پاکستانی معاشی صورتحال کو آفت نہیں کہا جاسکتا یاسین انور
اقتصادی صورت حال موزوں ہے نہ خطرہ لاحق، معیشت مشکل حالات سے نکلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، غیر دستاویزی معیشت۔۔۔
مالی نظام میں بہتری، متوازن ضوابط، ریونیو مشینری موثر، بجٹ خسارے سے نمٹنے کیلیے وصولیوں میں اضافہ، ٹیکس چوری پر سزا ہونی چاہیے، پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں لیکچر۔ فوٹو: فائل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر یاسین انور نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت مشکل حالات سے نکلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
منگل کو پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال موزوں ترین نہیں تاہم اسے معاشی آفت بھی نہیں کہا جا سکتا، 65 سال میں پاکستان حد سے زیادہ گرانی (hyperinflation) کے مرحلے سے کبھی نہیں گزرا، پاکستان اپنے بین الاقوامی اور ملکی قرضوں پر کبھی نادہند نہیں ہوا، حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 6عشروں میں ہماری معیشت نے شاندار نہیں مگر مسلسل ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی بین الاقوامی تنہائی اور پابندیوں کے ادوار، 3 مہنگی جنگوں، 2 دشمن محاذوں، مسلسل سیاسی انتشار، سماجی بے چینی، تیل کی قیمت میں تیزی سے اضافے اور بہت سے دوسرے عوامل کے باوجود ہوئی۔
یاسین انور نے کہا کہ ہمارے مالی نظام میں بہت بہتری کی گنجائش ہے۔ انہوں نے مؤثر قرضہ مارکیٹوں کی تشکیل، مزید بہتر ریگولیٹری و رپورٹنگ طریقہ کار اور مالی شعبے کا دائرہ وسیع کر کے اس میں معیشت کے بینکاری سے محروم شعبوں جیسے زراعت، چھوٹے ودرمیانے کاروبار اور ہاؤسنگ کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس ضرورت کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہمارا مالی نظام ساخت کے لحاظ سے محفوظ ہے اور بحیثیت مجموعی معیشت کے لیے خطرہ نہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی غیردستاویزی معیشت کا حجم بعض تخمینوں کے مطابق رسمی معیشت جتنا بڑا ہے، ہم نظریاتی لحاظ سے مختصر غیر رسمی معیشت دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ معاشرہ اسے برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے یہ مضبوط ہے۔
انہوں نے ملکی مارکیٹوں کی عالمی مارکیٹوں سے وسیع تر یکجائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے مناسب کنٹرولز اور طریقے اختیار نہ کریں، مالی مارکیٹوں سے وسیع تر روابط کا مطلب ہو گا کہ ہماری سرحدوں سے سرمائے کا بہاؤ تیز ہو جائے گا، اس سے قومی معیشت ترقی کرے گی لیکن جیسا بیشتر مشرقی ایشیائی ممالک نے 90 کی دہائی میں سیکھا، ایسا اقدام دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے سرمائے کے بہاؤ میں ہونے والے اتار چڑھائو میں کمی کے لیے سرمائے پر بعض کنٹرولز برقرار رکھناآج کے دور میں ریگولیشن کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے لیے مزید موثر ضوابط وقت کی ضرورت ہیں نیز معیشت کو مستقل اور پائیدار نمو کے راستے پر لانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان میں مؤثر ضوابط بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کے بعض شعبوں میں حکومت کے اثرات بہت نمایاں اور بعض شعبوں میں برائے نام ہیں، اتنا فرق غیرصحت مندانہ ہے، دوسرے شعبوں میں موثر ضوابط کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس مشینری خاصی مؤثر بنائی جا سکتی ہے، ملک کو درپیش اہم ترین مسائل میں سے ایک مسئلہ مالیاتی خسارے کا حجم ہے اور اس کا حل اس امر میں ہے کہ ہم اپنے ٹیکس کی بنیاد بڑھائیں جس کے لیے ایسے ضوابط کے نفاذ کی ضرورت ہے جن سے ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی ہو اور ٹیکس چوری پر سزا ملے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ حکومت کو مرکزی بینک سے قرض حاصل کرنے میں کمی لانے کی ضرورت ہے، مرکزی بینک سے قرض کو عام طور پر نوٹ چھاپنا کہا جاتا ہے۔
مرکزی بینک سے حکومت کا قرض کم ہونے سے مہنگائی بھی کم ہو گی چنانچہ ٹیکس کی بہتر وصولی معیشت کی تیزتر ترقی کے لیے لازمی شرط ہے اور اس کے لیے ہمیں مزید موثر ٹیکس ضوابط درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال اوسط گرانی 8.50 سے 9.50 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، ہر 2 ماہ بعد شرح سود کا جائزہ لیا جاتا ہے، ان پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے، اس طرح ہمارے پالیسی اقدامات تیزی سے سامنے آتے ہیں اور اقتصادی ماحول میں کسی بھی تبدیلی پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یاسین انور نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اس امر کو بھی یقینی بناتا ہے کہ منی مارکیٹ میں رقوم کی قلت نہ پڑے، یعنی مانیٹری پالیسی کے سگنلز کی مؤثر ترسیل ہوتی رہے۔
