شہید افراد کے اہل خانہ پیاروں کی جدائی میں غم سے نڈھال
5 افراد کے گھر والے تصاویر ہاتھوں میں لے کر زاروقطار روتے رہے، دہشت گردوں کو بددعائیں
کراچی:سانحہ عبا س ٹائون میں متاثرین کے لیے لگائے گئے کیمپ میں لوگ سامان جمع کرارہے ہیں۔ فوٹو: این این آئی
سانحہ عباس ٹاؤن میں جاں بحق 5 افراد کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی جدائی میں شدت غم سے نڈھال دکھائی دیے جو ان کی تصاویر کو ہاتھوں میں لے کر انھیں دیکھ دیکھ کر زارو قطار روتے رہے۔
متاثرین دہشت گردوں کو بددعائیں بھی دیتے رہے۔ بم دھماکے میں شہید 42 سالہ سید عامر رضا زیدی جائیداد کی خرید و فروخت کاکاروبار کیا کرتے تھے اور مقتول کی اقرا سٹی میں اسٹیٹ ایجنسی کی دکان تھی۔ مرحوم نے 3 بیٹیاں ، ایک بیٹا اور بیوی کو سوگوارمیں چھوڑا ہے۔ عامر زیدی کے چھوٹے بھائی عاصم زیدی نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول 11بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔ دھماکے کے وقت عامر اقرا سٹی اپارٹمنٹ کی دکانوں میں قائم الحمرا پکوان سینٹر پر دوستوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔4مارچ کو عامر زیدی کے بیٹے ، بیٹی اور بہن کی سالگرہ تھی اور وہ لاہور میں مقیم چھوٹی بہن کو فون کال کر کے مبارک باد دینے کے بعد گھر سے نکل گئے تھے کہ یہ سانحہ ہو گیا۔
سید عامر رضا زیدی علاقے میں سماجی رہنما کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے اگر اقرا سٹی اپارٹمنٹ میں کوئی شخص کسی پریشانی میں دوچار ہوتا تو سب سے پہل عامر زیدی کے پاس آتا تھا۔ عامر زیدی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی پر اس وقت قابو پایا جا سکتا ہے جب لیڈران کی سیکیورٹی ختم کردی جائے تو2 دن میں دہشت گردی ختم ہو جائے گی ۔ جاں بحق ہونے والے اقرا سٹی کے فلیٹ نمبر U-020کے رہائشی 50 سالہ سید الطاف حسین ولد طفیل حسین اندرون سندھ مورو میں سبزی کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ وہ مہینے میں 2 سے 3 مرتبہ کراچی آکر اہلخانہ کو مہینے کا خرچ ، فلیٹ کا کرایہ اور بچوں کے اسکول کی فیس دیتے تھے۔
سید الطاف حسین کے اہلخانہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول الطاف مورو جانے کے لیے گھر سے روانہ ہو گئے تھے اور جیسے ہی اقرا سٹی کے مرکزی دروازے پر پہنچے تودوستوں سے ملنے رک گئے اور اسی دوران دھماکا ہو گیا۔ مقتول الطاف حسین نے 3 بیٹیاں، 2 بیٹے اور بیوہ کو سوگواران میں چھوڑا ہے۔ مرحوم کے بھائی منور علی نے بتایا کہ سیدالطاف حسین 5 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ دھماکے کے باعث مقتول کا بیٹا غم سے نیڈھال ہے جبکہ گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ الطاف حسین گھر کا واحد کفیل تھا اور ان کے جانے سے پورا خاندان انتہائی پریشانی کا شکار ہوگیا ہے ۔ جاں بحق ہونے والے اقرا سٹی کے فلیٹ U-15کے رہائشی 13سالہ علی زین ولد ذوالفقار علی کی والدہ شہلا نورین نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ زین علی بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھا اور اقرا سٹی اسکول کی تیسری جماعت کا طالب تھا۔
زین علی اپنے پھوپھی کے ہمراہ کورنگی میں قائم انڈس اسپتال میں داخل بیمار دادی کی عیادت کیلیے گیا تھا۔ واپس آنے کے بعد چیز خریدنے کے لیے گھر سے نکلا تھا کہ دھماکے میں جاں بحق ہو گیا۔ زین کے والد کنسٹرکشن کا جبکہ گھر کا خرچہ پورا کرنے کے لیے وہ خود سلائی کا کام کرتی ہیں۔ مقتول کے بھائی زریاب علی نے بتایا کہ دھماکے کے روز میری اپنے بھائی سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ مکان نمبر B-13 کے رہائشی 44سالہ فرحت مہدی جعفری ولد سید ناظر حسین جعفری اپنے بڑے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔ فرحت مہدی کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے 3 بیٹے اور ایک بیٹی ہے، میرے شوہر کی خواہش تھی کہ ان کی اولاد اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کر ے، وہ اپنے بڑے بیٹے کو ڈاکٹر اور سرجن بنانا چاہتے تھے ۔
عباس ٹائون بم دھاکے میں اسکردو سے کراچی تعلیم حاصل کرنے کیلیے آنے والا نوجوان 20 سالہ سعید احمد شاہ ولد یوسف شاہ بھی جاں بحق ہوا جس کی میت اسکردو روانہ کردی گئی۔ مقتول سعیدعباس ٹائون کے فلیٹ نمبر A-130 میں قائم ہاسٹل میں دیگر طالب علموں کے ہمراہ رہائش پذیرتھا۔ مقتول کے دوستوں نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہاسٹل میں تمام لوگ خود کھانا پکایا کرتے تھے اور مارکیٹ سے سبزی لانے کے لیے روزانہ کسی نہ کسی کی باری ہوا کرتی تھی۔ دھماکے کے روز مارکیٹ سے سبزی لانے کی باری سعید احمد شاہ کی تھی، جیسے ہی وہ اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی دکانوں کی جانب گیا تو دھماکا ہو گیا۔
