چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
سائنسی طرز فکر مایوس سے مایوس ترین حالات میں اپنا راستہ نکال لیتی ہے
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
دو نمبر معاشروں میں انسان کی عظمت، انسان کی بڑائی، اس کے احترام کا یقین، اس کی صلاحیتوں، اس کے وژن، اس کے ظرف، اس کی وسعت نظری، اس کی خدمات، طبقاتی استحصال کے خلاف اس کی فکری اور عملی کاوشوں اور قربانیوں سے نہیں بلکہ اس کی دولت، اس کے اختیارات، اس کی پی آر، اس کے حلقہ اثر، اس کی طاقت سے کیا جاتا ہے۔
ایسے معاشروں میں قابل احترام، قابل تعظیم، قابل قدر، قابل تقلید لوگ گمنام زندگی گزارتے ہیں اور خاموشی سے شہر خموشاں میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے کئی محترم لوگوں نے پچھلے چند برسوں میں شہر خموشاں آباد کرلیے، ان میں بسنے والوں میں تازہ شہری ہمارے یار عزیز اعز عزیزی ہیں جو پچھلے ہفتے ہم سے غیر متوقع طور پر بچھڑ گئے۔ میں بھائی عزیزی کے جنازے میں تو شریک نہ ہوسکا کیونکہ مجھے ان کی رحلت کی اطلاع دیر سے ملی، البتہ میں ان کے سوئم میں بہرحال شریک رہا۔
ملک کے معروف محقق اور عزیزی کے کزن حضرت مظہر جمیل نے مجھے بتایا کہ عزیزی نے اپنے روز کے معمول کے مطابق واک بھی کی اور سب سے ہنستے بولتے بھی رہے کہ رات میں انھیں اچانک سینے میں کچھ تکلیف محسوس ہوئی اور انھوں نے اپنے بچوں سے کہا کہ وہ انھیں کارڈیو لے چلیں، چنانچہ انھیں کارڈیو لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انھیں دل کی کوئی تکلیف نہیں، لیکن تکلیف برقرار رہی اور بیٹے انھیں ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال لیے پھر تے رہے، آخر کار ایک نجی اسپتال میں رات دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔
اعزعزیزی کا تعلق حیدرآباد دکن کے ایک معزز گھرانے سے تھا، پاکستان آنے کے بعد ان کا گھرانا ترقی پسند سیاست کا حصہ بنا، ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر اعزاز نظیر بائیں بازو کی سیاست میں بہت فعال رہے، ٹریڈ یونین ان کا پسندیدہ سیاسی میدان تھا، مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں انھیں اپنی زندگی کا بڑا حصہ زنداں میں گزارنا پڑا، غوث بخش بزنجو، ولی خان، عطاء اللہ مینگل وغیرہ کے ساتھ نیب میں کام کرتے رہے، بڑے بھائی کی سیاست کا اثر چھوٹے بھائی پر بھی پڑا اور عزیزی حسن ناصر شہید کے قافلے میں شامل ہوئے اور حسن ناصر کی اسیری اور ان کی روپوشی کے دوران ان کی ضرورتیں پوری کرتے رہے اور رابطوں کا ذریعہ بھی بنے رہے۔
عزیزی ایک وضع دار انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین آرٹسٹ بھی تھے۔ وہ نہ صرف اعلیٰ پائے کے پورٹریٹ بناتے تھے بلکہ لکڑی اور پتھر کو تراش کر ایسے شاندار مجسمے بھی بناتے تھے جنھیں دیکھ کر اصل اور نقل میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔ مرحوم نے کئی دوستوں کے پورٹریٹ بنائے، لیکن اپنی ان ساری خوبیوں کے باوجود گوشہ گمنامی میں زندہ رہے اور خاموشی سے رخصت ہوگئے۔ اس دو نمبری معاشے میں اول درجے کے لوگوں کی یہی تقدیر ہے، عزیزی کی زندگی کا بڑا حصہ اس دو نمبری معاشرے کو ایک نمبری بنانے میں گزر گیا اور ''اے بسا آرزو کے خاک شد'' کا ورد کرتے ہوئے پیوند خاک ہوگئے۔ جانے کتنے عزیزی ان 65 برسوں میں رزق خاک ہوئے ۔ میں حیران ہوں کہ صاحب کردار، صاحب بصیرت، صاحب وژن انسانوں کی ناقدری اور گمنامی کا یہ اذیت ناک سلسلہ کب تک چلتا رہے گا۔
