خوشنود کی مسکراہٹوں کے نام
خوشنود نے سرکاری خبررساں ایجنسی میں صحافیوں اور کارکنوں کے حالات کار بہتر بنانے کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا۔
tauceeph@gmail.com
ابھی خوشنود علی شیخ کی یادیں تازہ ہی ہیں کہ عباس ٹائون میں ہونے والے دھماکے نے شہر کو ایک بار پھر لرزا دیا ہے۔ 150 کلو بارودی مواد نے 50 کی جان لے لی اور 150 کو زخمی کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے والوں کی مایوسی میں پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسی کتنی ہی زندگیاں ان دھماکوں کی نذر ہو چکی ہیں جو اس شہر میں بہتر مستقبل کی آس دل میں لیے روزانہ اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے۔
خوشنود اور اس کی مسکراہٹیں بھی ان ہزاروں کی چیخوں میں کہیں کھو جائیں گی جو اب ہمارے درمیاں نہیں رہے۔ خوشنود شیخ نے امریکا میں تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے 1986 میں سرکاری خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) میں رپورٹر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ خوشنود نے اپنے کیریئر کے دوران اقتصادیات، سیاسیات، عدالتی مقدمات وغیرہ کے موضوعات پر رپورٹنگ کی۔ انھوں نے انھی موضوعات پر ملکی اور غیر ملکی جرائد میں آرٹیکل تحریر کیے۔ جب پیپلز پارٹی کے دوسرے دور میں کمال اظفر سندھ کے گورنر بنائے گئے تو خوشنود کو گورنر ہائوس کا پریس سیکریٹری مقرر کیا گیا مگر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے پر دوبارہ خوشنود رپورٹر بن گئے۔
خوشنود نے سرکاری خبررساں ایجنسی میں صحافیوں اور کارکنوں کے حالات کار بہتر بنانے کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا۔ کراچی پریس کلب کی سیاست میں بھی دلچسپی لیتے رہے۔ انھوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ کرائے کے مکانوں میں گزارا۔ پھر انھوں نے کراچی کی نسبتاً نئی بستی گلستانِ جوہر میں مکان تعمیر کرایا۔ یوں خوشنود کی زندگی کے برے دن شروع ہوگئے۔ گلستانِ جوہر میں سرگرم ایک مافیا نے انھیں مکان کی تعمیر کی اجازت کے لیے 5 لاکھ روپے بھتے کی پرچی بھیجی۔ خوشنود کے پاس مکان کی تعمیر کے لیے رقم محدود تھی۔ ایک صحافی کے لیے کسی غیر قانونی مطالبے کو تسلیم کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس لیے خوشنود نے مافیا کے اس مطالبے کو مسترد کردیا۔ پھر خوشنود کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔
انھیں ان کی اہلیہ کو قتل کرنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ خوشنود نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مدد حاصل کی۔ پھر وہ دوستوں کے مشورے پر اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ خوشنود طویل عرصہ اسلام آباد میں گزارنے کے بعد کراچی آئے اور اپنی اہلیہ اور لے پالک بچے کے ساتھ نئے مکان میں مقیم ہوگئے۔ انھوں نے دوستوں اور خیرخواہوں کو بتایا کہ اب وہ لینڈ مافیا کی دھمکیوں کی زد میں نہیں ہیں اور خطرہ ٹل گیا ہے۔ خوشنود 25 فروری کی رات کو خریداری کرنے گھر سے نکلے۔
گلستانِ جوہر کے علاقے کامران چورنگی کی چوڑی سڑک پر دن میں تو ٹریفک کی بھیڑ ہوتی ہے مگر جب سورج مغرب کے بعد ڈوب جاتا ہے تو یہ سڑک سنسان ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر اتوار کو رات ہوتے ہی یہ سڑک ٹریفک کی منتظر نظر آتی ہے۔ یوں اس خاموش ماحول میں ایک تیز رفتار کار نے خوشنود کو سڑک پار کرتے ہوئے کچل دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کار ڈرائیور نے جان بوجھ کر خوشنود کو نشانہ بنایا۔ خوشنود کو شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔ خوشنود علی شیخ 57 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
