سانحہ عباس ٹاؤن متاثرین ملبے سے سامان جمع کرتے رہے
عباس ٹاؤن میں مقیم خاندانوں کو شہریوں اورسیاسی تنظیموں کی جانب سے متاثرین کیلیے کھانے پینے کی اشیا فراہم کی گئیں۔
عباس ٹا ؤن میں اتوارکوبم دھماکے سے ہونے والی تباہی کے بعد متاثرہ بلڈنگ کے فلیٹ میں ایک شخص بکھرا ہواسامان سمیٹ رہا ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس
عباس ٹا ؤن میں بم دھماکے کی تباہ کاریوں کے بعد پیرکوجائے وقوع پر قیامت خیز مناظر دیکھنے میں آئے۔
ابوالحسن اصفہانی روڈ پر قائم اقرا سٹی اور رابعہ فلاورکے فلیٹس اور دکانیں کھنڈر میں تبدیل ہوگئیں ، دھماکے کی تباہ کاریوں کے سبب فلیٹوں کے مکین جہاں اپنی زندگی بھرکی جمع پونجی سے محروم ہوئے ،وہیں ان کے سروں پرچھت رہی نہ پیروں کے نیچے زمین ،کئی درجن خاندان بے یا رومددگار ہیں اورسوال کررہے ہیں کہ اب وہ زندگی کے ایام کہاں اورکس طرح گزاریں گے اورکون ان کی دادرسی کرے گا۔
کھنڈر میں تبدیل ہونے والے انھی فلیٹوں کے مکین پیرکو اپنے گھروں میں ملبے کے نیچے دبے سامان کو ڈھونڈ تے اور جمع کرتے رہے ، بعض خاندان اپنے گھرکی تباہی اور سامان کی بربادی کو دیکھ کراپنے اوپر قابونہ رکھ سکے اور دل ہلادینے والی پرسوز آوازوںمیں آہ و بکاکرتے رہے، خواتین اپنے تباہ حال گھر کو دیکھ کرزار وقطار رو رہی تھیں ، متاثرین اپنے گھروں میں تباہی سے بچ جانے والاسامان اورکپڑے اکٹھاکررہے تھے جبکہ نوجوان سامان کو نیچے اتاررہے تھے اور پیرکی شام تک اقرا سٹی اور رابعہ فلاورکے تباہ حال فلیٹس سے اکثر خاندان دیگر مقامات پر منتقل ہوگئے۔
دوسری جانب شہریوں اورمختلف تنظیموں کی جانب سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رہا اور نوجوان ٹولیوں کی شکل میں فلیٹوں میں جاکرکھاناتقسیم کرتے رہے ، اتوارکو ہونے والے بم دھماکے کی شدت سے اقرا سٹی کی پہلی منزل کے بعض فلیٹوں کے کمرے زمین بوس ہوکرنیچے موجود دکانوں میں آگرے ہیں اوریہ بے بس خاندان دن بھر اپنے گھروں میں بچ جانیوالے سامان کی منتقلی میں مصروف رہے ''ایکسپریس'' نے جب جائے وقوع پرجا کراقرا سٹی کے فلیٹ D-401 کا دورہ کیا تو وہاں صاحب خانہ عبدالسلام (جنید)کی اہلیہ اپنے چند رشتے داروں کے ہمراہ ملبے سے اپنا سامان نکال رہی تھیں، زاروقطارروتے ہوئے انھوں نے ''ایکسپریس''کوبتا یا کہ ان کے گھرکا فرنیچر اور دیگر سامان تقریبا ًتباہ ہوچکا ہے ، چند کپڑے بچے ہیں جنھیں وہ جمع کررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتی کہ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہ کہاں جائیں گی اور زندگی کے شب وروز کہاں بسرہوں گے، عبدالسلام کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کے سرپرچھت بچی ہے اورنہ ہی پیروں کے نیچے زمین ہے اقراء سٹی کے فلیٹ D-301کے صاحب خانہ وقاراحمد کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت ان کا خاندان گھرمیں موجود نہیں تھا ۔
تاہم اب جب گھرپہنچے ہیں توگھرگھرنہیں رہا بلکہ کھنڈرمیں تبدیل ہوچکا ہے ،گھرکا سارا سامان الٹاپڑا ہے جس میں سے بچ جانے والی اشیا اکھٹی کی جارہی ہیں، D-402کے مکین اظہرعلی جعفری جواپنے گھرمیں سے چند بچی ہوئی اشیاء جمع کررہے تھے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ دھماکے سے ان کے والد اور والدہ دونوں شدید زخمی ہوئے ،والدہ کے جبڑے پرشدید چوٹیں آئیں ہیں اوران کاآپریشن کیاگیا ہے جبکہ وہ کچھ دیرکے لیے اپنے گھرآئیں ہیں تاکہ بچے ہوئے سامان کاجائزہ لے سکیں،متاثرین کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے سب کچھ تباہ کردیا، دہشت گردوں کیخلاف موثر کارروائی کی جائے۔
