اب پیرا ڈائز لیکسکرپشن کے حوالے سے نئے انکشافات

نئی لیکس میں مائیکرو سافٹ‘ فیس بک اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کے حوالے سے بھی اہم انکشافات کیے گئے ہیں

نئی لیکس میں مائیکرو سافٹ‘ فیس بک اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کے حوالے سے بھی اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ فوٹو : آئی سی آئی جے

PESHAWAR:
پاناما لیکس کے بعد پیراڈائز پیپرز کے نام سے نیا عالمی اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) نے آف شور کمپنیوں کے حوالے سے پیراڈائز پیپرز کے نام سے نئی لیکس جاری کی ہیں جس میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ سمیت امریکا' چین' کینیڈا اور بعض ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالکان کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

اس لیکس کا منظرعام پر آنا اس امر کا مظہر ہے کہ کرپشن کوئی مقامی یا ملکی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر حکمران طبقے سمیت بڑی بڑی نامور شخصیات کا دامن بھی اس سے داغ دار ہے۔ ادھر سعودی عرب میں بھی کرپشن کے خلاف تاریخی کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزام میں 11شہزادوں' 4موجودہ اور 34سابق وزراء کو گرفتار کر لیا گیا ہے' گرفتار افراد میں کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال سمیت نیشنل گارڈ کے سربراہ شہزادہ مطعب بن عبداللہ اور وزیر معیشت عادل فقیہہ بھی شامل ہے۔

مالیاتی امور اور کرپشن کے حوالے سے ابھی پاناما لیکس کی دھول بیٹھی نہیں تھی کہ انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیشن جرنلسٹس نے پیراڈائز پیپرز کے نام سے نئی لیکس جاری کر کے عالمی سطح پر نئی ہلچل مچا دی ہے۔ اس لیکس میں پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز' این آئی سی ایل کے سابق چیئرمین ایاز نیازی' برطانیہ کی ملکہ الزبتھ' امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن' امریکی وزیر تجارت ولبر راس' امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 13قریبی ساتھی' کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے قریبی ساتھی و مشیران' اردن کی سابق ملکہ نور' یورپ میں نیٹو کے سابق کمانڈر ویزلے کلارک' مائیکرو سافٹ' ای بے' فیس بک' نائیکی اور ایپل جیسی بڑی کمپنیوں کے حوالے سے بھی اہم انکشافات کیے گئے ہیں جب کہ گلوکارہ میڈونا اور پاپ سنگر بونو کی بھی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔


برطانوی ملکہ الزبتھ کے حوالے سے انکشاف سامنے آیا ہے انھوں نے میڈیکل اور کنزیومر لون کے شعبے میں کام کرنیوالی آف شور کمپنیوں میں ایک کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کی۔ اردن کی سابق ملکہ نور جرسی نامی جزیرے میں دو ٹرسٹوں کی بینیفیشری کے طور پر سامنے آئی ہیں' یورپ میں نیٹو کے سپریم کمانڈر رہنے والے سابق امریکی جنرل ویزلے کلارک بھی ایک آن لائن گیمبلنگ کمپنی کے ڈائریکٹر تھے اور اس کمپنی کی ذیلی آف شور کمپنیاں بھی ہیں۔ یہ دستاویزات سنگا پور اور برمودا کی دو کمپنیوں سے حاصل ہوئیں' پیراڈائز پیپرز جرمن اخبار نے حاصل کیے اور آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیے۔ دستاویزات میں 180ممالک کی 25ہزار سے زائد کمپنیاں' ٹرسٹ اور فنڈز کا ڈیٹا شامل ہے جب کہ ان پیپرز میں 1950سے 2016کا ڈیٹا موجود ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں جن ممالک کے سب سے زیادہ شہریوں کے نام آئے ہیں' ان میں امریکا25,414 شہریوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں کرپشن کا عام ہونا کوئی حیرت انگیز امر نہیں کیونکہ وہاں اقتدار کے حصول کے لیے جس انداز میں رائج قوانین کو روندا جاتا وہ سب کے سامنے ہے۔

لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ وہ ترقی یافتہ ممالک جہاں دیانتداری اور ایمانداری کی مثالیں دی جاتی اور کرپشن کو سنگین جرم گردانتے ہوئے سخت سزائیں دی جاتی ہیں' چین جیسا ملک جہاں کرپشن کی سزا موت ہے اس کے 5,675 شہریوں کے نام بھی پیراڈائز پیپرز میں سامنے آئے ہیں۔ ملکہ الزبتھ جو برطانوی وقار اور عظمت کی علامت سمجھی جاتی ہیں ان کا نام بھی آف شور کمپنیوں کے حوالے سے سامنے آنا برطانوی عوام کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا۔ پاناما لیکس سامنے آنے کے بعد برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو استعفیٰ دینا پڑا تھا جب کہ پاکستان میں بھی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو نااہل قرار دے کر حکومت سے الگ کر دیا گیا اور وہ اب احتساب عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔

حیرت انگیز امر ہے کہ نئی لیکس میں جن شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں ان کا تعلق حکمران طبقے سے ہے۔ میاں محمد نواز شریف کے بعد سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا نام سامنے آنے پر اس حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شوکت عزیز کے دو ٹرسٹ سامنے آئے ہیں۔ سٹی ٹرسٹ لمیٹڈ سٹی بینک کی جانب سے بہاماس میں قائم کیا گیا' انھوں نے انٹارکٹک ٹرسٹ بھی قائم کیا۔ بطور وزیر خزانہ اور وزیراعظم کے شوکت عزیز نے کبھی یہ اثاثے ظاہر نہیں کیے۔ قوانین کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے افراد کو اپنے تمام اثاثوں کو منظرعام پر لانا لازمی ہوتا ہے ایسا نہ کرنا بددیانتی اور جرم سمجھا جاتا ہے۔ اگر حکمران طبقہ ہی مالیاتی کرپشن میں ملوث ہو جائے تو پھر ملک میں دیانتداری اور ایمانداری کا پنپنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جن نامور شخصیات کے نام پیراڈائز پیپرز میں سامنے آئے ہیں ان کے خلاف کیا کارروائی کی جاتی ہے۔
Load Next Story