پورے ملک میں صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، صرف دو ماہ میں 5 سے زیادہ صحافی قتل ہوچکے ہیں مگر ملک کے تجارتی دارالحکومت کراچی میں بھی صحافیوں کو ان ہی حالات کا سامنا ہے جن کا سامنا صحافی بلوچستان، خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں کررہے ہیں۔ خوشنود نے کراچی کی آبادی گلستانِ جوہر میں مکان تعمیر کیا تھا۔ گلستان جوہر سابقہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA) کی منظور شدہ اسکیم ہے۔ یہ علاقہ مکانات کے علاوہ فلیٹوں پر بھی مشتمل ہے۔ اس علاقے میں ہزاروں فلیٹ تعمیر ہوئے ہیں۔ گلستانِ جوہر کے اطراف میں سندھیوں کے قدیم گوٹھ اور کچی آبادیاں ہیں۔ بظاہر تو متوسط طبقے کے اس گلستان میں سڑکیں، مکانات اور فلیٹوں کے کمپلیکس شہری قوانین کے تحت تعمیر ہوتے ہیں مگر اس وسیع العریض بستی میں مختلف نوعیت کی زمین پر قبضے کی مافیاز قائم ہوچکی ہیں۔
ان مافیاز کو مختلف سیاسی جماعتوں کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے۔ یہ لینڈ مافیاز خاص طور پر پلاٹوں اور فلیٹوں پر قبضے کرتی ہیں۔ ان املاک کی ملکیت کے جعلی کاغذات تیار کرائے جاتے ہیںاورانھیں فروخت کردیا جاتا ہے۔ جن لوگوں کا جائیدادوں پر قبضہ ہوتا ہے پولیس ان کی مدد نہیں کرتی۔ انھیں قبضہ مافیا کے مطالبے کو پورا کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقے کے مکینوں کو مکان کی تعمیر، فلیٹوں پر قانونی قبضے، علاقے میں سڑکوں کی تعمیر اور شادی بیاہ کے موقعے پر ایک مخصوص رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ گلستانِ جوہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں سرگرم بیشتر سیاسی جماعتیں مختلف لینڈ مافیاز کی سرپرستی کرتی ہیں، ان مافیاز کے کارندوں کے درمیان مسلح تصادم بھی ہوتے رہتے ہیں۔
ایک صحافی کا کہنا ہے کہ گلستانِ جوہر میں دکانداروں، کیبل آپریٹروں حتیٰ کہ منرل پانی فراہم کرنے والوں کو بھی مختلف افراد کو بھتے دینے پڑتے ہیں۔ جب ان مسلح گروہوں میں خونریز تصادم ہوتا ہے تو بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ اس علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کی شرح زیادہ ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والوں میں بلوچستان کے ایک وزیر سمیت پولیس اور سویلین افسران، بینکرز، تاجر ،خواتین سب ہی شامل ہیں مگر اب کراچی میں صرف گلستانِ جوہر میں ہی لینڈ مافیا متحرک نہیں بلکہ شہر کے بیشتر علاقے اس صورتحال کا شکار ہیں۔
مختلف سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں بھتہ مافیا تاجروں اور صنعتکاروں سے بھتے وصول کرتی ہیں۔ ان مافیاز کا دائرہ کار اولڈ ایریا سے ایک طرف ڈیفنس اور کلفٹن تو دوسری طرف حب چوکی اور گھگھر پھاٹک تک پہنچ چکاہے۔ کراچی کے کاروباری علاقے کھارادر اور میٹھادر اور اطراف میں درجنوں نوجوان موٹر سائیکلوں پر گشت کرتے ہیں۔ تاجروں اور علاقے کے مکینوں سے رقم وصول کرتے ہیں اور جو لوگ مزاحمت کرتے ہیں انھیں زندگی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ کھارادر جیسا پر امن علاقہ موت کی وادی بنا دیا گیا ہے۔
