ایف بی آر نے تمام کسٹمز کلکٹرز کے اختیارات ختم کردیے
چیف کلکٹرز سے تنازع پر کلکٹرز اختیارات آئی اوسی او کراچی کو منتقل کر دیے گئے
کسٹمز رولز2001 میں ترامیم، داخلی حکم جاری، نوٹیفکیشن بھی جلد متوقع ہے، ذرائع۔ فوٹو : فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر کے کسٹمز کلکٹرز کے اختیارات ختم کردیے ہیں۔
ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کسٹمز رولز 2001 میں ترامیم کردی ہیں جس کا آئندہ 2 میں باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا جائے گا، ایف بی آر نے چیف کلکٹرز اور کلکٹرز کے درمیان اختیارات کا تنازع شدت اختیار کرنے کی وجہ سے کلکٹرز کسٹمز کے اختیارات ختم کیے اور اب یہ اختیارات ان پٹ آؤٹ پٹ کو آفیزینٹ آرگنائزیشن (آئی او سی او) کراچی کو دے دیے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے انٹرنل نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے البتہ ابھی اسے پبلک نہیں کیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ 2 دن میں اس نوٹیفکیشن کو پبلک کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اختیارات آئی او سی او کراچی کومنتقل کیے جانے کے بعد اب کلکٹرز کسٹمز ڈیوٹی ڈرا بیک شرح کاتعین کرسکیں گے نہ رعایتی ایس آر اوز کے تحت رعایتی ڈیوٹی کا تعین کرسکیں گے، کلکٹرز سے سروے بیسڈ نوٹیفکیشن، ان پٹ آؤٹ پٹ کے تناسب اور فیکٹریوں میں تیار ہونے والی اشیا کے ضیاع کی شرح کے تعین سمیت دیگر تمام اختیارات بھی آئی او سی او کراچی کو دے دیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کلکٹز کسٹمز سے اختیارات لے کر ایسے ادارے کو دیے گئے ہیں جس کا نہ تو انفرااسٹرکچر مکمل ہے نہ اس کے پاس مطلوبہ تعداد میں اسٹاف موجودہے اور اب پورے ملک میں کہیں بھی ڈیوٹی ڈرا بیک کے تعین یا کلکٹرز کے کسٹمز سے متعلق دوسرے معاملات کے بارے میں کوئی اقدام کرنا ہوگا تو اسے کراچی بھجوانا پڑے گا جس سے نہ صرف ملکی برآمدات متاثر بلکہ ریونیو پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ ہے۔
ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کسٹمز رولز 2001 میں ترامیم کردی ہیں جس کا آئندہ 2 میں باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا جائے گا، ایف بی آر نے چیف کلکٹرز اور کلکٹرز کے درمیان اختیارات کا تنازع شدت اختیار کرنے کی وجہ سے کلکٹرز کسٹمز کے اختیارات ختم کیے اور اب یہ اختیارات ان پٹ آؤٹ پٹ کو آفیزینٹ آرگنائزیشن (آئی او سی او) کراچی کو دے دیے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے انٹرنل نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے البتہ ابھی اسے پبلک نہیں کیا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ 2 دن میں اس نوٹیفکیشن کو پبلک کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اختیارات آئی او سی او کراچی کومنتقل کیے جانے کے بعد اب کلکٹرز کسٹمز ڈیوٹی ڈرا بیک شرح کاتعین کرسکیں گے نہ رعایتی ایس آر اوز کے تحت رعایتی ڈیوٹی کا تعین کرسکیں گے، کلکٹرز سے سروے بیسڈ نوٹیفکیشن، ان پٹ آؤٹ پٹ کے تناسب اور فیکٹریوں میں تیار ہونے والی اشیا کے ضیاع کی شرح کے تعین سمیت دیگر تمام اختیارات بھی آئی او سی او کراچی کو دے دیے گئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کلکٹز کسٹمز سے اختیارات لے کر ایسے ادارے کو دیے گئے ہیں جس کا نہ تو انفرااسٹرکچر مکمل ہے نہ اس کے پاس مطلوبہ تعداد میں اسٹاف موجودہے اور اب پورے ملک میں کہیں بھی ڈیوٹی ڈرا بیک کے تعین یا کلکٹرز کے کسٹمز سے متعلق دوسرے معاملات کے بارے میں کوئی اقدام کرنا ہوگا تو اسے کراچی بھجوانا پڑے گا جس سے نہ صرف ملکی برآمدات متاثر بلکہ ریونیو پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ ہے۔