ابوالحسن اصفہانی روڈ پر قائم اقرا سٹی اور رابعہ فلاورکے فلیٹس اور دکانیں کھنڈر میں تبدیل ہوگئیں ، دھماکے کی تباہ کاریوں کے سبب فلیٹوں کے مکین جہاں اپنی زندگی بھرکی جمع پونجی سے محروم ہوئے ،وہیں ان کے سروں پرچھت رہی نہ پیروں کے نیچے زمین ،کئی درجن خاندان بے یا رومددگار ہیں اورسوال کررہے ہیں کہ اب وہ زندگی کے ایام کہاں اورکس طرح گزاریں گے اورکون ان کی دادرسی کرے گا۔
کھنڈر میں تبدیل ہونے والے انھی فلیٹوں کے مکین پیرکو اپنے گھروں میں ملبے کے نیچے دبے سامان کو ڈھونڈ تے اور جمع کرتے رہے ، بعض خاندان اپنے گھرکی تباہی اور سامان کی بربادی کو دیکھ کراپنے اوپر قابونہ رکھ سکے اور دل ہلادینے والی پرسوز آوازوںمیں آہ و بکاکرتے رہے، خواتین اپنے تباہ حال گھر کو دیکھ کرزار وقطار رو رہی تھیں ، متاثرین اپنے گھروں میں تباہی سے بچ جانے والاسامان اورکپڑے اکٹھاکررہے تھے جبکہ نوجوان سامان کو نیچے اتاررہے تھے اور پیرکی شام تک اقرا سٹی اور رابعہ فلاورکے تباہ حال فلیٹس سے اکثر خاندان دیگر مقامات پر منتقل ہوگئے۔
دوسری جانب شہریوں اورمختلف تنظیموں کی جانب سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے کھانے پینے کی اشیا کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری رہا اور نوجوان ٹولیوں کی شکل میں فلیٹوں میں جاکرکھاناتقسیم کرتے رہے ، اتوارکو ہونے والے بم دھماکے کی شدت سے اقرا سٹی کی پہلی منزل کے بعض فلیٹوں کے کمرے زمین بوس ہوکرنیچے موجود دکانوں میں آگرے ہیں اوریہ بے بس خاندان دن بھر اپنے گھروں میں بچ جانیوالے سامان کی منتقلی میں مصروف رہے ''ایکسپریس'' نے جب جائے وقوع پرجا کراقرا سٹی کے فلیٹ D-401 کا دورہ کیا تو وہاں صاحب خانہ عبدالسلام (جنید)کی اہلیہ اپنے چند رشتے داروں کے ہمراہ ملبے سے اپنا سامان نکال رہی تھیں، زاروقطارروتے ہوئے انھوں نے ''ایکسپریس''کوبتا یا کہ ان کے گھرکا فرنیچر اور دیگر سامان تقریبا ًتباہ ہوچکا ہے ، چند کپڑے بچے ہیں جنھیں وہ جمع کررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتی کہ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہ کہاں جائیں گی اور زندگی کے شب وروز کہاں بسرہوں گے، عبدالسلام کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ان کے سرپرچھت بچی ہے اورنہ ہی پیروں کے نیچے زمین ہے اقراء سٹی کے فلیٹ D-301کے صاحب خانہ وقاراحمد کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت ان کا خاندان گھرمیں موجود نہیں تھا ۔
تاہم اب جب گھرپہنچے ہیں توگھرگھرنہیں رہا بلکہ کھنڈرمیں تبدیل ہوچکا ہے ،گھرکا سارا سامان الٹاپڑا ہے جس میں سے بچ جانے والی اشیا اکھٹی کی جارہی ہیں، D-402کے مکین اظہرعلی جعفری جواپنے گھرمیں سے چند بچی ہوئی اشیاء جمع کررہے تھے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ دھماکے سے ان کے والد اور والدہ دونوں شدید زخمی ہوئے ،والدہ کے جبڑے پرشدید چوٹیں آئیں ہیں اوران کاآپریشن کیاگیا ہے جبکہ وہ کچھ دیرکے لیے اپنے گھرآئیں ہیں تاکہ بچے ہوئے سامان کاجائزہ لے سکیں،متاثرین کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے سب کچھ تباہ کردیا، دہشت گردوں کیخلاف موثر کارروائی کی جائے۔