سری لنکا نے پاکستان کا روشن چہرہ دنیا پر اُجاگر کر دیا
محبتوں کے پھول سمیٹ کرٹیم وطن پہنچ گئی، پلیئرز واپسی کے وقت اعلیٰ مہمان نوازی پر شکرگزار نظر آئے
پاکستان نے مشکل وقت میں ہمیشہ ساتھ دیااب ہماری باری تھی،سیکیورٹی سمیت بہترین انتظامات کیے گئے، جیاسیکرا۔ فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
سری لنکا نے پاکستان کا روشن چہرہ دنیا پر اُجاگرکردیا،محبتوں کے پھول سمیٹ کرسری لنکن کرکٹرز رخصت ہوگئے۔
مارچ 2009میں لاہور کے لبرٹی چوک پر سری لنکن ٹیم دہشت گردوں کا نشانہ بنی تو پاکستان کے میدان ویران ہوگئے، زمبابوے کی 2015میں محدود اوورز کے میچز میں میزبانی بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی، رواں سال پی ایس ایل فائنل کے بعد ورلڈ الیون نے دورے سے اعتماد کی بحالی کا سفر تیز تر کردیا، سری لنکا نے واحد ٹی ٹوئنٹی میچ لاہور میں کھیلنے کی حامی بھری تو کئی کرکٹرز نے انکار کردیا، مختصر دورے پر خدشات کے بادل منڈلانے لگے۔
سری لنکن حکومت خاص طور پر کرکٹ بورڈ کے معاملات بھی دیکھنے والے وزیر کھیل دیا سری جیا سیکرا نے بڑا بہادرانہ فیصلہ کیا کہ ابوظبی میں دونوں میچز کیلیے اسکواڈ میں بھی وہی شامل ہوگا جو لاہور جانے کیلیے تیار ہو،بالآخر اتوار کو یہ تاریخی دن آہی گیا۔
سری لنکن کرکٹرز پر حملے کے بعد ہی پاکستان پر کرکٹ کے دروازے بند ہوئے تھے،بحالی کے عمل میں اس ملک کا دورہ کرنے والی پہلی بڑی ٹیم بھی آئی لینڈرز ہی بنے،اتوار کو میچ ختم ہونے کے بعد شعیب ملک پریس کانفرنس میں آئے، سری لنکن ٹیم میں سے کسی کو نہیں بلایا گیااس کی وجہ یہ تھی کہ مہمان کرکٹرز نے قذافی اسٹیڈیم میں ڈنرکے بعد ہی رخت سفر باندھ لیا تھا،وہیں سے انھیں سخت سکیورٹی حصار میں علامہ اقبال ایئرپورٹ پہنچایا گیا جہاں اسٹیٹ گیسٹ لاؤنج میں چند گھنٹے آرام کے بعد نجی ایئرلائن کی پرواز سے 3 بجکر 30 منٹ پر براستہ دبئی کولمبو پہنچ گئے۔
مشکل وقت میں پاکستان نے سری لنکا کی مدد کرتے ہوئے خوف کی دیوار پھلانگ کر اس وقت میچز کھیلے جب آسٹریلیا اور دیگر کئی ٹیمیں انکار کررہی تھیں،آئی لینڈرز نے اس مہربانی کا بدلہ چکاتے ہوئے پاکستانی شائقین کے دل جیت لیے اور یہاں سے ڈھیروں پیار سمیٹ کر رخصت ہوئے، ایئرپورٹ پر مہمان کرکٹرز کے چہروں پر ایک احساس تفاخر دیکھا گیا، وہ انتہائی خوشگوار موڈ میں نظر آئے اور آپس میں ہنسی مذاق بھی کرتے رہے۔
دوسری جانب اس میچ کو ممکن بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے سری لنکن وزیر کھیل دیا سری جیاسیکرا نے اسلام آباد میں وفاقی وزیربرائے بین الصوبائی رابطہ امور ریاض حسین پیرزادہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو میں انھوں نے کہا کہ 8سال بعد سری لنکن کرکٹ ٹیم کی دوبارہ آمد پر بہت خوشی ہے، پاکستان نے مشکل وقت میں ہمیشہ ہمارا بھرپور ساتھ دیا، اب ہماری باری تھی، میزبان حکومت نے بھرپور تعاون اور سیکیورٹی سمیت بہترین انتظامات کیے، دیگر ملکوں کی ٹیمیں بھی بلا خوف و خطر پاکستان آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھیلوں کیلیے محفوظ ملک ہے،ہماری مزید ٹیمیں بھی آئیں گی۔
ادھر وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیر زادہ نے کہا کہ سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد سے دنیا کو واضح پیغام گیا کہ پاکستان کھیلوں کیلیے محفوظ ملک بن چکا اور عوام سپورٹس سے لگاؤ رکھتے ہیں، ہم نے سری لنکا کو دعوت دی ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان بھیجیں،ہمارا سری لنکا کے ساتھ دل کا رشتہ ہے، دیگر کھیلوں میں بھی روابط بڑھائیں گے، زمبابوے کے ساتھ اچھا تعلق ہے، اس کی ٹیم بھی آئے گی۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک میں امن قائم کرنے کیلیے فورسز نے بڑی قربانیاں دی ہیں، یہاں پر غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد شروع ہوگئی، پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ اب ختم ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ سری لنکا کے بعد ویسٹ انڈیز سمیت دیگر ٹیمیں بھی آئیں گی۔