عزیزی کے سوئم میں کئی روشن خیال بلکہ انقلابی دوستوں اور نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم عشروں سے کسی دوست کے جنازے، سوئم، برسی، یوم مئی، یوم حسن ناصر یا کسی چھوٹے موٹے مظاہرے میں ہی ملتے ہیں اور انقلاب کی یاد تازہ کرکے رخصت ہوجاتے ہیں اور اس انقلابیت کی وجہ سے دو نمبری کلچر میں مزید استحکام آرہا ہے اور دو نمبری سیاست مزید مستحکم ہوتی چلی جارہی ہے۔ ہماری اس نااہلی کی وجہ سے اربوں کھربوں کی کرپشن کے ملزمان سیاسی سلطنتوں کے اکبر اعظم اور راجہ رنجیت سنگھ بن جاتے ہیں اور طاہر القادری جیسے دہری شہریت رکھنے والے شہری منٹوں میں شہرت کے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں اور بے چارے عوام، عوامی سیاست کے دعویداروں کو تلاش کرتے رہ جاتے ہیں اور ہم زندہ اور مرحوم عزیزیوں کی طرح گوشہ گمنامی میں پڑے رہتے ہیں۔
انقلاب کوئی پارٹ ٹائم جاب ہے نہ تفریحی مشغلہ، یہ دن کے 24 گھنٹے کی جدوجہد، خلوص اور قربانیاں مانگتا ہے۔ اب انڈرگراؤنڈ سرگرمیوں کا دور بھی نہیں رہا۔ اب پارٹی پارٹی کھیلنے کا زمانہ بھی بدل گیا، اب ہر سیاسی، مذہبی، لسانی اور قومیتی سیاست، زبان پر انقلاب کے نعرے لیے پھر رہی ہے ہر سیاسی جماعت، ہر مذہبی جماعت آج انقلاب اور نظام کی تبدیلی کا گیت گا رہی ہے۔ بلاشبہ ان مداریوں کی زبانوں، ان بہروپیوں کے منشوروں تک نظام کی تبدیلی کی آواز پہنچانے میں مخلص اور ایماندار حسن ناصروں اور نذیر عباسیوں کی قربانیوں کا بڑا ہاتھ ہے، آج ان ہی عظیم انسانوں کی بے بہا قربانیوں کے نتیجے میں ہر طرف چہرے نہیں نظام بدلو کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں، لیکن آج کے سیاسی منظرنامے میں کوئی حسن ناصر کوئی نذیر عباسی نظر نہیں آتا جو آج کے ''نظام بدلو'' کی آوازوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچاسکے۔
کوئی سبط حسن، کوئی غوث بخش بزنجو نظر نہیں آتا جو ہم پارٹ ٹائم انقلابیوں کو انقلاب کا مطلب سمجھائے اور انقلاب کی اسٹرٹیجی بناکر دے، کوئی حبیب جالب نظر نہیں آتا جو عوام کے ہجوموں میں حرکت اور زندگی کی لہر دوڑادے، کوئی میجر اسحٰق نظر نہیں آتا جو دیہی علاقوں کو ہشت نگروں میں تبدیل کردے، کوئی حیدر بخش جتوئی نظر نہیں آتا جو شہر شہر کسان اور ہاری کانفرنسیں کرکے ہاریوں اور کسانوں کو جگائے اور منظم کرے، کوئی فیض احمد فیض نظر نہیں آتا جو ''چلے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی'' کے دھیمے سروں سے ماضی اور جہل کے دھندلکوں میں بسنے والوں اور سونے والوں کو جگاسکے۔ کوئی ''کوئے یار سے نکلے تو تو سوئے دار چلے'' کی آواز سنائی نہیں دیتی اور ''ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ، جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے'' کا کوئی ترانہ سنائی نہیں دیتا، کوئی ایسی توانا آواز سنائی نہیں دیتی جو ''دنیا کے مزدورو! ایک ہوجاؤ'' کا نعرہ لگاتی ہو، کوئی سعید رضا سعید نظر نہیں آتا جو ''یارو! ایک لڑائی ہے واشنگٹن سے منگھو پیر تک'' گنگنا تا نظر آئے۔
