اداروں کی کارکردگی باعث شرم انگلیاں ہم پر اٹھتی ہیں ارکان اسمبلی

محکمے سرکاری کام اپناسمجھ کر نہیں کرتے جب ہی نظام کی ایسی حالت ہے، ارکان

60پی آئی اے مسافروں سے ریکوری نہ کرنے پراظہار برہمی، رقم وصولی کی ہدایت۔ فوٹو: فائل

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ممبران نے کہا ہے کہ قومی اداروں کی کارکردگی پر شرم آتی ہے، محکمے سرکاری کام کو اپنا کام سمجھ کر نہیں کرتے جسکی وجہ سے نظام کی یہ حالت ہے اور انگلیاں ہم پر اُٹھتی ہیں۔

گزشتہ روز اجلاس کنوینئر کمیٹی سردار عاشق zگوپانگ کی زیر صدارت ہوا جس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ کینیڈا میں پی آئی اے کے 42 ٹکٹس کے فراڈ کا معاملہ بھی زیر غورلایا گیا۔ اس موقع پر حکام نے بتایا کہ مذکورہ ٹکٹ سیل ایجنٹ نے جاری کردیے جس پر اسے5ہزار کینیڈین ڈالر جرمانہ عائد کیاگیا مگر اسے بلیک لسٹ نہیں کیاگیا، کمیٹی کے استفسار پر پی آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملہ میں پی آئی اے کاکوئی نقصان نہیں ہوا، مگر اب اسے بلیک لسٹ کر دیا گیا۔انھوں نے بتایاکہ جعلی ٹکٹس پر مسافروں کو سفر نہیںکرنے دیاگیا یہ ٹکٹس استعمال بھی نہیں ہوئے اور انھیں منسوخ کر دیا گیا، کمیٹی نے معاملہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کوبھیج دیا۔


اجلاس میں آڈٹ حکام نے کمیٹی کوبتایاکہ مسقط سے60 مسافروں کے ڈی پورٹ کر دیاگیا مگر ڈی پورٹ ہونیوالے مسافروں سے کرایہ نہیں لیا جو36 ہزار 557 درہم سے زائد ہے۔کمیٹی کے استفسار پربتایا گیاکہ یہ پیرا 2008ء کا ہے جس پر ممبر رشید گوڈیل نے کہاکہ قومی ادارے کی کارکردگی پر شرم آتی ہے۔ کنوینئرکمیٹی نے کہا کہ یہاں جو بھی محکمہ آتا ہے وہ سرکاری کام کوثانوی سمجھتا ہے۔ کمیٹی نے فوری طور پر 36 ہزار557 درہم کی وصولی کی ہدایت کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ ڈی اے سی کو بھیج دیا۔

اجلاس میں آڈٹ حکام نے بتایا کہ سول ایوی ایشن نے 2007-08ء میں ادارے کی اراضی لیز پر دینے کے پانچ معاہدے کئے، یہ معاہدے 30سال کیلئے کیے گئے اور ہر 10سال بعد کرائے میں 100فیصد اضافہ کی شرط رکھی گئی۔بعدازاں اس شرط کوتبدیل کر کے 5 سال بعد کرائے میں5فیصد اضافہ کی شرط شامل کی گئی،معاہدے کی خلاف ورزی سے ادارے کو ایک ارب آٹھ کروڑ90لاکھ روپے کانقصان پہنچا۔

اس موقع پر سول ایوی ایشن حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ ادارے نے بورڈ سے ترمیمی معاہدے کی منظوری لے لی تھی اس لئے یہ خلاف ورزی نہیں بنتی جس پر کمیٹی نے معاملہ نمٹادیا۔کمیٹی نے وزارت خزانہ کے اعتراضات آئندہ اجلاس تک موخر کر دیئے۔
Load Next Story