پاک ایران مذاکراتخوش آیند اقدام
ایران نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی بھرپور اور واضح الفاظ میں ہمیشہ حمایت جاری رکھی ہے
ایران نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی بھرپور اور واضح الفاظ میں ہمیشہ حمایت جاری رکھی ہے۔فوٹو:فائل
FAISALABAD:
پاکستان اورایران نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے، آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کی ایرانی وزیر دفاع سے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور زیرغور آئے۔ ایرانی وزیردفاع نے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے دفاعی تعاون کے فروغ پر زوردیا۔ ملاقات میں ایران کی طرف سے باڑ لگانے ، بارڈر پٹرولنگ اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر اتفاق کیا گیا ۔ یعنی اس ملاقات کے نتیجے میں تجدید تعلقات کی بنیاد رکھی گئی اور غلط فہمیوں کو دورکرنے میں مدد ملی ۔ برادر اسلامی ملک ایران سے ہمارے تاریخی، لسانی، مذہبی اور ثقافتی ناتے بہت قدیم ، مربوط، مضبوط اورگہرے ہیں۔ ایران نے ہی سب سے پہلے '' پاکستان '' کو تسلیم کیا تھا۔ فارسی زبان کی بیٹی 'اردو' پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔
ایران نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی بھرپور اور واضح الفاظ میں ہمیشہ حمایت جاری رکھی ہے۔ زبان وادب اور ثقافت میں مماثلت کے باوجود غیرریاستی عناصر اور دہشت گرد گروپوں کی کارروائیوں کی بناء پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاملات پر کشیدگی کی صورتحال نے جنم لے لیا تھا جس کو دور کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت تھی۔ پاکستان کا موقف تو اس ضمن میں بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ پاکستان نے اپنی سرحد پر دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے بہت کچھ کیا اور اب دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
دراصل پاکستان اور ایران کے درمیان بہت اچھے برادرانہ تعلقات ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن افغانستان کی جنگ اور اس میں دہشتگرد اور عسکریت پسند گروہوں نے تعلقات کو بگاڑنے میں بہت زیادہ منفی کردار ادا کیا ۔ اس وقت افغانستان میں آئی ایس آئی ایس( داعش) کا بڑھنا خطے کے لیے خطرناک ہے، خطے میں قیام کے لیے اس خطرے کو شکست دینے کی ضرورت ہے، جو پاکستان اور ایران مل کر کر سکتے ہیں ، پاکستان کا دوٹوک موقف ہے کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے ۔
پاک ایران سرحد امن اور دوستی سے عبارت ہے ، لہذا اگر ایران اپنے سرحدی حفاظتی اقدامات کو توسیع دینا چاہتا ہے تو پاکستان کو اس پرکوئی اعتراض نہیں ۔ بدلتے عالمی منظر نامے میں پاکستان اور ایران میں مضبوط تعلقات بڑھتے ہوئے امریکی اثرورسوخ کا توڑ ثابت ہونگے۔ایران اور امریکا کے درمیان ہونیوالے جوہری معاہدے کو ڈونلڈٹرمپ سبوتاژکرنا چاہتے ہیں جب کہ وہ پاکستان کو ڈومورکی آڑ میں دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔ لہذا پاک ایران تعلقات میں بہتری اور مضبوطی وقت کی اہم ترین ضرورت کے ساتھ ساتھ خطے میں قیام امن کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان اورایران نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے، آرمی چیف قمرجاوید باجوہ کی ایرانی وزیر دفاع سے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور زیرغور آئے۔ ایرانی وزیردفاع نے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے دفاعی تعاون کے فروغ پر زوردیا۔ ملاقات میں ایران کی طرف سے باڑ لگانے ، بارڈر پٹرولنگ اور انٹیلی جنس شیئرنگ پر اتفاق کیا گیا ۔ یعنی اس ملاقات کے نتیجے میں تجدید تعلقات کی بنیاد رکھی گئی اور غلط فہمیوں کو دورکرنے میں مدد ملی ۔ برادر اسلامی ملک ایران سے ہمارے تاریخی، لسانی، مذہبی اور ثقافتی ناتے بہت قدیم ، مربوط، مضبوط اورگہرے ہیں۔ ایران نے ہی سب سے پہلے '' پاکستان '' کو تسلیم کیا تھا۔ فارسی زبان کی بیٹی 'اردو' پاکستان کی سرکاری زبان ہے۔
ایران نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی بھرپور اور واضح الفاظ میں ہمیشہ حمایت جاری رکھی ہے۔ زبان وادب اور ثقافت میں مماثلت کے باوجود غیرریاستی عناصر اور دہشت گرد گروپوں کی کارروائیوں کی بناء پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی معاملات پر کشیدگی کی صورتحال نے جنم لے لیا تھا جس کو دور کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت تھی۔ پاکستان کا موقف تو اس ضمن میں بالکل واضح اور دوٹوک ہے کہ پاکستان نے اپنی سرحد پر دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے بہت کچھ کیا اور اب دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔
دراصل پاکستان اور ایران کے درمیان بہت اچھے برادرانہ تعلقات ہمیشہ سے رہے ہیں لیکن افغانستان کی جنگ اور اس میں دہشتگرد اور عسکریت پسند گروہوں نے تعلقات کو بگاڑنے میں بہت زیادہ منفی کردار ادا کیا ۔ اس وقت افغانستان میں آئی ایس آئی ایس( داعش) کا بڑھنا خطے کے لیے خطرناک ہے، خطے میں قیام کے لیے اس خطرے کو شکست دینے کی ضرورت ہے، جو پاکستان اور ایران مل کر کر سکتے ہیں ، پاکستان کا دوٹوک موقف ہے کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے ۔
پاک ایران سرحد امن اور دوستی سے عبارت ہے ، لہذا اگر ایران اپنے سرحدی حفاظتی اقدامات کو توسیع دینا چاہتا ہے تو پاکستان کو اس پرکوئی اعتراض نہیں ۔ بدلتے عالمی منظر نامے میں پاکستان اور ایران میں مضبوط تعلقات بڑھتے ہوئے امریکی اثرورسوخ کا توڑ ثابت ہونگے۔ایران اور امریکا کے درمیان ہونیوالے جوہری معاہدے کو ڈونلڈٹرمپ سبوتاژکرنا چاہتے ہیں جب کہ وہ پاکستان کو ڈومورکی آڑ میں دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔ لہذا پاک ایران تعلقات میں بہتری اور مضبوطی وقت کی اہم ترین ضرورت کے ساتھ ساتھ خطے میں قیام امن کے لیے ضروری ہے۔