سائنسی طرز فکر پر پیچیدہ سیاسی حالات پر دو نمبری سیاست ہر نظریاتی اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر عوامی سیاست کرنے والوں کو راستہ دکھاتی ہے۔ سائنسی طرز فکر مایوس سے مایوس ترین حالات میں اپنا راستہ نکال لیتی ہے، لیکن جب انقلاب پارٹ ٹائم جاب بن جائے، جب انقلابی لوگ ایک دوسرے سے صرف عزیزیوں کے جنازوں میں، مئی ڈے، یوم حسن ناصر پر یا کسی چھوٹے موٹے مظاہرے میں ریگل اسٹاپ پر یا پریس کلب پر ملنے لگیں تو پھر انقلاب کی باتیں انقلابی جدوجہد ایک احمقانہ رومان ہی ہوسکتی ہیں۔
جب ہمارے پاس وسائل نہ ہوں، جب ہمارے پاس کارکن نہ ہوں، جب ہمارے ساتھ عوام نہ ہوں، جب ہم ایسی سیاسی طاقتوں کو جو تبدیلی کی بات کرتی ہیں، اپنے ساتھ ملانے کی طاقت اور صلاحیت نہیں رکھتے تو ان ٹکڑوں میں بٹی چھوٹی چھوٹی طاقتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات کے حصار سے نکال کر اور نکل کر ایک بڑے مرکز پر جمع ہونا چاہیے، اگر ہم ایسا مرکز نہیں بناسکتے تو ہمیں ان طاقتور سیاسی جماعتوں سے اتحاد بنانا پڑے گا جو تبدیلی زرعی اصلاحات، انتخابی اصلاحات اور کرپٹ سیاست کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے، اگر یہ طاقتیں منافقت کررہی ہیں تو ان کی منافقت طشت ازبام ہوجائے گی، اگر یہ طاقتیں نیم دلانہ نعرے لگارہی ہیں تو ان کے نعروں میں استقامت اور استحکام آجائے گا۔ یہی ایک طریقہ ہے حسن ناصروں، نذیر عباسیوں کی قربانیوں اور اعزعزیزیوں کی انقلاب دوستی کو خراج تحسین پیش کرنے کا اور اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو دو نمبری سیاست سے نجات دلانے کا۔
ایسے معاشروں میں قابل احترام، قابل تعظیم، قابل قدر، قابل تقلید لوگ گمنام زندگی گزارتے ہیں اور خاموشی سے شہر خموشاں میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے کئی محترم لوگوں نے پچھلے چند برسوں میں شہر خموشاں آباد کرلیے، ان میں بسنے والوں میں تازہ شہری ہمارے یار عزیز اعز عزیزی ہیں جو پچھلے ہفتے ہم سے غیر متوقع طور پر بچھڑ گئے۔ میں بھائی عزیزی کے جنازے میں تو شریک نہ ہوسکا کیونکہ مجھے ان کی رحلت کی اطلاع دیر سے ملی، البتہ میں ان کے سوئم میں بہرحال شریک رہا۔
ملک کے معروف محقق اور عزیزی کے کزن حضرت مظہر جمیل نے مجھے بتایا کہ عزیزی نے اپنے روز کے معمول کے مطابق واک بھی کی اور سب سے ہنستے بولتے بھی رہے کہ رات میں انھیں اچانک سینے میں کچھ تکلیف محسوس ہوئی اور انھوں نے اپنے بچوں سے کہا کہ وہ انھیں کارڈیو لے چلیں، چنانچہ انھیں کارڈیو لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ انھیں دل کی کوئی تکلیف نہیں، لیکن تکلیف برقرار رہی اور بیٹے انھیں ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال لیے پھر تے رہے، آخر کار ایک نجی اسپتال میں رات دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔
