ن لیگ کی مقبولیت گڈگورننس کی وجہ سے بڑھیسارہ تارڑ

اعجازچوہدری، امتیازعالم اور احمد بلال کی ایکسپریس نیوز پر لائیو ود طلعت میں گفتگو

اعجازچوہدری، امتیازعالم اور احمد بلال کی ایکسپریس نیوز پر لائیو ود طلعت میں گفتگو فوٹو : فائل

مسلم لیگ(ن)کی رہنما سارہ افضل تاڑر نے کہا ہے کہ گیلپ اور پلڈاٹ کے تازہ سروے میں ن لیگ کی مقبولیت پنجاب میں ہونے والی مجموعی ترقی، دوسرے صوبوں سے نسبتاً بہترگورننس اور اربوں روپے کے منصوبوں کی وجہ سے ہے۔

ان منصوبوں میں مالی کرپشن صفر ہے۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' کے میزبان طلعت حسین سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کاکوئی بھی منصوبہ جس پر 5 ارب سے زیادہ کی لاگت ہوگی کے تمام کاغذات نیب کو دیے جائینگے۔پی ٹی آئی کی مقبولیت اسلیے کم ہوئی ہے کیونکہ عمران خان پچھلے کچھ عرصے سے صرف ن لیگ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما اعجازچوہدری نے کہا کہ وہ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف الیکشن میںکلین سویپ کریگی۔جب حکومت بنی تھی تو اس وقت ن لیگ کی مقبولیت 82 فیصد تھی اب 37 فیصد ہے۔




پیپلز پارٹی کی مقبولیت 56 فیصد تھی اب 16 فیصد ہے۔عمران خان 69 فیصد کے ساتھ سب سے مقبول رہنما ہیں۔سیفما کے امتیاز عالم نے کہا کہ اگر رہنما کی مقبولیت کو مدنظر رکھ کر سروے کرایا جائے توکبھی مساوی سروے نہیں ہو سکتا کیونکہ پیپلز پارٹی کا کوئی بھی پاپولر لیڈر نہیں ہے۔پنجاب میں نواز شریف سے قد آور رہنما کوئی نہیں ہے۔ عمران خان پہلے بھی ملک میں مقبول تھے آج بھی ہیں تاہم ابھی انقلاب دکھائی نہیں دے رہا۔پلڈاٹ کے احمد بلال محمود نے کہا کہ یہ سروے بحث و تمحیص کے لیے سنجیدہ بنیاد فراہم کرنے کیلیے بھی کیا گیا ہے۔ عمران خان بہت مقبول رہنما ہیں تاہم ان کو ووٹ مقبولیت کے حساب سے کم ملیں گے۔
Load Next Story