دھماکے میں جاں بحق امتیاز رضوی فاؤنڈیشن کالج کے لیکچررتھے
اخترمہدی ڈیکوریشن کی دکان کے مالک اور علاقے کی معروف شخصیت تھے.
سانحہ عباس ٹائون میں جاں بحق ہونے والے اختر کی یاد گار تصویر ۔ فوٹو : فائل
عباس ٹاؤن دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے42سالہ اخترمہدی الحمراکیٹرنگ اینڈ ڈیکوریشن کے مالک اورعلاقے کی معروف شخصیت تھے۔
جودھماکے کے وقت اپنی دکان پر موجود تھے، دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے59سالہ عابد حسین پشاورسے اپنی قریبی عزیزہ کے چہلم میں شرکت کیلیے کراچی آئے تھے جودھماکے میںلقمہ اجل بن گئے، مزیدبراں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے لیکچررامتیاز رضوی گورنمنٹ فاؤنڈیشن کالج کے لیکچررتھے۔
''ایکسپریس''کوان کے کالج اساتذہ نے بتایاکہ مرحوم امتیاز رضوی محنتی اورشفیق استاد تھے اورایک سال قبل ہی کمیشن کاامتحان پاس کرکے کیمسٹری کے لیکچررمنتخب ہوئے تھے، الحمراکیٹرنگ اینڈ ڈیکوریشن کے مالک اخترمہدی کے بھتیجے عباس نے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ اخترمہدی کاکاروبارعباس ٹاؤن میں تھاجبکہ ان کی رہائش عباس ٹاؤن کے سامنے روفی گرین سٹی میں تھی جہاں وہ انچولی سے تقریباًڈیڑھ برس قبل ہی وہاں منتقل ہوئے تھے، مرحوم نے پسماندگان میںبیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اوردوبیٹوں کوسوگوارچھوڑاہے۔
مرحوم کے یہاں 3ماہ قبل ہی بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی، ایک بیٹا8سال اوربیٹی 3سال کاہے، اخترمہدی کاکیٹرنگ علاقے میں لذیرکھانوں کے حوالے سے انتہائی معروف تھی جبکہ اپنے اخلاق کے حوالے سے وہ پرانے محلے اورعباس ٹاؤن میں مشہورتھے۔
علاوہ ازیں دھماکے میں جاں بحق ہونے والے عابد حسین پشاورسے بھائی کی ساس کے چہلم میں شرکت کیلیے کراچی آئے تھے اورعباس ٹاؤن میں فاتحہ چہلم میں شرکت کے لیے جارہے تھے، وہ پشاورمیں ایک نجی بینک کے ملازم تھے، انھوں نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ دوبیٹوں کوسوگوارچھوڑاہے، ان کی میت پیرکی صبح کراچی ایئرپورٹ سے پشاورکے لیے روانہ کردی گئی۔
جودھماکے کے وقت اپنی دکان پر موجود تھے، دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے59سالہ عابد حسین پشاورسے اپنی قریبی عزیزہ کے چہلم میں شرکت کیلیے کراچی آئے تھے جودھماکے میںلقمہ اجل بن گئے، مزیدبراں بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے لیکچررامتیاز رضوی گورنمنٹ فاؤنڈیشن کالج کے لیکچررتھے۔
''ایکسپریس''کوان کے کالج اساتذہ نے بتایاکہ مرحوم امتیاز رضوی محنتی اورشفیق استاد تھے اورایک سال قبل ہی کمیشن کاامتحان پاس کرکے کیمسٹری کے لیکچررمنتخب ہوئے تھے، الحمراکیٹرنگ اینڈ ڈیکوریشن کے مالک اخترمہدی کے بھتیجے عباس نے ''ایکسپریس''کوبتایاکہ اخترمہدی کاکاروبارعباس ٹاؤن میں تھاجبکہ ان کی رہائش عباس ٹاؤن کے سامنے روفی گرین سٹی میں تھی جہاں وہ انچولی سے تقریباًڈیڑھ برس قبل ہی وہاں منتقل ہوئے تھے، مرحوم نے پسماندگان میںبیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اوردوبیٹوں کوسوگوارچھوڑاہے۔
مرحوم کے یہاں 3ماہ قبل ہی بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی، ایک بیٹا8سال اوربیٹی 3سال کاہے، اخترمہدی کاکیٹرنگ علاقے میں لذیرکھانوں کے حوالے سے انتہائی معروف تھی جبکہ اپنے اخلاق کے حوالے سے وہ پرانے محلے اورعباس ٹاؤن میں مشہورتھے۔
علاوہ ازیں دھماکے میں جاں بحق ہونے والے عابد حسین پشاورسے بھائی کی ساس کے چہلم میں شرکت کیلیے کراچی آئے تھے اورعباس ٹاؤن میں فاتحہ چہلم میں شرکت کے لیے جارہے تھے، وہ پشاورمیں ایک نجی بینک کے ملازم تھے، انھوں نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ دوبیٹوں کوسوگوارچھوڑاہے، ان کی میت پیرکی صبح کراچی ایئرپورٹ سے پشاورکے لیے روانہ کردی گئی۔