متاثرین دہشت گردوں کو بددعائیں بھی دیتے رہے۔ بم دھماکے میں شہید 42 سالہ سید عامر رضا زیدی جائیداد کی خرید و فروخت کاکاروبار کیا کرتے تھے اور مقتول کی اقرا سٹی میں اسٹیٹ ایجنسی کی دکان تھی۔ مرحوم نے 3 بیٹیاں ، ایک بیٹا اور بیوی کو سوگوارمیں چھوڑا ہے۔ عامر زیدی کے چھوٹے بھائی عاصم زیدی نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول 11بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے ۔ دھماکے کے وقت عامر اقرا سٹی اپارٹمنٹ کی دکانوں میں قائم الحمرا پکوان سینٹر پر دوستوں کے ہمراہ بیٹھے ہوئے تھے۔4مارچ کو عامر زیدی کے بیٹے ، بیٹی اور بہن کی سالگرہ تھی اور وہ لاہور میں مقیم چھوٹی بہن کو فون کال کر کے مبارک باد دینے کے بعد گھر سے نکل گئے تھے کہ یہ سانحہ ہو گیا۔
سید عامر رضا زیدی علاقے میں سماجی رہنما کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے اگر اقرا سٹی اپارٹمنٹ میں کوئی شخص کسی پریشانی میں دوچار ہوتا تو سب سے پہل عامر زیدی کے پاس آتا تھا۔ عامر زیدی کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی پر اس وقت قابو پایا جا سکتا ہے جب لیڈران کی سیکیورٹی ختم کردی جائے تو2 دن میں دہشت گردی ختم ہو جائے گی ۔ جاں بحق ہونے والے اقرا سٹی کے فلیٹ نمبر U-020کے رہائشی 50 سالہ سید الطاف حسین ولد طفیل حسین اندرون سندھ مورو میں سبزی کا کاروبار کیا کرتا تھا۔ وہ مہینے میں 2 سے 3 مرتبہ کراچی آکر اہلخانہ کو مہینے کا خرچ ، فلیٹ کا کرایہ اور بچوں کے اسکول کی فیس دیتے تھے۔
سید الطاف حسین کے اہلخانہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول الطاف مورو جانے کے لیے گھر سے روانہ ہو گئے تھے اور جیسے ہی اقرا سٹی کے مرکزی دروازے پر پہنچے تودوستوں سے ملنے رک گئے اور اسی دوران دھماکا ہو گیا۔ مقتول الطاف حسین نے 3 بیٹیاں، 2 بیٹے اور بیوہ کو سوگواران میں چھوڑا ہے۔ مرحوم کے بھائی منور علی نے بتایا کہ سیدالطاف حسین 5 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ دھماکے کے باعث مقتول کا بیٹا غم سے نیڈھال ہے جبکہ گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ الطاف حسین گھر کا واحد کفیل تھا اور ان کے جانے سے پورا خاندان انتہائی پریشانی کا شکار ہوگیا ہے ۔ جاں بحق ہونے والے اقرا سٹی کے فلیٹ U-15کے رہائشی 13سالہ علی زین ولد ذوالفقار علی کی والدہ شہلا نورین نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ زین علی بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھا اور اقرا سٹی اسکول کی تیسری جماعت کا طالب تھا۔
زین علی اپنے پھوپھی کے ہمراہ کورنگی میں قائم انڈس اسپتال میں داخل بیمار دادی کی عیادت کیلیے گیا تھا۔ واپس آنے کے بعد چیز خریدنے کے لیے گھر سے نکلا تھا کہ دھماکے میں جاں بحق ہو گیا۔ زین کے والد کنسٹرکشن کا جبکہ گھر کا خرچہ پورا کرنے کے لیے وہ خود سلائی کا کام کرتی ہیں۔ مقتول کے بھائی زریاب علی نے بتایا کہ دھماکے کے روز میری اپنے بھائی سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ مکان نمبر B-13 کے رہائشی 44سالہ فرحت مہدی جعفری ولد سید ناظر حسین جعفری اپنے بڑے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کی خواہش رکھتے تھے۔ فرحت مہدی کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے 3 بیٹے اور ایک بیٹی ہے، میرے شوہر کی خواہش تھی کہ ان کی اولاد اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کر ے، وہ اپنے بڑے بیٹے کو ڈاکٹر اور سرجن بنانا چاہتے تھے ۔
عباس ٹائون بم دھاکے میں اسکردو سے کراچی تعلیم حاصل کرنے کیلیے آنے والا نوجوان 20 سالہ سعید احمد شاہ ولد یوسف شاہ بھی جاں بحق ہوا جس کی میت اسکردو روانہ کردی گئی۔ مقتول سعیدعباس ٹائون کے فلیٹ نمبر A-130 میں قائم ہاسٹل میں دیگر طالب علموں کے ہمراہ رہائش پذیرتھا۔ مقتول کے دوستوں نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہاسٹل میں تمام لوگ خود کھانا پکایا کرتے تھے اور مارکیٹ سے سبزی لانے کے لیے روزانہ کسی نہ کسی کی باری ہوا کرتی تھی۔ دھماکے کے روز مارکیٹ سے سبزی لانے کی باری سعید احمد شاہ کی تھی، جیسے ہی وہ اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی دکانوں کی جانب گیا تو دھماکا ہو گیا۔