سانحہ کراچی شہدا کی تعداد50ہو گئی چیف جسٹس کا از خود نوٹس
سماعت کراچی میں ہوگی، سندھ حکومت کا دہشت گردوں کی اطلاع دینے پر50 لاکھ انعام کا اعلان
کراچی :سانحہ عباس ٹاؤن میں جاں بحق افراد کی رشتے دار خواتین شدت غم سے نڈھال ہیں ۔ فوٹو : فائل
سانحہ عباس ٹاؤن کے شہدا کی تعداد 50 ہوگئی ہے جن میں بیشتر کو سپردخاک کردیا گیا جبکہ پیر کو بھی سارا دن اور رات گئے تک علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔
متاثرہ افراد اسپتالوں میں اپنے پیاروں کو زخمی حالت میں دیکھنے کے بعد اور عزیزوں کی تدفین کے بعد تباہ شدہ گھروں کے ملبے کو دیکھ کر روتے رہے۔ دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے عباس ٹاون کراچی میں بم دھماکوں کا ازخود نوٹس لے لیا ہے اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اور ایڈووکیٹ جنرل سے دھماکوں کے بارے میں جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یوم سوگ کے موقع پر پیر کو کراچی و اندرون سندھ سمیت ملک بھر میں کاروبار زندگی معطل رہا اور سوگ کی کیفیت رہی۔ حکومت سندھ نے متاثرین کیلیے معاوضوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جبکہ دہشت گردوں کی اطلاع دینے والے والے کو انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی میں ڈبل سواری پر پابندی بھی لگادی گئی ہے۔حکومت سندھ نے سانحہ عباس ٹاؤن میں ملوث دہشت گردوں کی اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ روپے کے انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔ پیرکو محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے والے کو50 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا جبکہ اس کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا ۔
نوٹیفکیشن میں محکمہ داخلہ کے فون نمبر بھی دیے گئے ہیں ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سانحہ کے بعد پولیس اور رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سانحہ عباس ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی کی سربراہی میں6 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو آئندہ 72 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی ، حکومت سندھ نے سانحہ عباس ٹاؤن کی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔
تحقیقاتی ٹیم کے دیگر ممبران میں ڈی آئی جی ویسٹ جاوید اوڈھو ، منظور مغل ، کامران فضل اور رینجرز31 ونگ کے کرنل شامل ہیں ۔ حکومت سندھ نے سانحہ عباس ٹاؤن کے متاثرین کی امداد کے لیے بھی نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔ اسلام آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق بادی النظر میں ریاست اورصوبائی حکومت شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوگئی ہے، اس لیے کل بم دھماکوں کے بارے میں رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے مناسب حکم صادر کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹ پر ازخود نوٹس لیا جس میں کہا گیا تھا کہ اہل تشیع کے رہائشی علاقے عباس ٹاؤن میں بم دھماکوں سے45افرادجاں بحق اور150سے زائد زخمی ہوئے۔ ریسکیوآپریشن بھی تاخیر سے شروع ہوا کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ایک نجی تقریب میں پروٹوکول ڈیوٹی پر مامور تھے۔ کوئٹہ کے2 واقعات سے ریاستی اداروں کی آنکھیں کھل جانی چاہیے تھیں کیونکہ ایک واقعے کے بعد صوبائی حکومت کو معزول کرنا پڑا اور مسلح افواج کو انتظام دینے کے مطالبے سامنے آئے لیکن اس کے باوجود ایک اور سانحہ پیش آگیا۔یہ صورتحال بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا واضح ثبوت ہے جس میں آئین کے آرٹیکل9،14،23اور24 کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کی زیر صدارت امن وامان سے متعلق وزیراعلیٰ ہاؤس میں پیرکو اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا ۔
اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن اور نام بدل کر کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا جبکہ شہرمیں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی لگانے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل رضوان اختر ، آئی جی پولیس سندھ فیاض احمد لغاری ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ ) وسیم احمد ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری محمد صدیق میمن ، ایڈیشنل آئی جی پولیس (اسپیشل برانچ) رسول بخش ساند نے شرکت کی ۔
اجلاس میںعباس ٹاؤن ابوالحسن اصفہانی روڈ پر بم دھماکوں کے حوالے سے امن و امان کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیاگیا اور ان تباہ کن واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں اور ملک و عوام دشمن عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ملک بھر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ بین الصوبائی سرحدوں کے تمام داخلی راستوں پر مذموم عناصر کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی ۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سے خواتین ، بچوں، عمر رسیدہ افراد اور صحافیوںکو استثنیٰ حاصل ہوگا ۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات ، شاپنگ سینٹرز ، تجارتی اور کاروباری مراکز اور شہر کے دیگر اہم مقامات پر چیکنگ کے نظام کو مؤثر بنایا جائے گا ۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم تنظیموں اور جعلی ناموں سے اور اپنی شناخت چھپا کر کام کرنے والے گروہوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جائے گا ۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ لینڈ مافیا سے قبضیفوری طور پر ختم کرائے جائیں گے ۔ اجلاس میںکہا گیا کہ وفاق المدارس کے منتظمین کے ساتھ جلد اجلاس منعقد کیا جائے گا اور اگر کوئی افراد مطلوب پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاق المدارس کے زیر انتظام کے تحت 1716مدارس ہیں جہاں 20,000 سے زائد طلباء کو دینی تعلیم دی جاتی ہے ۔