اعزعزیزی کا تعلق حیدرآباد دکن کے ایک معزز گھرانے سے تھا، پاکستان آنے کے بعد ان کا گھرانا ترقی پسند سیاست کا حصہ بنا، ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر اعزاز نظیر بائیں بازو کی سیاست میں بہت فعال رہے، ٹریڈ یونین ان کا پسندیدہ سیاسی میدان تھا، مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں انھیں اپنی زندگی کا بڑا حصہ زنداں میں گزارنا پڑا، غوث بخش بزنجو، ولی خان، عطاء اللہ مینگل وغیرہ کے ساتھ نیب میں کام کرتے رہے، بڑے بھائی کی سیاست کا اثر چھوٹے بھائی پر بھی پڑا اور عزیزی حسن ناصر شہید کے قافلے میں شامل ہوئے اور حسن ناصر کی اسیری اور ان کی روپوشی کے دوران ان کی ضرورتیں پوری کرتے رہے اور رابطوں کا ذریعہ بھی بنے رہے۔
عزیزی ایک وضع دار انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین آرٹسٹ بھی تھے۔ وہ نہ صرف اعلیٰ پائے کے پورٹریٹ بناتے تھے بلکہ لکڑی اور پتھر کو تراش کر ایسے شاندار مجسمے بھی بناتے تھے جنھیں دیکھ کر اصل اور نقل میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔ مرحوم نے کئی دوستوں کے پورٹریٹ بنائے، لیکن اپنی ان ساری خوبیوں کے باوجود گوشہ گمنامی میں زندہ رہے اور خاموشی سے رخصت ہوگئے۔ اس دو نمبری معاشے میں اول درجے کے لوگوں کی یہی تقدیر ہے، عزیزی کی زندگی کا بڑا حصہ اس دو نمبری معاشرے کو ایک نمبری بنانے میں گزر گیا اور ''اے بسا آرزو کے خاک شد'' کا ورد کرتے ہوئے پیوند خاک ہوگئے۔ جانے کتنے عزیزی ان 65 برسوں میں رزق خاک ہوئے ۔ میں حیران ہوں کہ صاحب کردار، صاحب بصیرت، صاحب وژن انسانوں کی ناقدری اور گمنامی کا یہ اذیت ناک سلسلہ کب تک چلتا رہے گا۔
عزیزی کے سوئم میں کئی روشن خیال بلکہ انقلابی دوستوں اور نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم عشروں سے کسی دوست کے جنازے، سوئم، برسی، یوم مئی، یوم حسن ناصر یا کسی چھوٹے موٹے مظاہرے میں ہی ملتے ہیں اور انقلاب کی یاد تازہ کرکے رخصت ہوجاتے ہیں اور اس انقلابیت کی وجہ سے دو نمبری کلچر میں مزید استحکام آرہا ہے اور دو نمبری سیاست مزید مستحکم ہوتی چلی جارہی ہے۔ ہماری اس نااہلی کی وجہ سے اربوں کھربوں کی کرپشن کے ملزمان سیاسی سلطنتوں کے اکبر اعظم اور راجہ رنجیت سنگھ بن جاتے ہیں اور طاہر القادری جیسے دہری شہریت رکھنے والے شہری منٹوں میں شہرت کے آسمان پر پہنچ جاتے ہیں اور بے چارے عوام، عوامی سیاست کے دعویداروں کو تلاش کرتے رہ جاتے ہیں اور ہم زندہ اور مرحوم عزیزیوں کی طرح گوشہ گمنامی میں پڑے رہتے ہیں۔
انقلاب کوئی پارٹ ٹائم جاب ہے نہ تفریحی مشغلہ، یہ دن کے 24 گھنٹے کی جدوجہد، خلوص اور قربانیاں مانگتا ہے۔ اب انڈرگراؤنڈ سرگرمیوں کا دور بھی نہیں رہا۔ اب پارٹی پارٹی کھیلنے کا زمانہ بھی بدل گیا، اب ہر سیاسی، مذہبی، لسانی اور قومیتی سیاست، زبان پر انقلاب کے نعرے لیے پھر رہی ہے ہر سیاسی جماعت، ہر مذہبی جماعت آج انقلاب اور نظام کی تبدیلی کا گیت گا رہی ہے۔ بلاشبہ ان مداریوں کی زبانوں، ان بہروپیوں کے منشوروں تک نظام کی تبدیلی کی آواز پہنچانے میں مخلص اور ایماندار حسن ناصروں اور نذیر عباسیوں کی قربانیوں کا بڑا ہاتھ ہے، آج ان ہی عظیم انسانوں کی بے بہا قربانیوں کے نتیجے میں ہر طرف چہرے نہیں نظام بدلو کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں، لیکن آج کے سیاسی منظرنامے میں کوئی حسن ناصر کوئی نذیر عباسی نظر نہیں آتا جو آج کے ''نظام بدلو'' کی آوازوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچاسکے۔
