بنگلہ دیش جھڑپوں پر قابو پانے کیلیے فوج طلب ہلاکتیں 70 ہوگئیں

سرکاری عمارتوں اورتھانوں پر حملے،امریکا کی بنگلہ دیش میں جاری پر تشدد واقعات پر تشویش، مظاہرین سے پرامن رہنے کی اپیل.

ڈھاکا:بوگرہ میں جماعت اسلامی کے کے رہنما کو سزائے موت کے خلاف ہڑتال کے دن لاٹھیوں سے مسلح افراد دکانوں کے شٹر توڑ رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ایک ٹریبونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سزائے موت سنائے جانے کے بعد شروع ہونے والا احتجاج اور پر تشدد ہنگامے جاری ہیں۔

پرتشدد مظاہروں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے بعدحکومت نے فوج طلب کرلی ہے۔اتوار کوملک کے مختلف حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران 16افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ آئی این پی کے مطابق مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 70کے قریب پہنچ گئی۔ ذرائع کے مطابق اتوارکی صبح شمالی علاقے شاہ جہاں پورمیں 5 ہزار کے قریب مظاہرین نے پولیس اسٹیشن پردھاوا بول دیا انھیں منتشر کرنے کیلیے پولیس نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 4 مظاہرین ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے ۔




گوداگری کے شمال مغربی قصبے میں مظاہرین ہاتھوں میں پتھر اورڈنڈے اٹھائے پولیس اسٹیشن پرچڑھ دوڑے، مظاہرین کوروکنے کیلیے پولیس کی فائرنگ سے مزید 4 مظاہرین مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق حساس علاقوں میں فوج کوتعینات کردیا گیاہے۔ ثنانیوز کے مطابق ہنگاموں میں مزید 16افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مقامی اخبار ڈیلی اسٹار نیوز کے مطابق جوائے پورہ میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ این این آئی نے برطانوی میڈیاکے حوالے سے بتایاکہ عدالتی فیصلے کے خلاف جماعتِ اسلامی نے اتوار سے 2روزہ ہڑتال کی اپیل کی تھی۔

ملک کے مختلف حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اتوار کو ملک کے شمالی علاقے بوگرہ میں جماعتِ اسلامی کے حامیوں نے تھانوں اور سرکاری عمارات کو نشانہ بنایا۔ ان پرتشدد جھڑپوں میں 6 افراد ہلاک اور 40 افراد زخمی بھی ہوئے۔اس کے علاوہ 2 افراد راج شاہی میں جھڑپوں کے دوران مارے گئے۔ امریکا نے بنگلہ دیش میں جاری پر تشدد واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مظاہرین کو پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ جنگی جرائم کے الزام کے تحت جن افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے ان میں سے 8 کا تعلق جماعت اسلامی جبکہ2 کا تعلق حزب اختلاف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سے ہے۔
Load Next Story