سری لنکا نے پاکستان کا روشن چہرہ دنیا پر اُجاگرکردیا،محبتوں کے پھول سمیٹ کرسری لنکن کرکٹرز رخصت ہوگئے۔
مارچ 2009میں لاہور کے لبرٹی چوک پر سری لنکن ٹیم دہشت گردوں کا نشانہ بنی تو پاکستان کے میدان ویران ہوگئے، زمبابوے کی 2015میں محدود اوورز کے میچز میں میزبانی بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی، رواں سال پی ایس ایل فائنل کے بعد ورلڈ الیون نے دورے سے اعتماد کی بحالی کا سفر تیز تر کردیا، سری لنکا نے واحد ٹی ٹوئنٹی میچ لاہور میں کھیلنے کی حامی بھری تو کئی کرکٹرز نے انکار کردیا، مختصر دورے پر خدشات کے بادل منڈلانے لگے۔
سری لنکن حکومت خاص طور پر کرکٹ بورڈ کے معاملات بھی دیکھنے والے وزیر کھیل دیا سری جیا سیکرا نے بڑا بہادرانہ فیصلہ کیا کہ ابوظبی میں دونوں میچز کیلیے اسکواڈ میں بھی وہی شامل ہوگا جو لاہور جانے کیلیے تیار ہو،بالآخر اتوار کو یہ تاریخی دن آہی گیا۔
سری لنکن کرکٹرز پر حملے کے بعد ہی پاکستان پر کرکٹ کے دروازے بند ہوئے تھے،بحالی کے عمل میں اس ملک کا دورہ کرنے والی پہلی بڑی ٹیم بھی آئی لینڈرز ہی بنے،اتوار کو میچ ختم ہونے کے بعد شعیب ملک پریس کانفرنس میں آئے، سری لنکن ٹیم میں سے کسی کو نہیں بلایا گیااس کی وجہ یہ تھی کہ مہمان کرکٹرز نے قذافی اسٹیڈیم میں ڈنرکے بعد ہی رخت سفر باندھ لیا تھا،وہیں سے انھیں سخت سکیورٹی حصار میں علامہ اقبال ایئرپورٹ پہنچایا گیا جہاں اسٹیٹ گیسٹ لاؤنج میں چند گھنٹے آرام کے بعد نجی ایئرلائن کی پرواز سے 3 بجکر 30 منٹ پر براستہ دبئی کولمبو پہنچ گئے۔
مشکل وقت میں پاکستان نے سری لنکا کی مدد کرتے ہوئے خوف کی دیوار پھلانگ کر اس وقت میچز کھیلے جب آسٹریلیا اور دیگر کئی ٹیمیں انکار کررہی تھیں،آئی لینڈرز نے اس مہربانی کا بدلہ چکاتے ہوئے پاکستانی شائقین کے دل جیت لیے اور یہاں سے ڈھیروں پیار سمیٹ کر رخصت ہوئے، ایئرپورٹ پر مہمان کرکٹرز کے چہروں پر ایک احساس تفاخر دیکھا گیا، وہ انتہائی خوشگوار موڈ میں نظر آئے اور آپس میں ہنسی مذاق بھی کرتے رہے۔
دوسری جانب اس میچ کو ممکن بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے سری لنکن وزیر کھیل دیا سری جیاسیکرا نے اسلام آباد میں وفاقی وزیربرائے بین الصوبائی رابطہ امور ریاض حسین پیرزادہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو میں انھوں نے کہا کہ 8سال بعد سری لنکن کرکٹ ٹیم کی دوبارہ آمد پر بہت خوشی ہے، پاکستان نے مشکل وقت میں ہمیشہ ہمارا بھرپور ساتھ دیا، اب ہماری باری تھی، میزبان حکومت نے بھرپور تعاون اور سیکیورٹی سمیت بہترین انتظامات کیے، دیگر ملکوں کی ٹیمیں بھی بلا خوف و خطر پاکستان آئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھیلوں کیلیے محفوظ ملک ہے،ہماری مزید ٹیمیں بھی آئیں گی۔
ادھر وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض پیر زادہ نے کہا کہ سری لنکن ٹیم کی پاکستان آمد سے دنیا کو واضح پیغام گیا کہ پاکستان کھیلوں کیلیے محفوظ ملک بن چکا اور عوام سپورٹس سے لگاؤ رکھتے ہیں، ہم نے سری لنکا کو دعوت دی ہے کہ اپنے کھلاڑیوں کو پاکستان بھیجیں،ہمارا سری لنکا کے ساتھ دل کا رشتہ ہے، دیگر کھیلوں میں بھی روابط بڑھائیں گے، زمبابوے کے ساتھ اچھا تعلق ہے، اس کی ٹیم بھی آئے گی۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ ملک میں امن قائم کرنے کیلیے فورسز نے بڑی قربانیاں دی ہیں، یہاں پر غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد شروع ہوگئی، پاکستان کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ اب ختم ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ سری لنکا کے بعد ویسٹ انڈیز سمیت دیگر ٹیمیں بھی آئیں گی۔