بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال

قرضوں کے بوجھ نے حکومتی بجٹ کو شدید خسارے سے دوچار کر دیا ہے۔

روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث اندرونی یا بیرونی طور پر ایک پیسہ بھی قرضہ لیے بغیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اربوں روپے کا خود بخود اضافہ ہو رہا ہے۔ فوٹو: فائل

موجودہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال غیر تسلی بخش رہی۔ توانائی کے بحران نے صنعتی سرگرمیوں کو انتہائی سست کردیا ۔ اسٹیٹ بینک کی ستمبر 2012 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا قرضہ 15.2 ٹریلین روپے تک جا پہنچا جو جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کا 68.4 فیصد ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملکی معیشت کو قابو میں رکھنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ملکی قرضہ جی ڈی پی کے 60 فیصد سے نہیں بڑھنا چاہیے۔

روپے کی گرتی ہوئی قدر کے باعث اندرونی یا بیرونی طور پر ایک پیسہ بھی قرضہ لیے بغیر ملکی قرضوں کے بوجھ میں اربوں روپے کا خود بخود اضافہ ہو رہا ہے۔ قرضوں کے بوجھ نے حکومتی بجٹ کو شدید خسارے سے دوچار کر دیا ہے۔ حکومت ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث اس سے باہر نکلنے کی سکت نہیں رکھتی، بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے غیر ملکی قرضوں کی سیڑھی کو تھامے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے نے معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔


اس وقت ڈالر تقریباً 98 روپے تک جا پہنچا ہے۔ ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق وزارت خزانہ کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ حکومت نے آیندہ مالی سال 2013-14 کے لیے روپے کے مقابلے میں ڈالر کی سرکاری قیمت 99 روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ملک کے ذمے واجب الادا غیر ملکی قرضوں میں اربوں روپے کا خود بخود اضافہ ہو جائے گا جب کہ آیندہ مالی سال 2013-14 کے دوران غیر ممالک سے پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم کے نہ بڑھنے اور بیرونی امداد و قرضے کے بغیر اوپن مارکیٹ میں ڈالر 105 روپے تک جا پہنچنے کا خطرہ ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ جائے گا۔آیندہ مالی سال عوام کے لیے خوشخبری لانے کے بجائے مزید معاشی مشکلات اور مسائل لے کر آئے گا۔ ان پانچ سالوں کے دوران ریلوے بدحال ہو گیاہے۔

ریلوے کے وزیر شکوہ سنج ہیں کہ کابینہ کا منظور کردہ ریلوے کا بیل آئوٹ پیکیج 11 ارب روپے تاحال نہیں ملا مگر انھیں یہ امر مدنظر رکھنا چاہیے کہ انھیں آج سے پانچ سال قبل ریلوے جس حالت میں ملی تھی وہ اسے بھی برقرار نہیں رکھ سکے۔ سرکاری سطح پر بدعنوانی اور نااہلی کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ ملک کا کوئی بھی شعبہ بہتری کی جانب قدم نہیں بڑھا سکا۔ کراچی جو پاکستان کا تجارتی حب ہے' وہاں اہم تجارتی مراکز میں پراپرٹی کی قیمت میں 50 فیصد تک کمی آ گئی ہے۔گو موجودہ حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں معاشی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے' بھارت سے تجارت بڑھانے کے لیے معاہدے کیے مگر بم دھماکوں دہشت گردی اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر وہ صنعت و زراعت سمیت کسی بھی شعبے میں انقلاب نہیں لا سکی۔

سابق وزیر خزانہ و ماہر اقتصادیات ڈاکٹر سلمان شاہ تو ملکی معاشی صورتحال کی ایک خوفناک تصویر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ملکی معاملات چلانے کے لیے آئی ایم ایف سے رابطہ نہ کیا تو ادائیگیوں کا توازن بری طرح متاثر ہو سکتا ہے، آنے والی نگران حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج غیر ملکی ادائیگیاں ہوں گی، اگر آیندہ پانچ سال کے دوران بڑے آبی ذخائر نہ بنے تو پاکستان میں نہ بجلی ملے گی اور نہ زراعت ہی کے لیے پانی ہو گا' توانائی کا بحران دور کرنے کے لیے بڑے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دینا ہو گی۔ پاکستان کو قدرت نے قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔ حکومت ڈیموں کی تعمیر 'امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور کاروباری معاملات کو ترقی دینے کی جانب توجہ دے تو پاکستان کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال آج بھی بہتری کی جانب رواں ہو سکتی ہے۔
Load Next Story