ریسکیو 1122 کی غیر فعالیت کا نوٹس لیا جائے شہری

کروڑوں کی مالیت سے خریدی گئی 15 ایمبولینسوں میں سے 10 خراب ہوگئیں.

ڈاکٹر اترداس نے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کراچی تعیناتی کیلیے کوششیں شروع کردیں. فوٹو: ایکسپریس / فائل

سانحہ عباس ٹاؤن میں زخموں سے چور انسانوں کوبچانے اورانھیں فوری طبی امدادکی فراہمی کیلیے ریسکیو1122ایمبولینس سروسز زخمیوں کو ابتدائی امداد فراہم نہیں کرسکی۔

سانحے میں خدمت خلق، چھیپا،ایدھی اور امن فاؤنڈیشن سمیت دیگر نجی اداروں کی ایمبولینس سروسز نے اپنا فریضہ انجام دیا، ریسکیو1122ایمبولینس گاڑیاں سابق ای ڈی او ہیلتھ کراچی اے ڈی سجنانی اور موجودہ سینئر ڈائریکٹر بلدیہ نے اپنے دور میں کروڑوں روپے کی مالیت سے خریدی تھیں تاہم ریسکیو 1122 سروس شہر میں رونما ہونیوالے حادثات اور سانحہ عباس ٹاؤن کے زخمیوں کو بچانے اورانھیں طبی امداد فراہم کرنے میں ناکام رہی۔




معلوم ہوا ہے کہ اے ڈی سجنانی نے جس کمپنی سے ایمبولینس خریدی تھیں ان سے گاڑیوں کی کوئی گارنٹی اور سروس وبیک اپ سہولتوں کی فراہمی کا تحریری معاہدہ نہیں کیا، یہ ایمبولینسیں3 سال قبل خریدی گئی تھیں جن کی تعداد15بتائی جاتی ہیں ان میں سے5 گاڑیاں فعال باقی خراب پڑی ہیں بیشتر گاڑیوں کے پارٹس بھی چوری ہوگئے ہیں،عوام نے ایڈمسنٹریٹر بلدیہ سید ہاشم رضا زیدی سے اپیل کی ہے کہ وہ سابق ای ڈی اواور ڈائریکٹر بلدیہ میڈیکل کے خلاف تحقیقات کرائیں کہ کراچی میں اتنا بڑا سانحہ ہوگیا اورعوام کو سہولت فراہم کرنے کیلیے کروڑوں روپے مالیت کی ایمبولینس سروسز کیوں غیر فعال تھی۔
Load Next Story