پاکستان فٹبال فیڈریشن بھی مالی مشکلات کا رونا رونے لگی
مجموعی بجٹ کا ایک چوتھائی قومی پریمیئر لیگ پر خر چ ہوجاتا ہے، احمد یار
بڑی تعداد میں ایک ساتھ مقابلوں سے ٹیموں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے، لطفی۔ فوٹو: فائل
TEHRAN:
پاکستان فٹبال فیڈریشن بھی مالی مشکلات کا رونا رونے لگی، کرکٹ کے شیدائی ملک میں مقبولیت کے حوالے سے بہت پیچھے رہ جانے والے کھیل کے لیے اسپانسرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔
مقابلوں کے انعقاد اور دیگر امور کے لیے فیفا اور اے ایف سی کی امداد سے کام چلایا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ایف ایف کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ نوید حیدر ایک طرف انڈین پریمئر لیگ کرکٹ کی طرز پر مئی یا ستمبر میں پاکستان فٹبال لیگ کروانے کیلیے پر تول رہے ہیں تو دوسری طرف سیکریٹری احمد یار خان لودھی کا کہنا ہے کہ مجموعی بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ تو 16 ٹیموں پر مشتمل قومی پریمیئر لیگ پر خرچ ہوجاتا ہے، 240 مقابلوں پر ایک کروڑ 35 لاکھ کے قریب لاگت آجاتی ہے۔
دوسری طرف سابق قومی کوچ طارق لطفی کا کہنا ہے کہ اخراجات کم سے کم رکھنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں میچ صرف 5 ماہ میں کروائے جانے کے نتیجے میں کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع نہیں ملتے، انجریز اور فٹنس مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے خاص طور ان کی ٹیموں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے جن کے پاس اچھے کھلاڑیوں کی تعداد پہلے ہی زیادہ نہیں ہوتی۔
احمد یار خان لودھی کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود پی ایف ایف ہمیشہ فٹبال کے فروغ کے لیے سرگرم رہی ہے، آئندہ سیزن میں پاکستان پریمئر لیگ میں شرکت کرنے والی ہر ٹیم پر لازم ہوگا کہ وہ کم ازکم دو انڈر 19 کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے کا موقع فراہم کرے، رواں سال فیفا کی مالی معاونت سے کئی اکیڈمیز بھی کام شروع کر دیں گی۔
یاد رہے کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد کرکٹ کی گرویدہ ہے،عالمی رینکنگ میں بہت پیچھے رہ جانے والے فٹبال کی مقبولیت اتنی نہیں کہ اسپانسرز کی بڑی تعداد اس کی جانب راغب ہو،اس صورتحال میں پی ایف ایف کو مقابلوں کے انعقاد اور دیگر امور کے لیے فیفا اور ایشین کنفیڈریشن کے فنڈز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان فٹبال فیڈریشن بھی مالی مشکلات کا رونا رونے لگی، کرکٹ کے شیدائی ملک میں مقبولیت کے حوالے سے بہت پیچھے رہ جانے والے کھیل کے لیے اسپانسرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔
مقابلوں کے انعقاد اور دیگر امور کے لیے فیفا اور اے ایف سی کی امداد سے کام چلایا جارہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ایف ایف کے مارکیٹنگ کنسلٹنٹ نوید حیدر ایک طرف انڈین پریمئر لیگ کرکٹ کی طرز پر مئی یا ستمبر میں پاکستان فٹبال لیگ کروانے کیلیے پر تول رہے ہیں تو دوسری طرف سیکریٹری احمد یار خان لودھی کا کہنا ہے کہ مجموعی بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ تو 16 ٹیموں پر مشتمل قومی پریمیئر لیگ پر خرچ ہوجاتا ہے، 240 مقابلوں پر ایک کروڑ 35 لاکھ کے قریب لاگت آجاتی ہے۔
دوسری طرف سابق قومی کوچ طارق لطفی کا کہنا ہے کہ اخراجات کم سے کم رکھنے کے لیے اتنی بڑی تعداد میں میچ صرف 5 ماہ میں کروائے جانے کے نتیجے میں کھلاڑیوں کو صلاحیتوں کے اظہار کے بھرپور مواقع نہیں ملتے، انجریز اور فٹنس مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے خاص طور ان کی ٹیموں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے جن کے پاس اچھے کھلاڑیوں کی تعداد پہلے ہی زیادہ نہیں ہوتی۔
احمد یار خان لودھی کا کہنا ہے کہ محدود وسائل کے باوجود پی ایف ایف ہمیشہ فٹبال کے فروغ کے لیے سرگرم رہی ہے، آئندہ سیزن میں پاکستان پریمئر لیگ میں شرکت کرنے والی ہر ٹیم پر لازم ہوگا کہ وہ کم ازکم دو انڈر 19 کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے کا موقع فراہم کرے، رواں سال فیفا کی مالی معاونت سے کئی اکیڈمیز بھی کام شروع کر دیں گی۔
یاد رہے کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد کرکٹ کی گرویدہ ہے،عالمی رینکنگ میں بہت پیچھے رہ جانے والے فٹبال کی مقبولیت اتنی نہیں کہ اسپانسرز کی بڑی تعداد اس کی جانب راغب ہو،اس صورتحال میں پی ایف ایف کو مقابلوں کے انعقاد اور دیگر امور کے لیے فیفا اور ایشین کنفیڈریشن کے فنڈز پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