انتظامات سے میچ کا انعقاد کامیاب بنانے میں اہم کردار نبھایا، کرکٹ بورڈ نے بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کوتاہی برتنے سے گریز کیا۔
اس لیے سب کچھ ٹھیک رہا، سری لنکا نے بھی ثابت کر دیا کہ وہ احسان فراموش نہیں، ماضی میں جب وہاں کے حالات خراب اور دنیا کی بیشتر ٹیمیں جانے کو تیار نہیں تھیں تب پاکستانی ٹیم گئی اور کھیلی، اب وقت آیا تو سری لنکا نے بھی ہمیں مایوس نہ کیا، تمام تر مخالفت کے باوجود ٹیم کو بھیجا، بعض کھلاڑیوں نے انکارکیا تو ان کی جگہ نئے پلیئرز کو ملی۔
ہمیں سری لنکا جیسے مخلص دوستوں کی ہی ضرورت ہے بنگلادیش اور افغانستان جیسے نام نہاد خیرخواہ نہیں جنھیں انگلی پکڑ کر کھیلنا سکھایا مگر مشکل وقت میں آنکھیں پھیر کر بھارت کی بولی بولنے لگے، سری لنکا کے ساتھ اتنا بڑا واقعہ ہو چکا تھا اس کے باوجود وہی پہلی بڑی انٹرنیشنل ٹیم بنی جس نے پاکستان کا دورہ کیا اس پر جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے، کراؤڈ نے بھی بھرپور انداز میں خراج تحسین ادا کر کے مہمانوں کا دل جیت لیا، یہ میچ یقیناً پاکستان کیلیے مددگار ثابت ہوگا،اس وقت ہر جگہ واہ واہ ہو رہی ہے لیکن ہمیں حقائق سے نظریں نہیں چرانا چاہئیں، سب سے پہلی بات تو یہ کہ ملک میں کرکٹ بحال ہو گئی یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے۔
اس وقت صرف لاہور میں میچز ہو رہے ہیں، ہماری مجبوری ہے کہ سیکیورٹی میں کسی سہل پسندی کے متحمل نہیں ہو سکتے،اسی لیے میچ والے دن عملی طور پر شہر کا ایک بڑا حصہ مکمل بند کر دیا جاتا ہے، جس سے عوام کو بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جیسے میڈیا میں رپورٹس آئیں کہ کئی مقامات پر بدترین ٹریفک جام ہوا اور ایمبولینسز کو بھی جگہ نہیں ملی، یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، اسی طرح مجھے لاہور کے رپورٹرز عباس رضا اور میاں اصغر سلیمی نے بتایا کہ اسٹیڈیم میں8مقامات پر شائقین کی تلاشی لی گئی، یہ بہت زیادہ ہے، ایسے انتظامات کریں کہ دو، تین بار تلاشی ہی کافی ہو، کافی دور سے راستے بند کر دیے جاتے ہیں مگر شٹل سروس کی وجہ سے لوگ زیادہ پریشان نہیں ہوتے ، کرکٹ عوام کی تفریح کا سامان ہے ، ہمیں اس میں میلے کا سا سماں بنانا چاہیے، لوگ خوشی خوشی آئیں، بغیر کسی دشواری میچ سے لطف اندوز ہوں اور گھر جائیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں نے اب ملک کے حالات اچھے کر دیے ہیں مگر احتیاط ضروری ہے، اسی لیے میچ سے قبل اسٹیڈیم کے باہر گنزتھامے پولیس اہلکار ہی نمایاں نظر آئے، جس وقت ٹیم کی بسیں آ رہی تھیں باقاعدہ پوزیشنز لے کر پولیس اہلکار لیٹے ہوئے تھے، یہ تصاویر ملک سے باہر بھی گئیں، ہمارے لیے ایسا ضروری تھا لیکن اس ماحول میں ابھی شاید کوئی بڑی ٹیم کھیلنے نہیں آئے،ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ 2009میں سری لنکن ٹیم پر حملے سے قبل بھی گنی چنی ٹیمیں ہی یہاں آ رہی تھیں، لہذا ابھی سے یہ امید لگا لینا کہ انگلینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا جیسی سائیڈز بھی دورہ کریں گی درست نہ ہوگا۔
سری لنکن ٹیم میں اسٹارز کی عدم موجودگی سے بھی ہم اپنا پورا مقصد حاصل نہیں کر پائے،تھشارا پریرا حال ہی میں ورلڈالیون کے ساتھ آ کر ایک کروڑ روپے لے کر گئے تھے، وہ انکار کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے، اگر تمام پلیئرز آتے تو اچھا تاثر جاتا، اس وقت تو ایسا لگا کہ بی ٹیم لاہور آئی، ہمیں ابھی غیرملکیوں کا اعتماد مکمل طور پر جیتنے میں وقت لگے گا،اس کیلیے انتظار کرنا چاہیے۔
