ملک کو نیشنل عوامی پارٹی کی ضرورت

بائیں بازو کی طاقت کو توڑنے کے لیے ایوب خان کے دور سے ریاستی مشینری کو استعمال کیا گیا

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

سیاسی پارٹیوں کے کردار کا تعین ان کے منشور، پالیسیوں اور ان پر عملدرآمد سے ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کی سیاست ہمیشہ اشرافیائی سیاسی پارٹیوں کے گرد گھومتی رہی۔ ان اشرافیائی پارٹیوں میں مسلم لیگ کو ہم قدیم اشرافیائی پارٹی کہہ سکتے ہیں۔ اشرافیہ میں زمینی اشرافیہ اس ملک کی وہ قدیم اشرافیہ ہے جس نے تقسیم ہند کی سیاست اور ممکنہ پاکستانی علاقوں میں زمینی اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تحریک پاکستان کے دور ہی میں مسلم لیگ میں نہ صرف شمولیت اختیار کی بلکہ اس کی صف اولی میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ ان کوششوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں نہ صرف جاگیردارانہ نظام محفوظ رہے بلکہ سیاست اور اقتدار پر بھی قبضہ کیا جا سکے۔ اس حوالے سے دولتانے اور ٹوانے قیام پاکستان کے بعد پاکستان کی سیاست پر اس قدر مضبوطی سے قدم جمانے میں کامیاب ہو گئے کہ 70 سال گزر جانے کے بعد بھی کوئی مائی کا لعل ان کی طاقت توڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ آج بھی یہ طبقہ پاکستانی سیاست کا ایک مضبوط پلر بنا ہوا ہے۔

پاکستانی سیاست میں بایاں بازو ہی وہ سیاسی طاقت تھی جو اس حقیقت کا ادراک رکھتا تھا کہ جب تک ملک میں قبائلی اور جاگیردارانہ نظام قائم ہے نہ اس ملک میں عوامی سیاست پروان چڑھ سکتی ہے نہ اس ملک کے عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اسی حقیقت کے ادراک کی وجہ سے بائیں بازو کی طاقتیں جاگیردارانہ نظام کے خلاف منظم جد و جہد کرتی رہیں اور زرعی اصلاحات کو اپنے منشور میں سرفہرست رکھا۔ سندھ اور پنجاب جاگیرداری نظام کے دو بڑے مرکز تھے، اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے بائیں بازو کی جماعتوں نے ان دو صوبوں میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف مورچے لگائے۔

سندھ میں حیدر بخش جتوئی نے ہاری تحریک کے پلیٹ فارم سے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد شروع کی اور پنجاب میں چوہدری فتح محمد، سی آر اسلم اور ان کے ساتھیوں نے جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائی اور اس حوالے سے بڑی بڑی کسان کانفرنسوں کا اہتمام کیا تا کہ کسانوں کو ایک مرکز پر لا کر جاگیردارانہ نظام کے خلاف تحریک چلائی جا سکے۔ اس حوالے سے نیشنل عوامی پارٹی نے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ کیا اورکسانوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے پنجاب بھر میں نظریاتی کوششیں شروع کیں۔

اگرچہ بعض دوستوں کی تنگ نظریوں کی وجہ سے نیپ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی لیکن اس تقسیم کے باوجود جاگیردارانہ نظام کے خلاف کسانوں کو منظم اور متحرک کرنے کا کام جاری رہا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہونے والی کسان کانفرنسیں اسی جدوجہد کا حصہ تھیں۔ خیبرپختونخوا میں بھی کسانوں کو منظم و متحرک کرنے کی کوشش کی گئی اور ہشت نگر کی تحریک اسی جدوجہد کا حصہ تھی جس کی قیادت مرحوم میجر اسحق اور ان کے ساتھی کرتے رہے اور ریاستی طاقت کے سامنے ڈٹے رہے۔


بایاں بازو تقسیم کے باوجود نہ صرف فعال تھا بلکہ ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر موجود تھا۔ بائیں بازو کی طاقت کو توڑنے کے لیے ایوب خان کے دور سے ریاستی مشینری کو استعمال کیا گیا اور بائیں بازو کے ہزاروں کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا اور شہیدکیا گیا قلعہ لاہور میں حسن ناصرکو اذیتیں دے کر شہید کیا گیا لیکن پھر بھی بائیں بازو کی سرگرمیاں جاری رہیں بلکہ مزدوروں اور طالب علموں، ڈاکٹروں وکیلوں میں نہ صرف ان پیشہ ورانہ تنظیموں کو طبقاتی بنیادوں پر استوار کیا گیا بلکہ سیاسی جد و جہد میں بھی انھیں شامل رکھا گیا۔

