جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے اہلکار کا قتل
پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدیداحتجاج ریکارڈ کرایا ہے
پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدیداحتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ فوٹو: فائل
TEHRAN:
افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے عہدیدار نئیر اقبال رانا کو گھر کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق نئیر اقبال رانا پر پیر کی شام اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد واپس آ رہے تھے' دو حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ کسی جنگجو گروپ نے اس واقعہ کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ نیئر اقبال رانا جلال آباد میں پاکستانی قونصلیٹ میں اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری کے طور پر کام کررہے تھے ، پاکستان دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدیداحتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے جب کہ سفارتی اہلکاروں کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے۔
صدر مملکت ممنون حسین ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرخارجہ خواجہ آصف نے افغانستان میں پاکستانی سفارتی اہلکار کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان حکومت ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کرے اور پاکستانی سفارتی اہلکاروں کی موثر سیکیورٹی یقینی بنائے ۔افغانستان کا صوبہ ننگر ہار پاکستانی سرحد سے متصل ہے ، جلال آباد اس صوبے کی راج دھانی ہے اور یہ پشاور سے قریب ترین شہر ہے ۔ پاکستان کے سفارتی اہلکار کا جلال آباد میں قتل لمحہ فکریہ ہے' اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں مقیم پاکستانی سفارتکار محفوظ نہیں ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے فول پروف انتظامات کیے جانے چاہئیں' وہاں جو پاکستانی بھی جاتے ہیں ، ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے ، اس کے بارے میں بھی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔افغانستان کی حکومت کی کارکردگی کو سامنے رکھا جائے تو یہ امید کم ہی ہے کہ پاکستانی سفارتی اہلکار کے قاتل گرفتار کر لیے جائیں گے' وہاں تو حالت یہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں اور انھیں گرفتار نہیں کیا جا رہا' بہر حال افغانستان کی حکومت کو نئیر اقبال رانا کے قاتل گرفتار کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگانا چاہیے۔
یہ اس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بھی ہے۔ افغانستان عرصے سے ایک خطرناک ملک ہے اور یہاں بدامنی اور انارکی انتہا پر ہے' اخبارات میں ننگرہار کے گورنر کے حوالے سے یہ خبر شایع ہوئی ہے کہ پاکستانی سفارتی اہلکار سیکیورٹی تفصیلات فراہم کیے بغیر شاپنگ کے لیے گیا تھا' اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس واقعہ کو قونصل خانے کے مقتول اہلکار کی غفلت کا نتیجہ بتانا چاہتے ہیں۔ بہر حال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو' اگر ایک جرم ہوا ہے تو اس جرم کے مرتکب مجرموں تک پہنچنا بھی ضروری ہے۔ افغانستان کی حکومت کو اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ اب دیکھنا یہ کہ افغانستان کی حکومت اس حوالے سے کیا کرتی ہے۔پاکستان کو افغانستان میں کام کرنے والے پاکستانی سفارتی اہلکاروں کی حفاظت کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔
افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے شہر جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے عہدیدار نئیر اقبال رانا کو گھر کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق نئیر اقبال رانا پر پیر کی شام اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد واپس آ رہے تھے' دو حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ کسی جنگجو گروپ نے اس واقعہ کی ذمے داری قبول نہیں کی۔ نیئر اقبال رانا جلال آباد میں پاکستانی قونصلیٹ میں اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری کے طور پر کام کررہے تھے ، پاکستان دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدیداحتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے جب کہ سفارتی اہلکاروں کی سیکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ بھی کیاگیا ہے۔
صدر مملکت ممنون حسین ، وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرخارجہ خواجہ آصف نے افغانستان میں پاکستانی سفارتی اہلکار کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ، وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان حکومت ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کرے اور پاکستانی سفارتی اہلکاروں کی موثر سیکیورٹی یقینی بنائے ۔افغانستان کا صوبہ ننگر ہار پاکستانی سرحد سے متصل ہے ، جلال آباد اس صوبے کی راج دھانی ہے اور یہ پشاور سے قریب ترین شہر ہے ۔ پاکستان کے سفارتی اہلکار کا جلال آباد میں قتل لمحہ فکریہ ہے' اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں مقیم پاکستانی سفارتکار محفوظ نہیں ہیں اور ان کی حفاظت کے لیے فول پروف انتظامات کیے جانے چاہئیں' وہاں جو پاکستانی بھی جاتے ہیں ، ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے ، اس کے بارے میں بھی اطلاعات آتی رہتی ہیں۔افغانستان کی حکومت کی کارکردگی کو سامنے رکھا جائے تو یہ امید کم ہی ہے کہ پاکستانی سفارتی اہلکار کے قاتل گرفتار کر لیے جائیں گے' وہاں تو حالت یہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گرد وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں اور انھیں گرفتار نہیں کیا جا رہا' بہر حال افغانستان کی حکومت کو نئیر اقبال رانا کے قاتل گرفتار کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگانا چاہیے۔
یہ اس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس بھی ہے۔ افغانستان عرصے سے ایک خطرناک ملک ہے اور یہاں بدامنی اور انارکی انتہا پر ہے' اخبارات میں ننگرہار کے گورنر کے حوالے سے یہ خبر شایع ہوئی ہے کہ پاکستانی سفارتی اہلکار سیکیورٹی تفصیلات فراہم کیے بغیر شاپنگ کے لیے گیا تھا' اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس واقعہ کو قونصل خانے کے مقتول اہلکار کی غفلت کا نتیجہ بتانا چاہتے ہیں۔ بہر حال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو' اگر ایک جرم ہوا ہے تو اس جرم کے مرتکب مجرموں تک پہنچنا بھی ضروری ہے۔ افغانستان کی حکومت کو اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ اب دیکھنا یہ کہ افغانستان کی حکومت اس حوالے سے کیا کرتی ہے۔پاکستان کو افغانستان میں کام کرنے والے پاکستانی سفارتی اہلکاروں کی حفاظت کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