آہستہ آہستہ چلیں گے تو بہتر رہے گا، جلد بازی میں ورلڈ الیون پر پیسہ پانی کی طرح بہا کر اچھی مثال قائم نہیں کی گئی،ہرکھلاڑی کو ایک، ایک کروڑ روپے دیے،اس سے دیگر کی بھی رال ٹپکنے لگی، سب جانتے ہیں کہ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کی مالی حالت ان دنوں بیحد خراب ہے، اس نے سیریز کیلیے آمادگی تو ظاہر کر دی مگر اب بڑی رقم کا مطالبہ کررہا ہے، جس پر دونوں بورڈز کے مذاکرات جاری ہیں، اس طرح پیسے دے کر اگر بلاتے رہے تو ایک دن سارا خزانہ خالی ہو جائے گا، لہذا احتیاط ضروری ہے، اسی طرح دیگر شہروں میں بھی میچز کرائیں، پی سی بی نے نیشنل اسٹیڈیم کی ترئین و آرائش کیلیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے ہیں۔
نجم سیٹھی نے وہاں پی ایس ایل میچز کرانے کا بھی اعلان کیا مگر مجھے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا،آئی سی سی کے بارے میں گزشتہ دنوں تاثر دیا گیا کہ اس نے کراچی میں میچز کیلیے کلیئرنس دے دی ہے مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا،کراچی کو بھی لاہور کی طرز پر سیف سٹی بنانے کے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اس کیلیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت بھی بھرپور تعاون کرے۔
فی الحال مجھے نہیں لگتا کہ لاہور کے سوا دیگر شہروں میں فوری طور پر میچز ہو سکیں، جب تک ایسا نہیں ہوتا ہمیں ملک میں کرکٹ کی واپسی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے، ابھی سمجھیں پہلا قدم اٹھایا ہے، ہمیں ''ڈومور'' کی ضرورت ہے،ملک کے حالات دن نہ دن بہتری کی جانب گامزن ہیں،آہستہ آہستہ بحالی اعتماد کی فضا بڑھے گی تو تمام کھلاڑی بے خوف و خطر آنے کو تیار ہو جائیں گے،اس سے چند برسوں میں ملک کے تمام اسٹیڈیمز کی رونق واپس لوٹ آئے گی۔
اس واقعے کے 8 سال بعد 29 اکتوبر 2017 ایک بار پھر تاریخی دن ثابت ہوا جب سری لنکن ٹیم دوبارہ لاہور آئی اور قذافی اسٹیڈیم میں 25 ہزار شائقین کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا، لاہوریوں نے مہمان کرکٹرز کا شاندار استقبال کیا، سیکیورٹی فورسز نے بہترین انتظامات سے میچ کا انعقاد کامیاب بنانے میں اہم کردار نبھایا، کرکٹ بورڈ نے بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے کوتاہی برتنے سے گریز کیا۔
اس لیے سب کچھ ٹھیک رہا، سری لنکا نے بھی ثابت کر دیا کہ وہ احسان فراموش نہیں، ماضی میں جب وہاں کے حالات خراب اور دنیا کی بیشتر ٹیمیں جانے کو تیار نہیں تھیں تب پاکستانی ٹیم گئی اور کھیلی، اب وقت آیا تو سری لنکا نے بھی ہمیں مایوس نہ کیا، تمام تر مخالفت کے باوجود ٹیم کو بھیجا، بعض کھلاڑیوں نے انکارکیا تو ان کی جگہ نئے پلیئرز کو ملی۔
ہمیں سری لنکا جیسے مخلص دوستوں کی ہی ضرورت ہے بنگلادیش اور افغانستان جیسے نام نہاد خیرخواہ نہیں جنھیں انگلی پکڑ کر کھیلنا سکھایا مگر مشکل وقت میں آنکھیں پھیر کر بھارت کی بولی بولنے لگے، سری لنکا کے ساتھ اتنا بڑا واقعہ ہو چکا تھا اس کے باوجود وہی پہلی بڑی انٹرنیشنل ٹیم بنی جس نے پاکستان کا دورہ کیا اس پر جتنا بھی شکریہ ادا کیا جائے کم ہے، کراؤڈ نے بھی بھرپور انداز میں خراج تحسین ادا کر کے مہمانوں کا دل جیت لیا، یہ میچ یقیناً پاکستان کیلیے مددگار ثابت ہوگا،اس وقت ہر جگہ واہ واہ ہو رہی ہے لیکن ہمیں حقائق سے نظریں نہیں چرانا چاہئیں، سب سے پہلی بات تو یہ کہ ملک میں کرکٹ بحال ہو گئی یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے۔
