دھماکوں کے ذریعے دہشتگرد معیشت تباہ کررہے ہیں اورنگزیب فاروقی
سانحہ عباس ٹاؤن ملک کوغیرمستحکم کرنے کی سازش ہے، دہشت گردوں کوگرفتارکیاجائے.
علما اور نوجوانوں کی گرفتاری ظالمانہ اقدام ہے،سیکریٹری اطلاعات اہلسنّت و الجماعت فوٹو: ایکسپریس/فائل
اہلسنّت و الجماعت کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات مولانا اورنگزیب فاروقی، ڈاکٹرمحمد فیاض، مولانا رب نوازحنفی، مولانا تاج محمد حنفی اور مولانا اللہ وسایا صدیقی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سانحہ عباس ٹاؤن ملک کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔
اہلسنت و الجماعت المناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، دھماکے میں شیعہ سنی دونوں کو نشانہ بنایا گیا کسی ایک کمیونٹی اور فرقے کے ساتھ اس کو خاص کرنا زیادتی ہے، بعض عناصر الیکشن سے قبل حالات خراب کرکے ملک میں الیکشن کاالتوا چاہتے ہیں ،الیکشن کے التوا کا فائدہ کس کو ہوگا ،عوام خوب سمجھتے ہیں ۔
انھوں نے کہاکہ بم دھماکوں میں قتل کسی کا بھی ہو قابل مذمت ہے ،دھماکوں کے ذریعے سے دہشت گرد ملک کی باقی ماندہ معیشت کو تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آئندہ آنے والے دنوں میںکراچی میں بڑی خونریزی ہوگی تو حکومت نے حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کیے ، وفاقی اداروں کا کام صرف اطلاعات دینا نہیں بلکہ ملک بھر میں امن و امان کے قیام کیلیے ہر ممکن اقدامات کرنا بھی ہے، انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعے کے فوراً بعد اسے فرقہ وارانہ رخ دینا سوچی سمجھی سازش ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر بعض حقائق پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے،انھوں نے اس موقع پر مطالبہ کیا دھماکے میں جاں بحق ہونے والے اہلسنت عوام کو بھی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ وظائف جبکہ زخمیوں کوعلاج کی مناسب سہولیات فراہم کی جائیں ،انھوں نے کہاکہ دھماکے کے فوراً بعد شہر کے مختلف علاقوں اور مدارس سے اہلسنت علما اور نوجوانوں کی گرفتاری ظالمانہ اقدام ہے،حکومت دہشت گردی میں ملوث اصل دہشت گردوں کا سراغ لگا کر انہیں بے نقاب کرے تو شہر میں بدامنی کے جن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
اہلسنت و الجماعت المناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے، دھماکے میں شیعہ سنی دونوں کو نشانہ بنایا گیا کسی ایک کمیونٹی اور فرقے کے ساتھ اس کو خاص کرنا زیادتی ہے، بعض عناصر الیکشن سے قبل حالات خراب کرکے ملک میں الیکشن کاالتوا چاہتے ہیں ،الیکشن کے التوا کا فائدہ کس کو ہوگا ،عوام خوب سمجھتے ہیں ۔
انھوں نے کہاکہ بم دھماکوں میں قتل کسی کا بھی ہو قابل مذمت ہے ،دھماکوں کے ذریعے سے دہشت گرد ملک کی باقی ماندہ معیشت کو تباہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آئندہ آنے والے دنوں میںکراچی میں بڑی خونریزی ہوگی تو حکومت نے حفاظتی انتظامات کیوں نہیں کیے ، وفاقی اداروں کا کام صرف اطلاعات دینا نہیں بلکہ ملک بھر میں امن و امان کے قیام کیلیے ہر ممکن اقدامات کرنا بھی ہے، انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعے کے فوراً بعد اسے فرقہ وارانہ رخ دینا سوچی سمجھی سازش ہے ۔
ایسا لگتا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر بعض حقائق پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے،انھوں نے اس موقع پر مطالبہ کیا دھماکے میں جاں بحق ہونے والے اہلسنت عوام کو بھی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ وظائف جبکہ زخمیوں کوعلاج کی مناسب سہولیات فراہم کی جائیں ،انھوں نے کہاکہ دھماکے کے فوراً بعد شہر کے مختلف علاقوں اور مدارس سے اہلسنت علما اور نوجوانوں کی گرفتاری ظالمانہ اقدام ہے،حکومت دہشت گردی میں ملوث اصل دہشت گردوں کا سراغ لگا کر انہیں بے نقاب کرے تو شہر میں بدامنی کے جن پر قابو پایا جاسکتا ہے۔