دہشتگردی کسی فرقے یا تنظیم کا نہیں قومی مسئلہ ہے مشاہد اللہ

حکومت تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی، عوام کو اپنی حفاظت آپ ہی کرنا پڑیگی، طاہر مشہدی.

لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے دفاتر پنجاب میں ہیں، جاکھرانی ’’کل تک‘‘ میں اظہار خیال فوٹو : فائل

KARACHI:
مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ کراچی کے علاقے عباس ٹاؤں میں جو کچھ ہوا ہے اس پر لفظ مذمت بہت کم پڑگیا ہے۔

دہشتگردی اب کسی فرقے یا تنظیم کامسئلہ نہیں رہی اب یہ قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ایکسپریس نیو زکے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ کل تک کہا جاتا تھا کہ ن لیگ اکیلی رہ گئی ہے لیکن جب اتحاد بنے اور ن لیگ طاقت پکڑ گئی تو انھوں نے مستقل پالیسی بنالی کہ ن لیگ پرالزام لگایا جائے کہ شدت پسند پنجاب میں ہیں اور ن لیگ ان کو سپورٹ کرتی ہے۔




ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو دیوا ر سے لگا دیا گیا ہے کراچی میں دھماکا ہوتا ہے لوگ جلتے ہیں مرتے ہیں لیکن کوئی ان کی چیخ وپکار نہیں سنتا کوئی ان کی امداد کو نہیں جاتا ۔ساری انتظامیہ ایک طرف لگی ہوئی ہے اور عوام کی چیخوں پر کسی کی توجہ نہیں ہوتی۔فائر بریگیڈ کی گاڑی آتی ہے تو اس میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ دوسری منزل پر پانی پھینک سکے۔

حکومت عوام کو تحفظ دینے میں ناکام ہوچکی ہے اس لیے عوام کو اپنا تحفظ آپ ہی کرنا پڑیگا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما گل محمد جاکھرانی نے کہاکہ ہم آج جو کچھ بھگت رہے ہیں وہ آمریت کی مہربانی ہے۔کراچی میں پچھلے کئی سالوں سے قتل وغارت جاری ہے اور اب الیکشن قریب ہونے کی وجہ سے اینٹی پیپلزپارٹی فورسز متحرک ہیں ۔ لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے دفاتر پنجاب میں ہیں اور حکومت پنجاب کا فرض ہے کہ ان کے خلاف ایکشن کرے ۔
Load Next Story