اس وقت صرف لاہور میں میچز ہو رہے ہیں، ہماری مجبوری ہے کہ سیکیورٹی میں کسی سہل پسندی کے متحمل نہیں ہو سکتے،اسی لیے میچ والے دن عملی طور پر شہر کا ایک بڑا حصہ مکمل بند کر دیا جاتا ہے، جس سے عوام کو بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جیسے میڈیا میں رپورٹس آئیں کہ کئی مقامات پر بدترین ٹریفک جام ہوا اور ایمبولینسز کو بھی جگہ نہیں ملی، یہ مسئلہ حل کرنا ہوگا، اسی طرح مجھے لاہور کے رپورٹرز عباس رضا اور میاں اصغر سلیمی نے بتایا کہ اسٹیڈیم میں8مقامات پر شائقین کی تلاشی لی گئی، یہ بہت زیادہ ہے، ایسے انتظامات کریں کہ دو، تین بار تلاشی ہی کافی ہو، کافی دور سے راستے بند کر دیے جاتے ہیں مگر شٹل سروس کی وجہ سے لوگ زیادہ پریشان نہیں ہوتے ، کرکٹ عوام کی تفریح کا سامان ہے ، ہمیں اس میں میلے کا سا سماں بنانا چاہیے، لوگ خوشی خوشی آئیں، بغیر کسی دشواری میچ سے لطف اندوز ہوں اور گھر جائیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں نے اب ملک کے حالات اچھے کر دیے ہیں مگر احتیاط ضروری ہے، اسی لیے میچ سے قبل اسٹیڈیم کے باہر گنزتھامے پولیس اہلکار ہی نمایاں نظر آئے، جس وقت ٹیم کی بسیں آ رہی تھیں باقاعدہ پوزیشنز لے کر پولیس اہلکار لیٹے ہوئے تھے، یہ تصاویر ملک سے باہر بھی گئیں، ہمارے لیے ایسا ضروری تھا لیکن اس ماحول میں ابھی شاید کوئی بڑی ٹیم کھیلنے نہیں آئے،ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ 2009میں سری لنکن ٹیم پر حملے سے قبل بھی گنی چنی ٹیمیں ہی یہاں آ رہی تھیں، لہذا ابھی سے یہ امید لگا لینا کہ انگلینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا جیسی سائیڈز بھی دورہ کریں گی درست نہ ہوگا۔
سری لنکن ٹیم میں اسٹارز کی عدم موجودگی سے بھی ہم اپنا پورا مقصد حاصل نہیں کر پائے،تھشارا پریرا حال ہی میں ورلڈالیون کے ساتھ آ کر ایک کروڑ روپے لے کر گئے تھے، وہ انکار کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے، اگر تمام پلیئرز آتے تو اچھا تاثر جاتا، اس وقت تو ایسا لگا کہ بی ٹیم لاہور آئی، ہمیں ابھی غیرملکیوں کا اعتماد مکمل طور پر جیتنے میں وقت لگے گا،اس کیلیے انتظار کرنا چاہیے۔
آہستہ آہستہ چلیں گے تو بہتر رہے گا، جلد بازی میں ورلڈ الیون پر پیسہ پانی کی طرح بہا کر اچھی مثال قائم نہیں کی گئی،ہرکھلاڑی کو ایک، ایک کروڑ روپے دیے،اس سے دیگر کی بھی رال ٹپکنے لگی، سب جانتے ہیں کہ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ کی مالی حالت ان دنوں بیحد خراب ہے، اس نے سیریز کیلیے آمادگی تو ظاہر کر دی مگر اب بڑی رقم کا مطالبہ کررہا ہے، جس پر دونوں بورڈز کے مذاکرات جاری ہیں، اس طرح پیسے دے کر اگر بلاتے رہے تو ایک دن سارا خزانہ خالی ہو جائے گا، لہذا احتیاط ضروری ہے، اسی طرح دیگر شہروں میں بھی میچز کرائیں، پی سی بی نے نیشنل اسٹیڈیم کی ترئین و آرائش کیلیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے ہیں۔
نجم سیٹھی نے وہاں پی ایس ایل میچز کرانے کا بھی اعلان کیا مگر مجھے ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا،آئی سی سی کے بارے میں گزشتہ دنوں تاثر دیا گیا کہ اس نے کراچی میں میچز کیلیے کلیئرنس دے دی ہے مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا،کراچی کو بھی لاہور کی طرز پر سیف سٹی بنانے کے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اس کیلیے ضروری ہے کہ صوبائی حکومت بھی بھرپور تعاون کرے۔
فی الحال مجھے نہیں لگتا کہ لاہور کے سوا دیگر شہروں میں فوری طور پر میچز ہو سکیں، جب تک ایسا نہیں ہوتا ہمیں ملک میں کرکٹ کی واپسی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے، ابھی سمجھیں پہلا قدم اٹھایا ہے، ہمیں ''ڈومور'' کی ضرورت ہے،ملک کے حالات دن نہ دن بہتری کی جانب گامزن ہیں،آہستہ آہستہ بحالی اعتماد کی فضا بڑھے گی تو تمام کھلاڑی بے خوف و خطر آنے کو تیار ہو جائیں گے،اس سے چند برسوں میں ملک کے تمام اسٹیڈیمز کی رونق واپس لوٹ آئے گی۔