کوئی سبط حسن، کوئی غوث بخش بزنجو نظر نہیں آتا جو ہم پارٹ ٹائم انقلابیوں کو انقلاب کا مطلب سمجھائے اور انقلاب کی اسٹرٹیجی بناکر دے، کوئی حبیب جالب نظر نہیں آتا جو عوام کے ہجوموں میں حرکت اور زندگی کی لہر دوڑادے، کوئی میجر اسحٰق نظر نہیں آتا جو دیہی علاقوں کو ہشت نگروں میں تبدیل کردے، کوئی حیدر بخش جتوئی نظر نہیں آتا جو شہر شہر کسان اور ہاری کانفرنسیں کرکے ہاریوں اور کسانوں کو جگائے اور منظم کرے، کوئی فیض احمد فیض نظر نہیں آتا جو ''چلے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی'' کے دھیمے سروں سے ماضی اور جہل کے دھندلکوں میں بسنے والوں اور سونے والوں کو جگاسکے۔ کوئی ''کوئے یار سے نکلے تو تو سوئے دار چلے'' کی آواز سنائی نہیں دیتی اور ''ستون دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ، جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے'' کا کوئی ترانہ سنائی نہیں دیتا، کوئی ایسی توانا آواز سنائی نہیں دیتی جو ''دنیا کے مزدورو! ایک ہوجاؤ'' کا نعرہ لگاتی ہو، کوئی سعید رضا سعید نظر نہیں آتا جو ''یارو! ایک لڑائی ہے واشنگٹن سے منگھو پیر تک'' گنگنا تا نظر آئے۔
سائنسی طرز فکر پر پیچیدہ سیاسی حالات پر دو نمبری سیاست ہر نظریاتی اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر عوامی سیاست کرنے والوں کو راستہ دکھاتی ہے۔ سائنسی طرز فکر مایوس سے مایوس ترین حالات میں اپنا راستہ نکال لیتی ہے، لیکن جب انقلاب پارٹ ٹائم جاب بن جائے، جب انقلابی لوگ ایک دوسرے سے صرف عزیزیوں کے جنازوں میں، مئی ڈے، یوم حسن ناصر پر یا کسی چھوٹے موٹے مظاہرے میں ریگل اسٹاپ پر یا پریس کلب پر ملنے لگیں تو پھر انقلاب کی باتیں انقلابی جدوجہد ایک احمقانہ رومان ہی ہوسکتی ہیں۔
جب ہمارے پاس وسائل نہ ہوں، جب ہمارے پاس کارکن نہ ہوں، جب ہمارے ساتھ عوام نہ ہوں، جب ہم ایسی سیاسی طاقتوں کو جو تبدیلی کی بات کرتی ہیں، اپنے ساتھ ملانے کی طاقت اور صلاحیت نہیں رکھتے تو ان ٹکڑوں میں بٹی چھوٹی چھوٹی طاقتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات کے حصار سے نکال کر اور نکل کر ایک بڑے مرکز پر جمع ہونا چاہیے، اگر ہم ایسا مرکز نہیں بناسکتے تو ہمیں ان طاقتور سیاسی جماعتوں سے اتحاد بنانا پڑے گا جو تبدیلی زرعی اصلاحات، انتخابی اصلاحات اور کرپٹ سیاست کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے، اگر یہ طاقتیں منافقت کررہی ہیں تو ان کی منافقت طشت ازبام ہوجائے گی، اگر یہ طاقتیں نیم دلانہ نعرے لگارہی ہیں تو ان کے نعروں میں استقامت اور استحکام آجائے گا۔ یہی ایک طریقہ ہے حسن ناصروں، نذیر عباسیوں کی قربانیوں اور اعزعزیزیوں کی انقلاب دوستی کو خراج تحسین پیش کرنے کا اور اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو دو نمبری سیاست سے نجات دلانے کا۔