اجلاس میں دیگر امور بھی زیر غور آئے ۔ حیدرآباد، نوابشاہ، سکھر اور اندرون سندھ کے دیگر شہروں سے نمائندگان ایکسپریس کے مطابق سانحہ عباس ٹاؤن کراچی کے سوگ میں پیر کو حیدر آباد سمیت اندرون سندھ کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں احتجاج اور ہڑتال کی گئی۔ اس موقع پر کاروباری مراکز بند رہے، سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں حاضری معمول سے انتہائی کم رہی ۔ حیدرآباد سمیت زیریں سندھ میں مکمل شٹر بند ہڑتال کی گئی۔ مختلف مقامات پر نوجوانوں نے ٹائر جلائے اور رکاوٹیںکھڑی کر کے سڑکوں کو آمدورفت کے لیے بند کردیا۔ ایم کیو ایم جامشورو زون کی جانب سے شہداکے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔
نوابشاہ میں بھی مکمل طور ہڑتال رہی اور مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ علما کونسل کی جانب سے دولت پور بائی پاس پر دھرنا اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا میرپورخاص، شاہ پورچاکر، مقصودو رند، ٹنڈو محمد خان، ماتلی، قاضی احمد، مٹھی، ڈگری، خیرپور، ہنگورجہ، دولت پور، گھارو، سمیت سندھ کے دیگر شہروں اور قصبوں میں بھی مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی اور کئی مقامات پر اہل تشیع جماعتوں کی جانب سے دھرنے بھی دیے گئے۔سانحہ عباس ٹاؤن کیخلاف ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، سندھ اور پنجاب میں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا'وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا،کراچی اور اندرون سندھ کئی شہروں میں پٹرول پمپ، مارکیٹیں دکانیں اور تعلیمی ادارے بند رہے' گورنر سندھ نے دہشتگردی میں املاک کو ہونے والے نقصان کے ازالے کا اعلان اور اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی جو 3 دن میں رپورٹ دے گی جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی کریں گے، پنجاب بار کونسل کی اپیل پر راولپنڈی اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں وکلا نے یوم سوگ منایا اور عدالتوں میں پیش نہ ہوء، خیبر پختونخواکے کئی علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔
متاثرہ افراد اسپتالوں میں اپنے پیاروں کو زخمی حالت میں دیکھنے کے بعد اور عزیزوں کی تدفین کے بعد تباہ شدہ گھروں کے ملبے کو دیکھ کر روتے رہے۔ دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے عباس ٹاون کراچی میں بم دھماکوں کا ازخود نوٹس لے لیا ہے اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس اور ایڈووکیٹ جنرل سے دھماکوں کے بارے میں جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یوم سوگ کے موقع پر پیر کو کراچی و اندرون سندھ سمیت ملک بھر میں کاروبار زندگی معطل رہا اور سوگ کی کیفیت رہی۔ حکومت سندھ نے متاثرین کیلیے معاوضوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جبکہ دہشت گردوں کی اطلاع دینے والے والے کو انعام دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ کراچی میں ڈبل سواری پر پابندی بھی لگادی گئی ہے۔حکومت سندھ نے سانحہ عباس ٹاؤن میں ملوث دہشت گردوں کی اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ روپے کے انعام دینے کا اعلان کیا ہے ۔ پیرکو محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے والے کو50 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا جبکہ اس کا نام بھی صیغہ راز میں رکھا جائے گا ۔
نوٹیفکیشن میں محکمہ داخلہ کے فون نمبر بھی دیے گئے ہیں ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سانحہ کے بعد پولیس اور رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹڈ آپریشن میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سانحہ عباس ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی کی سربراہی میں6 رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو آئندہ 72 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی ، حکومت سندھ نے سانحہ عباس ٹاؤن کی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔
تحقیقاتی ٹیم کے دیگر ممبران میں ڈی آئی جی ویسٹ جاوید اوڈھو ، منظور مغل ، کامران فضل اور رینجرز31 ونگ کے کرنل شامل ہیں ۔ حکومت سندھ نے سانحہ عباس ٹاؤن کے متاثرین کی امداد کے لیے بھی نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے ۔ اسلام آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق بادی النظر میں ریاست اورصوبائی حکومت شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوگئی ہے، اس لیے کل بم دھماکوں کے بارے میں رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد اس حوالے سے مناسب حکم صادر کیا جائے گا۔