کراچی میں لوگ بھتے کی پرچی پر فوری رقم نہیں دیتے، پہلے انھیں تحریری وارننگ دی جاتی ہے، پھر ان لوگوں کے گھروں یا دکانوں پر کریکر پھینکے جاتے ہیں۔ان کریکروں کے پھٹنے سے خوفناک دھماکے ہوتے ہیں۔ جب متعلقہ فرد بہادری کا مظاہرہ کرکے ان کریکرز کے دھماکوں کو خاطر میں نہیں لاتا تو پھر دستی بم پھینکے جاتے ہیں۔ دستی بموں سے بعض اوقات لوگ زخمی ہوتے ہیں جب کہ بعض اوقات ان سے ہلاکتیں بھی واقع ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اغوا برائے تاوان کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے اسکولوں سے گزشتہ ماہ 50 بچے اغوا کیے گئے۔ جن لوگوں نے رقم ادا کردی ان کے بچے منٹوں میں رہا ہوگئے۔
سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سرکاری طور پر یہ بات تسلیم کی گئی کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں گھگھر پھاٹک سے حب چوکی تک طالبان نے اپنی کمین گاہیں بنالی ہیں۔ ان علاقوں میں پولیس والے داخل نہیں ہوتے۔ طالبان اپنی عدالتیں لگاتے ہیں اور ملزمان کو سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں کیبل ٹیلی وژن کا نظام بھی معطل ہوچکا ہے۔ پولیس افسران کہتے ہیں کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بموں کے دھماکوں کا طالبان کے زیر کنٹرول علاقے سے قریبی تعلق ہے۔ یہ بات درست ہے مگر حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صرف طالبان ہی نہیں بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں کے کارندے بھی مختلف نوعیت کی مافیاز کی سرپرستی کرتے ہیں۔ پورا لیاری ٹائون شیراز کامریڈ اور گینگ وار کے مسلح کارندوں کے قبضے میں ہے ۔ شہر میں پولیس اور سول انٹیلی جنس نیٹ ورک ناکارہ ہوچکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی ملزم کو عدالتوں سے سزا نہیں ہوتی۔ سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان عدالتوں سے رہا ہوجاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ عدالتیں گواہ نہ ہونے پر ملزمان کو رہا کرتی ہیں۔ پولیس گواہوں کو تحفظ نہیں دے پاتی۔ کراچی شہر امن و امان کے حوالے سے بدترین صورتحال سے گزررہا ہے۔ موجودہ حکومت حالات کو بہتر بنانے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ صورت حال مستقل خوفناک ہے، لیکن اس افسوسناک صورتحال میں بھی خوشنود کی مسکراہٹوں کو یاد کرکے اچھے دنوں کی امید رکھی جاسکتی ہے۔
خوشنود اور اس کی مسکراہٹیں بھی ان ہزاروں کی چیخوں میں کہیں کھو جائیں گی جو اب ہمارے درمیاں نہیں رہے۔ خوشنود شیخ نے امریکا میں تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے 1986 میں سرکاری خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (APP) میں رپورٹر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی۔ خوشنود نے اپنے کیریئر کے دوران اقتصادیات، سیاسیات، عدالتی مقدمات وغیرہ کے موضوعات پر رپورٹنگ کی۔ انھوں نے انھی موضوعات پر ملکی اور غیر ملکی جرائد میں آرٹیکل تحریر کیے۔ جب پیپلز پارٹی کے دوسرے دور میں کمال اظفر سندھ کے گورنر بنائے گئے تو خوشنود کو گورنر ہائوس کا پریس سیکریٹری مقرر کیا گیا مگر پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے پر دوبارہ خوشنود رپورٹر بن گئے۔
خوشنود نے سرکاری خبررساں ایجنسی میں صحافیوں اور کارکنوں کے حالات کار بہتر بنانے کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا۔ کراچی پریس کلب کی سیاست میں بھی دلچسپی لیتے رہے۔ انھوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ کرائے کے مکانوں میں گزارا۔ پھر انھوں نے کراچی کی نسبتاً نئی بستی گلستانِ جوہر میں مکان تعمیر کرایا۔ یوں خوشنود کی زندگی کے برے دن شروع ہوگئے۔ گلستانِ جوہر میں سرگرم ایک مافیا نے انھیں مکان کی تعمیر کی اجازت کے لیے 5 لاکھ روپے بھتے کی پرچی بھیجی۔ خوشنود کے پاس مکان کی تعمیر کے لیے رقم محدود تھی۔ ایک صحافی کے لیے کسی غیر قانونی مطالبے کو تسلیم کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اس لیے خوشنود نے مافیا کے اس مطالبے کو مسترد کردیا۔ پھر خوشنود کی زندگی خطرے میں پڑ گئی۔
