دہشتگردی کے بدلتے تیور

پاکستان دہشتگردی کی ان وارداتوں کے زخم برسوں سے سہتا چلا آیا ہے

پاکستان دہشتگردی کی ان وارداتوں کے زخم برسوں سے سہتا چلا آیا ہے۔ فوٹو فائل

دہشتگردی کے عالمی عفریت سے نمٹنے کے لیے بڑی طاقتوں کے مضبوط قانونی نیٹ ورک، مستعد ادارے اور دہشتگردی مخالف میکنزم سے لیس حکومتوں کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے، چنانچہ امریکا، یورپ، شرق اوسط، افریقہ و ایشیائی خطوں میں گردشی دہشتگری کے نئے ہولناک مظاہر اور لون ولف اٹیکر (تنہا بھیڑیے) کا سامنا ہے۔ یہ حقیقت کوئٹہ کے علاقے چمن ہاؤسنگ ایئرپورٹ روڈ کے قریب خودکش دھماکے اور خیبر ایجنسی میں پاک افغان بارڈر کے قریب وادی راجگال میں چیک پوسٹ پر افغانستان سے حملہ سے سامنے آئی، آئی ایس پی آر کے مطابق افغانستان کے علاقے میں کسی بھی قسم کا کنٹرول نہ ہونے کے باعث پاک افغان سرحد کے قریب وادی راجگال کے مقام پر پاکستانی علاقے میں قائم نئی سیکیورٹی پوسٹ پر دہشتگردوں نے کئی مقامات پر فائرنگ کی، جس کا پاک فوج نے موثر جواب دیا، جس کے نتیجے میں 5 دہشتگرد ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے، جب کہ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے سپاہی محمد الیاس شہید ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے واقعے کے بعد بارڈر پر سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا۔

موصولہ شواہد کی روشنی میں دیکھا جائے تو نامعلوم دہشتگرد ڈی آئی جی حامد شکیل کی تاک میں تھا، وہ اپنے گھر واقع جی او آر کالونی سے گاڑی پر دفتر کے لیے نکلے تھے کہ کچھ فاصلے پر خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ان کی گاڑی سمیت 3 گاڑیوں، 2موٹرسائیکلوں اور ایک رکشے کو شدید نقصان پہنچا، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکے میں 10 سے 15کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔ قابل غور امر یہ ہے کہ دہشتگردی کے دونوں واقعات میڈیا میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی عدم موجودگی کے دعوے کا بادی النظر میں جواب ثابت ہوئے، یعنی دہشتگرد نظر نہ آئے تو اس کا مطلب اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہونا چاہیے۔

ہمارے سیکیورٹی حکام کو دہشتگردی مخالف اسٹرٹیجی کے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ دہشتگرد چاہے پاکستان کے حساس اور شورش زدہ علاقوں میں موجود ہو یا دنیا کے کسی بھی محفوظ شہر میں، آج وہ لاجسٹک سپورٹ، بے پناہ مالی سہولت کاری اور بھاری اسلحہ کے ساتھ حملہ کرنے کے بجائے کسی بھی جگہ راہگیروں پر گاڑی چڑھا دیتا ہے، کلاشنکوف لے کر پبلک مقام پر اندھادھند فائرنگ کر کے بیگناہ انسانوں کو موت کی نیند سلاتا ہے۔ پاکستان دہشتگردی کی ان وارداتوں کے زخم برسوں سے سہتا چلا آیا ہے، طالبان نے بارود سے بھری گاڑیوں، خودکش بمباروں اور ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں سے ملکی سیاست، سماج اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا لیکن آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردالفساد اور کومبنگ آپریشن نے قوم کو باور کرا دیا ہے کہ آخری دہشتگرد کے خاتمہ تک یہ جنگ جاری رہے گی۔


آج دنیا بھر کے اینٹی ٹیرر ماہرین دہشتگردوں کو مونسٹر سے تشبیہ دیتے ہیں جن کی عموماً قومی سلامتی پر مامور ریاستی اور حکومتی ادارے خاتمہ کی اکثر نوید سناتے ہیں مگر وہ اپنے ہی ملبہ اور راکھ سے دوبارہ اٹھتے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ ریڈ الرٹ ملکی سیکیورٹی سسٹم اور پے در پے آپریشنز سے دہشتگردی کے بیشتر نیٹ ورک تباہ اور دہشتگردوں کے ماسٹر مائنڈز فرار ہو کر پڑوسی ملک افغانستان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں مگر ان کی باقیات مختلف ناموں سے شہروں اور مضافاتی علاقوں کے سلیپر سیلوں میں چھپی ہوئی ہیں اور جب چاہتے ہیں واردات کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کھلبلی مچاتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ داعش، القاعدہ، طالبان اور دیگر عالمی جہادی گروپس میں ایسے تعلیم یافتہ دماغ بھی انسانیت سوز قتل و غارت میں ملوث ہیں اور شہرت کے جنون کو ہوا دے کر سماج میں ہلاکتوں کی دردناک تاریخ رقم کرتے ہیں، حالیہ چند برسوں میں دہشتگردی کے جو سانحے رونما ہوئے اس میں میڈیکل، انجینئرنگ، سماجیات اور تاریخ کے علم اور ہنر سے لیس نوجوان طبقے کے بے سمت دہشتگردوں کا حیران کن قبیلہ برآمد ہوا جو ملک کی مختلف جیلوں میں کیفرکردار تک پہنچنے کا منتظر ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دہشتگردی کی باقیات کو کھل کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے اور پوری قوت سے اس ناسور کا قلع قمع ہونا چاہیے۔ دشمن بلوچستان کو ٹارگٹ کیے ہوئے ہے، ''را'' اور ''خاد'' کے ایجنٹ سرگرم ہیں، عالمی طاقتوں کو خطرہ اس بات کا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری خطے میں امن و استحکام اور خوش حالی کا گیم چینجر منصوبہ ہے، اس لیے بلوچستان ان کی ہٹ لسٹ پر ہے۔

دریں اثناء صدر مملکت ممنون حسین، وزیراعظم خاقان عباسی، وزیر داخلہ احسن اقبال، بلوچ وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری سمیت دیگر رہنماؤں نے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا جب کہ زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعا کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں پولیس، پاک فوج، رینجرز، ایف سی، لیویز اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں کی فرض شناسی بے مثل رہی ہے، وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشتگردوں کے تعاقب میں ہیں، وطن کی سالمیت پر جانیں نچھاور کر رہے ہیں، اس لیے سیاسی مین اسٹریم جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی داخلی محاذ آرائی، اداروں سے ٹکراؤ اور بدامنی میں ملوث مافیاؤں کا کام آسان نہ کریں، یہ وقت دائمی امن کے قیام کا ہے۔
Load Next Story