ملزم حماد صدیقی کے دبئی میں پکڑے جانے سے سندھ پولیس بے خبر
5دن گزر گئے،وفاق نے ابھی تک کچھ نہیں بتایا کہ ملزم گرفتار ہوا ہے یا نہیں، سندھ پولیس
حمادصدیقی سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا مرکزی ملزم ہے،250 افرادجل کرجاں بحق ہوئے تھے۔ فوٹو: فائل
بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آگ لگانے والے مرکزی ملزم حماد صدیقی کے دبئی میں پکڑے جانے کے حوالے سے سندھ پولیس 5 دن گزر جانے کے باوجود بے خبر ہے۔
ملزم حماد صدیقی سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا مرکزی ملزم ہے اس کے باوجود سندھ پولیس نے ملزم کے حوالے سے چپ سادھ لے رکھی ہے ایک پولیس افسر نے اپنا نام نہ لینے کی شرط پر بتایا کہ ملزم کو دبئی میں گرفتار کیا تاہم سرکاری سطح پر سندھ پولیس کو کوئی لیٹر نہیں ملا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ ملزم دبئی میں گرفتار ہوچکا ہے جس کو تحویل میں لینے کے لیے ٹیم دبئی روانہ کی جائے۔
ذرائع نے بتایا ملزم حماد صدیقی کو دبئی پولیس نے 26 ستمبر کو ایک ہوٹل پر چھاپہ مارکر پکڑا تھا ،ملزم کی گرفتاری کے خبر کراچی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی پانچ دن گزرنے کے باوجود سندھ پولیس کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ملزم حماد صدیقی دبئی میں گرفتار ہوا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 میں نامعلوم شرپسندوں نے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹر میں آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں250سے زائد افراد جل کرجاں بحق ہوگئے تھے پولیس نے ابتدائی تفتیش میں واقعے کو اتفاقی قرار دیا تھا، تفتیش چلنے پر پتہ لگا کہ واقعہ اتفاقی نہیں بلکہ بھتہ نہ دینے پر نامعلوم شرپسندوں نے فیکڑی میں کیمیکل چھڑک کر آگ لگا دی تھی جبکہ ڈیڑھ سال قبل بنکاک پولیس نے ملزم رحمان عرف بھولا کو گرفتار کرکے پاکستان حکومت کے حوالے کیا تھا جو اس وقت جیل میں قید ہے جس سے دوران تفتیش معلوم ہوا تھا کہ فیکٹری کو آگ لگانے کا حکم ایم کیو ایم لندن کے اہم ممبر حماد صدیقی نے دیا تھا، ملزم حماد صدیقی کراچیآپریشن کے بعد ملک سے فرار ہوگیا تھا۔
ملزم حماد صدیقی سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا مرکزی ملزم ہے اس کے باوجود سندھ پولیس نے ملزم کے حوالے سے چپ سادھ لے رکھی ہے ایک پولیس افسر نے اپنا نام نہ لینے کی شرط پر بتایا کہ ملزم کو دبئی میں گرفتار کیا تاہم سرکاری سطح پر سندھ پولیس کو کوئی لیٹر نہیں ملا جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ ملزم دبئی میں گرفتار ہوچکا ہے جس کو تحویل میں لینے کے لیے ٹیم دبئی روانہ کی جائے۔
ذرائع نے بتایا ملزم حماد صدیقی کو دبئی پولیس نے 26 ستمبر کو ایک ہوٹل پر چھاپہ مارکر پکڑا تھا ،ملزم کی گرفتاری کے خبر کراچی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی پانچ دن گزرنے کے باوجود سندھ پولیس کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ ملزم حماد صدیقی دبئی میں گرفتار ہوا ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 میں نامعلوم شرپسندوں نے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹر میں آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں250سے زائد افراد جل کرجاں بحق ہوگئے تھے پولیس نے ابتدائی تفتیش میں واقعے کو اتفاقی قرار دیا تھا، تفتیش چلنے پر پتہ لگا کہ واقعہ اتفاقی نہیں بلکہ بھتہ نہ دینے پر نامعلوم شرپسندوں نے فیکڑی میں کیمیکل چھڑک کر آگ لگا دی تھی جبکہ ڈیڑھ سال قبل بنکاک پولیس نے ملزم رحمان عرف بھولا کو گرفتار کرکے پاکستان حکومت کے حوالے کیا تھا جو اس وقت جیل میں قید ہے جس سے دوران تفتیش معلوم ہوا تھا کہ فیکٹری کو آگ لگانے کا حکم ایم کیو ایم لندن کے اہم ممبر حماد صدیقی نے دیا تھا، ملزم حماد صدیقی کراچیآپریشن کے بعد ملک سے فرار ہوگیا تھا۔