فلڈ کمیشن رپورٹ پر عمل نہیں ہوا کیا مزید لوگ مروانے کا ارادہ ہے سپریم کورٹ

پچھلے سیلاب میں سکھرڈوبنے کاخطرہ تھا،خداراسنجیدگی دکھائیں،جسٹس گلزار،وطن کارڈمیںبدعنوانی کے الزامات ہیں،چیف جسٹس

پنجاب نے سفارشات پر95 فیصد،سندھ نے 80فیصدعمل کرنیکی رپورٹ دی،عدالت کاعدم اطمینان،غلط گرائمرپربھی برہمی۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے فلڈ کمیشن کی سفارشات پرعملدرآمد سے متعلق وفاقی وصوبائی حکومتوںکی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہارکیا ہے اور قراردیا ہے کہ فلڈکمیشن کی رپورٹ پراس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا۔

تجاوزات برقرارہیں اور سیلاب زدگان کو معاوضے کی ادائیگی خصوصی طور پر وطن کارڈ کے معاملے میں سنگین بدعنوانیوںکے الزامات سامنے آرہے ہیں۔عدالت نے آبزرویشن دی انگریزڈیڑھ سو سال پہلے ہی بتاگئے تھے کہ دریائوںکا بہائوکس رخ ہے اورکس سمت میں تجاوزات نہیں ہونی چاہئیں۔چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فلڈکمیشن کے حوالے سے درخواست کی سماعت کی ۔سیکریٹری آبپاشی سندھ نے رپورٹ جمع کرائی اوربتایا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں اور متاثرین کی بحالی کا80 فیصدکام ہو چکا ہے،انھوں نے عملدرآمد رپورٹ کے حق میں سرٹیفکیٹ بھی پیش کیا تاہم عدالت نے رپورٹ سے اتفاق نہیںکیاجس پرانھوں نے سرٹیفکیٹ واپس لے لیا۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ حقیقت ان اعدادوشمارکے برعکس ہے، پانی کے بہائوکے راستوں میںاب بھی دس دس منزلہ عمارتیںکھڑی ہیں،کچے کی زمین پر وڈیروںکا قبضہ ہے اور انھوں نے کھیت بچانے کے لیے بندباندھ رکھے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ کچے کے علاقے میں فصلیں توکاشت کی جاسکتی ہیں مگرتعمیرات نہیں ہوسکتیں۔درخواست گزار ماروی میمن نے بتایا کسی وڈیرے یا تجاوزات کرنے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیںکی گئی،ایک اوردرخواست گزار محمد یعقوب لاکھیر نے کہا کہ دادو اور ٹھٹھہ میں لیاقت جتوئی،سردار خان چانڈیو،ذوالفقار مرزا اورشاہنواز خشک نے ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا فلڈکمیشن کی سفارشات کو اگرسنجیدہ نہیں لیا گیا تواگلے سیلاب میں حالات خوفناک ہوسکتے ہیں۔




جسٹس گلزارکا کہنا تھا گزشتہ سیلاب میں سکھرشہر ڈوبنے کا خطرہ تھااگر اقدامات نہیںکیے گئے تو یہ خطرہ حقیقت بن سکتا ہے،انھوں نے کہا2010کے سیلاب سے کتنے ارب روپے کا نقصان ہوا،خدارا سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے،بندوںکے ساتھ پندرہ پندرہ منزلہ عمارتیں بنی ہیں،کیا آئندہ سیلاب میں مزیدلوگ مروانے کا ارادہ ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جواد حسن نے رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ کمیشن کی سفارشات پر95فیصد عمل کیا جا چکا ہے، بعض قابضین نے ہائیکورٹ سے حکم امتناع لے رکھا ہے جس پرکارروائی نہیں ہو سکی۔چیف جسٹس نے کہا قابضین کو حکم امتناع نہیں مل سکتا، اس بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔

آن لائن کے مطابق سپریم کورٹ نے سیکریٹری آبپاشی سندھ کوہدایت کی ہے کہ وہ سیلاب کے حوالے سے سندھ بھرمیںمکمل سروے کروائیںجبکہ ماروی میمن کی درخواست پرسندھ اورپنجاب حکومت سے سیلاب کوروکنے، متاثرین کے ازالہ اورملزمان کی گرفتاری کے بارے میںاعتراضات پرجواب20مارچ تک طلب کرلیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری آبپاشی سندھ کے غلط سرٹیفکیٹ سے لگتاہے کہ آئندہ کے سیلاب میںبھی لوگوںکومروانے کی حکمت عملی وضع کرلی گئی ہے۔

سندھ حکومت کی سنجیدگی کاعالم یہ ہے کہ ایک کلرک سے غلط گرائمر اورانگریزی کی مدد سے نوٹ بنوا کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو بھجوادیا گیا سندھ پاکستان میں ہے مگر سیکریٹری آبپاشی اس کوکہیں اور سمجھ رہے ہیں، اللہ کی دی عزت کا خیال کریں، وزیروںکی ناراضی کا نہیں ۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم اٹلی میںنہیںرہ رہے ہیں،ہمیںاچھی طرح معلوم ہے کہ کچے کے علاقوں میںکس نے قبضہ جمالیاہے۔
Load Next Story