انھیں ان کی اہلیہ کو قتل کرنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ خوشنود نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مدد حاصل کی۔ پھر وہ دوستوں کے مشورے پر اسلام آباد منتقل ہوگئے۔ خوشنود طویل عرصہ اسلام آباد میں گزارنے کے بعد کراچی آئے اور اپنی اہلیہ اور لے پالک بچے کے ساتھ نئے مکان میں مقیم ہوگئے۔ انھوں نے دوستوں اور خیرخواہوں کو بتایا کہ اب وہ لینڈ مافیا کی دھمکیوں کی زد میں نہیں ہیں اور خطرہ ٹل گیا ہے۔ خوشنود 25 فروری کی رات کو خریداری کرنے گھر سے نکلے۔
گلستانِ جوہر کے علاقے کامران چورنگی کی چوڑی سڑک پر دن میں تو ٹریفک کی بھیڑ ہوتی ہے مگر جب سورج مغرب کے بعد ڈوب جاتا ہے تو یہ سڑک سنسان ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر اتوار کو رات ہوتے ہی یہ سڑک ٹریفک کی منتظر نظر آتی ہے۔ یوں اس خاموش ماحول میں ایک تیز رفتار کار نے خوشنود کو سڑک پار کرتے ہوئے کچل دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کار ڈرائیور نے جان بوجھ کر خوشنود کو نشانہ بنایا۔ خوشنود کو شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔ خوشنود علی شیخ 57 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
پورے ملک میں صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، صرف دو ماہ میں 5 سے زیادہ صحافی قتل ہوچکے ہیں مگر ملک کے تجارتی دارالحکومت کراچی میں بھی صحافیوں کو ان ہی حالات کا سامنا ہے جن کا سامنا صحافی بلوچستان، خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں کررہے ہیں۔ خوشنود نے کراچی کی آبادی گلستانِ جوہر میں مکان تعمیر کیا تھا۔ گلستان جوہر سابقہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA) کی منظور شدہ اسکیم ہے۔ یہ علاقہ مکانات کے علاوہ فلیٹوں پر بھی مشتمل ہے۔ اس علاقے میں ہزاروں فلیٹ تعمیر ہوئے ہیں۔ گلستانِ جوہر کے اطراف میں سندھیوں کے قدیم گوٹھ اور کچی آبادیاں ہیں۔ بظاہر تو متوسط طبقے کے اس گلستان میں سڑکیں، مکانات اور فلیٹوں کے کمپلیکس شہری قوانین کے تحت تعمیر ہوتے ہیں مگر اس وسیع العریض بستی میں مختلف نوعیت کی زمین پر قبضے کی مافیاز قائم ہوچکی ہیں۔
ان مافیاز کو مختلف سیاسی جماعتوں کی سرپرستی اور حمایت حاصل ہے۔ یہ لینڈ مافیاز خاص طور پر پلاٹوں اور فلیٹوں پر قبضے کرتی ہیں۔ ان املاک کی ملکیت کے جعلی کاغذات تیار کرائے جاتے ہیںاورانھیں فروخت کردیا جاتا ہے۔ جن لوگوں کا جائیدادوں پر قبضہ ہوتا ہے پولیس ان کی مدد نہیں کرتی۔ انھیں قبضہ مافیا کے مطالبے کو پورا کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقے کے مکینوں کو مکان کی تعمیر، فلیٹوں پر قانونی قبضے، علاقے میں سڑکوں کی تعمیر اور شادی بیاہ کے موقعے پر ایک مخصوص رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ گلستانِ جوہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں سرگرم بیشتر سیاسی جماعتیں مختلف لینڈ مافیاز کی سرپرستی کرتی ہیں، ان مافیاز کے کارندوں کے درمیان مسلح تصادم بھی ہوتے رہتے ہیں۔
