مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکی ثالثی کا خیر مقدم
بھارت کی ضد اور غیرلچکدار رویہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہے
بھارت کی ضد اور غیرلچکدار رویہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہے، کشمیرمیڈیا سروس ۔ (فوٹو: فائل)
پاکستان نے امریکا کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے نئے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے جمعرات کو اپنی پہلی ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ بھارت کی ضد اور غیرلچکدار رویہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہے' وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کریاور عالمی برادری مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش خوش آیند ہے جس پر جلد از جلد عملدرآمد کیا جانا چاہیے۔
مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرتے وقت اس حقیقت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اس کے پاکستان' کشمیری اور بھارت تین فریق ہیں لہٰذا ایسا حل تلاش کیا جائے جس پر تینوں فریق متفق ہو جائیں۔ اگر امریکا نے مسئلہ کشمیر کی کوئی ایسی تجویز پیش کی جس سے اس امر کا تاثر ملے کہ اس کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہے تو ایسا حل یقیناً پاکستان اور کشمیریوں کے لیے ناقابل قبول ہو گا۔ پاکستان ایک عرصے سے عالمی فورم پر اس کا مطالبہ کرتا رہا ہے کہ بڑی قوتیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پرامن حل تلاش کریں۔ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ اور تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ اس کا جلد از جلد قابل قبول حل تلاش کیا جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان میں ملا فضل اللہ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو اب تک حل نہیں کیا گیا۔ پاکستان کو ایک جانب اپنی مشرقی سرحد پر کشیدگی کا سامنا ہے تو دوسری جانب افغان سرحد پر بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں' پاکستان افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے ساتھ باڑ لگا نے اور چیک پوسٹوں میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ دہشت گردوں اور غیرقانونی طور پر سرحد عبور کرنے والوں کو روکا جا سکے۔ افغان سرحد کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان افغانستان کے مسئلہ سمیت دو طرفہ امور پر تعمیری بات چیت ہوئی اور ایران سرحد پر دیوار کی تعمیر عالمی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت ہو گی۔ پاکستان اپنے سرحدی امور بڑی زیرکی سے حل کر رہا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکا مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرتے وقت اس حقیقت کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ اس کے پاکستان' کشمیری اور بھارت تین فریق ہیں لہٰذا ایسا حل تلاش کیا جائے جس پر تینوں فریق متفق ہو جائیں۔ اگر امریکا نے مسئلہ کشمیر کی کوئی ایسی تجویز پیش کی جس سے اس امر کا تاثر ملے کہ اس کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہے تو ایسا حل یقیناً پاکستان اور کشمیریوں کے لیے ناقابل قبول ہو گا۔ پاکستان ایک عرصے سے عالمی فورم پر اس کا مطالبہ کرتا رہا ہے کہ بڑی قوتیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پرامن حل تلاش کریں۔ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ اور تنازعے کا باعث بنا ہوا ہے لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ اس کا جلد از جلد قابل قبول حل تلاش کیا جائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان میں ملا فضل اللہ کی پاکستان مخالف سرگرمیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو اب تک حل نہیں کیا گیا۔ پاکستان کو ایک جانب اپنی مشرقی سرحد پر کشیدگی کا سامنا ہے تو دوسری جانب افغان سرحد پر بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں' پاکستان افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے ساتھ باڑ لگا نے اور چیک پوسٹوں میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ دہشت گردوں اور غیرقانونی طور پر سرحد عبور کرنے والوں کو روکا جا سکے۔ افغان سرحد کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کے لیے بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان افغانستان کے مسئلہ سمیت دو طرفہ امور پر تعمیری بات چیت ہوئی اور ایران سرحد پر دیوار کی تعمیر عالمی قوانین اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت ہو گی۔ پاکستان اپنے سرحدی امور بڑی زیرکی سے حل کر رہا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ اور امریکا مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