منگل کو پاکستان نیوی وار کالج لاہور میں لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال موزوں ترین نہیں تاہم اسے معاشی آفت بھی نہیں کہا جا سکتا، 65 سال میں پاکستان حد سے زیادہ گرانی (hyperinflation) کے مرحلے سے کبھی نہیں گزرا، پاکستان اپنے بین الاقوامی اور ملکی قرضوں پر کبھی نادہند نہیں ہوا، حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 6عشروں میں ہماری معیشت نے شاندار نہیں مگر مسلسل ترقی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترقی بین الاقوامی تنہائی اور پابندیوں کے ادوار، 3 مہنگی جنگوں، 2 دشمن محاذوں، مسلسل سیاسی انتشار، سماجی بے چینی، تیل کی قیمت میں تیزی سے اضافے اور بہت سے دوسرے عوامل کے باوجود ہوئی۔
یاسین انور نے کہا کہ ہمارے مالی نظام میں بہت بہتری کی گنجائش ہے۔ انہوں نے مؤثر قرضہ مارکیٹوں کی تشکیل، مزید بہتر ریگولیٹری و رپورٹنگ طریقہ کار اور مالی شعبے کا دائرہ وسیع کر کے اس میں معیشت کے بینکاری سے محروم شعبوں جیسے زراعت، چھوٹے ودرمیانے کاروبار اور ہاؤسنگ کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس ضرورت کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ہمارا مالی نظام ساخت کے لحاظ سے محفوظ ہے اور بحیثیت مجموعی معیشت کے لیے خطرہ نہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی غیردستاویزی معیشت کا حجم بعض تخمینوں کے مطابق رسمی معیشت جتنا بڑا ہے، ہم نظریاتی لحاظ سے مختصر غیر رسمی معیشت دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ معاشرہ اسے برقرار رکھنا چاہتا ہے اور اسی وجہ سے یہ مضبوط ہے۔
انہوں نے ملکی مارکیٹوں کی عالمی مارکیٹوں سے وسیع تر یکجائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے مناسب کنٹرولز اور طریقے اختیار نہ کریں، مالی مارکیٹوں سے وسیع تر روابط کا مطلب ہو گا کہ ہماری سرحدوں سے سرمائے کا بہاؤ تیز ہو جائے گا، اس سے قومی معیشت ترقی کرے گی لیکن جیسا بیشتر مشرقی ایشیائی ممالک نے 90 کی دہائی میں سیکھا، ایسا اقدام دو دھاری تلوار ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے سرمائے کے بہاؤ میں ہونے والے اتار چڑھائو میں کمی کے لیے سرمائے پر بعض کنٹرولز برقرار رکھناآج کے دور میں ریگولیشن کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے لیے مزید موثر ضوابط وقت کی ضرورت ہیں نیز معیشت کو مستقل اور پائیدار نمو کے راستے پر لانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان میں مؤثر ضوابط بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کے بعض شعبوں میں حکومت کے اثرات بہت نمایاں اور بعض شعبوں میں برائے نام ہیں، اتنا فرق غیرصحت مندانہ ہے، دوسرے شعبوں میں موثر ضوابط کی شدید کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس مشینری خاصی مؤثر بنائی جا سکتی ہے، ملک کو درپیش اہم ترین مسائل میں سے ایک مسئلہ مالیاتی خسارے کا حجم ہے اور اس کا حل اس امر میں ہے کہ ہم اپنے ٹیکس کی بنیاد بڑھائیں جس کے لیے ایسے ضوابط کے نفاذ کی ضرورت ہے جن سے ٹیکس ادائیگی کی حوصلہ افزائی ہو اور ٹیکس چوری پر سزا ملے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ حکومت کو مرکزی بینک سے قرض حاصل کرنے میں کمی لانے کی ضرورت ہے، مرکزی بینک سے قرض کو عام طور پر نوٹ چھاپنا کہا جاتا ہے۔
مرکزی بینک سے حکومت کا قرض کم ہونے سے مہنگائی بھی کم ہو گی چنانچہ ٹیکس کی بہتر وصولی معیشت کی تیزتر ترقی کے لیے لازمی شرط ہے اور اس کے لیے ہمیں مزید موثر ٹیکس ضوابط درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال اوسط گرانی 8.50 سے 9.50 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، ہر 2 ماہ بعد شرح سود کا جائزہ لیا جاتا ہے، ان پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے، اس طرح ہمارے پالیسی اقدامات تیزی سے سامنے آتے ہیں اور اقتصادی ماحول میں کسی بھی تبدیلی پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ یاسین انور نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اس امر کو بھی یقینی بناتا ہے کہ منی مارکیٹ میں رقوم کی قلت نہ پڑے، یعنی مانیٹری پالیسی کے سگنلز کی مؤثر ترسیل ہوتی رہے۔