بائیں بازوکی تحریک کو اصل نقصان بھٹو کی پیپلز پارٹی سے ہوا۔ بھٹو کے مخلص دوستوں نے جن میں جے اے رحیم، معراج محمد خان سمیت کئی دوست شامل تھے وہ منشور اور نعرے دیے جو عوام کی توجہ کا باعث بنے اور دیکھتے ہی دیکھتے پیپلز پارٹی پاکستان کی سیاسی تاریخ کی سب سے زیادہ مقبول اور طاقتور پارٹی بن گئی۔ بدقسمتی سے اس دور میں بوجوہ بایاں بازو غیر فعال تھا اور بائیں بازو کے کارکن مایوسی کا شکار تھے، ایسے نفسیاتی ماحول میں پیپلز پارٹی کے مزدور کسان راج کے نعروں نے بائیں بازو کے کارکنوں کو ترغیب فراہم کی اور بددل اور مایوس کارکن دھڑادھڑ پیپلز پارٹی میں شامل ہوتے گئے۔ بھٹو کے طبقاتی کردارکو سمجھے بغیر بھٹو کی طلسماتی شخصیت نے سیاسی کارکنوں پر ایسا جادوکیا کہ معراج محمد خان جیسے پختہ کار سیاسی رہنما بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے، یوں بائیں بازو کو سخت سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کے قیام سے بائیں بازو کی نہ صرف سیاسی طاقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی بلکہ اس کا شیرازہ بھی بکھر کر رہ گیا۔ بائیں بازو میں کوئی ایسی مرکزی قیادت نہیں رہی جو بائیں بازوکی ٹوٹ پھوٹ کو روک سکے۔

صورتحال یہ ہے کہ بایاں بازو ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے اور جگہ جگہ ایک پارٹی بنی ہوئی ہے اور اپنی نظریاتی صلاحیتوں اور گروہی مفادات کے مطابق کام کر رہی ہے، نظریاتی جماعتوں میں خواہ ان کا تعلق مذہبی سیاسی جماعت سے ہی کیوں نہ ہو نظریاتی تربیت کا ایک نظام ہوتا ہے جسے عرف عام میں اسٹڈی سرکلز کہا جاتا ہے۔ بلاشبہ نظریاتی سیاست کرنے والوں کو نظریاتی کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے اور نظریاتی کارکن اسٹڈی سرکلز ہی کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نظریاتی تربیت کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟

ظاہر ہے یہ نظریاتی کارکن تھیوری کے بعد پریکٹس میں آتے ہیں اور بائیں بازو کی نظریاتی کمزوری یہ ہے کہ نظریاتی کارکنوں کے لیے پریکٹیکل کرنے کے لیے کوئی ایسا بڑا پلیٹ فارم نہیں جو نظریاتی کارکنوں کو ملک میں بنیادی تبدیلیاں لانے میں معاون ثابت ہو۔ یعنی کوئی ایسی خاص پارٹی نہیں جو بائیں بازو کی نمایندگی کرتی ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد بائیں بازوکی سیاست میں ایک انتشار کی کیفیت موجود ہے لیکن ہمارے ملک میں بورژوا پارٹیاں جو مفاداتی سیاست کر رہی ہیں، اس کی وجہ نہ صرف عوام میں وہ سخت بدنامی کا شکار ہیں بلکہ ان پارٹیوں کی مفاداتی سیاست سے ملک میں ایک سیاسی خلا بھی پیدا ہو گیا ہے اور عوام ایک ایسی قیادت اور ایسی سیاسی جماعت کے منتظر ہیں جو ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ اور مخلص ہو۔ بدقسمتی سے سیاسی میدان میں ایک بھی ایسی سیاسی جماعت موجود نہیں جو اس خلا کو پر کرسکے۔

اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ صرف بائیں بازو کے نظریات اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے پاس ہی ایسے منشور ہوتے ہیں جو ملک میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بائیں بازو کی پارٹیاں ابھی تک انڈر گراؤنڈ کلچر سے باہر نہ آسکیں۔ اسٹڈی سرکل ہوں یا تربیتی نشستیں یہ سب عمل سیاست ہی کے لیے تیار ہوتی ہیں اور عملی سیاست کے لیے ایک بڑی منظم سیاسی جماعت کی ضرورت ہوتی ہے جو موجود نہیں ہے۔ لیکن کیا انقلاب کے داعی اگر مخلصانہ طور پر کوشش کریں تو کیا ایک نیشنل عوامی پارٹی نہیں بنا سکتے جو اس خلا کو پر کر سکے جو ہماری سیاست میں منہ کھولے کھڑا ہے؟
Load Next Story