چیف جسٹس نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے نوٹ پر ازخود نوٹس لیا جس میں کہا گیا تھا کہ اہل تشیع کے رہائشی علاقے عباس ٹاؤن میں بم دھماکوں سے45افرادجاں بحق اور150سے زائد زخمی ہوئے۔ ریسکیوآپریشن بھی تاخیر سے شروع ہوا کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ایک نجی تقریب میں پروٹوکول ڈیوٹی پر مامور تھے۔ کوئٹہ کے2 واقعات سے ریاستی اداروں کی آنکھیں کھل جانی چاہیے تھیں کیونکہ ایک واقعے کے بعد صوبائی حکومت کو معزول کرنا پڑا اور مسلح افواج کو انتظام دینے کے مطالبے سامنے آئے لیکن اس کے باوجود ایک اور سانحہ پیش آگیا۔یہ صورتحال بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا واضح ثبوت ہے جس میں آئین کے آرٹیکل9،14،23اور24 کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک کی زیر صدارت امن وامان سے متعلق وزیراعلیٰ ہاؤس میں پیرکو اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا ۔
اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن اور نام بدل کر کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا جبکہ شہرمیں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی لگانے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ میجر جنرل رضوان اختر ، آئی جی پولیس سندھ فیاض احمد لغاری ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (داخلہ ) وسیم احمد ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری محمد صدیق میمن ، ایڈیشنل آئی جی پولیس (اسپیشل برانچ) رسول بخش ساند نے شرکت کی ۔
اجلاس میںعباس ٹاؤن ابوالحسن اصفہانی روڈ پر بم دھماکوں کے حوالے سے امن و امان کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیاگیا اور ان تباہ کن واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں اور ملک و عوام دشمن عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ملک بھر میں دہشت گرد عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ بین الصوبائی سرحدوں کے تمام داخلی راستوں پر مذموم عناصر کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے گی ۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی سے خواتین ، بچوں، عمر رسیدہ افراد اور صحافیوںکو استثنیٰ حاصل ہوگا ۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات ، شاپنگ سینٹرز ، تجارتی اور کاروباری مراکز اور شہر کے دیگر اہم مقامات پر چیکنگ کے نظام کو مؤثر بنایا جائے گا ۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم تنظیموں اور جعلی ناموں سے اور اپنی شناخت چھپا کر کام کرنے والے گروہوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی اور ان کی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جائے گا ۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ لینڈ مافیا سے قبضیفوری طور پر ختم کرائے جائیں گے ۔ اجلاس میںکہا گیا کہ وفاق المدارس کے منتظمین کے ساتھ جلد اجلاس منعقد کیا جائے گا اور اگر کوئی افراد مطلوب پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاق المدارس کے زیر انتظام کے تحت 1716مدارس ہیں جہاں 20,000 سے زائد طلباء کو دینی تعلیم دی جاتی ہے ۔
اجلاس میں دیگر امور بھی زیر غور آئے ۔ حیدرآباد، نوابشاہ، سکھر اور اندرون سندھ کے دیگر شہروں سے نمائندگان ایکسپریس کے مطابق سانحہ عباس ٹاؤن کراچی کے سوگ میں پیر کو حیدر آباد سمیت اندرون سندھ کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں احتجاج اور ہڑتال کی گئی۔ اس موقع پر کاروباری مراکز بند رہے، سڑکوں پر ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں حاضری معمول سے انتہائی کم رہی ۔ حیدرآباد سمیت زیریں سندھ میں مکمل شٹر بند ہڑتال کی گئی۔ مختلف مقامات پر نوجوانوں نے ٹائر جلائے اور رکاوٹیںکھڑی کر کے سڑکوں کو آمدورفت کے لیے بند کردیا۔ ایم کیو ایم جامشورو زون کی جانب سے شہداکے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔
نوابشاہ میں بھی مکمل طور ہڑتال رہی اور مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ علما کونسل کی جانب سے دولت پور بائی پاس پر دھرنا اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا میرپورخاص، شاہ پورچاکر، مقصودو رند، ٹنڈو محمد خان، ماتلی، قاضی احمد، مٹھی، ڈگری، خیرپور، ہنگورجہ، دولت پور، گھارو، سمیت سندھ کے دیگر شہروں اور قصبوں میں بھی مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی اور کئی مقامات پر اہل تشیع جماعتوں کی جانب سے دھرنے بھی دیے گئے۔سانحہ عباس ٹاؤن کیخلاف ملک کے کئی شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، سندھ اور پنجاب میں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہا'وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا،کراچی اور اندرون سندھ کئی شہروں میں پٹرول پمپ، مارکیٹیں دکانیں اور تعلیمی ادارے بند رہے' گورنر سندھ نے دہشتگردی میں املاک کو ہونے والے نقصان کے ازالے کا اعلان اور اس واقعہ کی تحقیقات کیلئے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی جو 3 دن میں رپورٹ دے گی جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی کریں گے، پنجاب بار کونسل کی اپیل پر راولپنڈی اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں وکلا نے یوم سوگ منایا اور عدالتوں میں پیش نہ ہوء، خیبر پختونخواکے کئی علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