ایک صحافی کا کہنا ہے کہ گلستانِ جوہر میں دکانداروں، کیبل آپریٹروں حتیٰ کہ منرل پانی فراہم کرنے والوں کو بھی مختلف افراد کو بھتے دینے پڑتے ہیں۔ جب ان مسلح گروہوں میں خونریز تصادم ہوتا ہے تو بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں۔ اس علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کی شرح زیادہ ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والوں میں بلوچستان کے ایک وزیر سمیت پولیس اور سویلین افسران، بینکرز، تاجر ،خواتین سب ہی شامل ہیں مگر اب کراچی میں صرف گلستانِ جوہر میں ہی لینڈ مافیا متحرک نہیں بلکہ شہر کے بیشتر علاقے اس صورتحال کا شکار ہیں۔
مختلف سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں بھتہ مافیا تاجروں اور صنعتکاروں سے بھتے وصول کرتی ہیں۔ ان مافیاز کا دائرہ کار اولڈ ایریا سے ایک طرف ڈیفنس اور کلفٹن تو دوسری طرف حب چوکی اور گھگھر پھاٹک تک پہنچ چکاہے۔ کراچی کے کاروباری علاقے کھارادر اور میٹھادر اور اطراف میں درجنوں نوجوان موٹر سائیکلوں پر گشت کرتے ہیں۔ تاجروں اور علاقے کے مکینوں سے رقم وصول کرتے ہیں اور جو لوگ مزاحمت کرتے ہیں انھیں زندگی سے محروم کردیا جاتا ہے۔ کھارادر جیسا پر امن علاقہ موت کی وادی بنا دیا گیا ہے۔
کراچی میں لوگ بھتے کی پرچی پر فوری رقم نہیں دیتے، پہلے انھیں تحریری وارننگ دی جاتی ہے، پھر ان لوگوں کے گھروں یا دکانوں پر کریکر پھینکے جاتے ہیں۔ان کریکروں کے پھٹنے سے خوفناک دھماکے ہوتے ہیں۔ جب متعلقہ فرد بہادری کا مظاہرہ کرکے ان کریکرز کے دھماکوں کو خاطر میں نہیں لاتا تو پھر دستی بم پھینکے جاتے ہیں۔ دستی بموں سے بعض اوقات لوگ زخمی ہوتے ہیں جب کہ بعض اوقات ان سے ہلاکتیں بھی واقع ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اغوا برائے تاوان کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے اسکولوں سے گزشتہ ماہ 50 بچے اغوا کیے گئے۔ جن لوگوں نے رقم ادا کردی ان کے بچے منٹوں میں رہا ہوگئے۔
سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سرکاری طور پر یہ بات تسلیم کی گئی کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں گھگھر پھاٹک سے حب چوکی تک طالبان نے اپنی کمین گاہیں بنالی ہیں۔ ان علاقوں میں پولیس والے داخل نہیں ہوتے۔ طالبان اپنی عدالتیں لگاتے ہیں اور ملزمان کو سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان علاقوں میں کیبل ٹیلی وژن کا نظام بھی معطل ہوچکا ہے۔ پولیس افسران کہتے ہیں کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان اور بموں کے دھماکوں کا طالبان کے زیر کنٹرول علاقے سے قریبی تعلق ہے۔ یہ بات درست ہے مگر حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صرف طالبان ہی نہیں بلکہ دوسری سیاسی جماعتوں کے کارندے بھی مختلف نوعیت کی مافیاز کی سرپرستی کرتے ہیں۔ پورا لیاری ٹائون شیراز کامریڈ اور گینگ وار کے مسلح کارندوں کے قبضے میں ہے ۔ شہر میں پولیس اور سول انٹیلی جنس نیٹ ورک ناکارہ ہوچکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کسی ملزم کو عدالتوں سے سزا نہیں ہوتی۔ سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان عدالتوں سے رہا ہوجاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ عدالتیں گواہ نہ ہونے پر ملزمان کو رہا کرتی ہیں۔ پولیس گواہوں کو تحفظ نہیں دے پاتی۔ کراچی شہر امن و امان کے حوالے سے بدترین صورتحال سے گزررہا ہے۔ موجودہ حکومت حالات کو بہتر بنانے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ صورت حال مستقل خوفناک ہے، لیکن اس افسوسناک صورتحال میں بھی خوشنود کی مسکراہٹوں کو یاد کرکے اچھے دنوں کی امید رکھی جاسکتی ہے۔