گلے میں پھنسی ہچکی

اچانک دروازے کی گھنٹی بجی اور ثریا چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

فوٹو : فائل

KARACHI:
شوکت حسین شورو
سندھی سے ترجمہ: نوشابہ نوش

وہ مشین کو تیز تیز چلانے لگی، جیسے سوچ پیچھے رہ گئی ہو، اچانک احساس ہوا کہ دھاگا ختم ہوگیا تھا۔ پھر بھی وہ مشین چلاتی رہی۔ اس نے مشین بند کردی، مشین کا شور ختم ہونے سے خاموشی چھاگئی، اس نے دیوار پر لگے گھڑیال کو دیکھا، دونوں کانٹے بارہ بجے کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اسے رات کی تنہائی کا شدت سے احساس ہوا۔ اگر کوئی چور گھر میں گھس کر آجائے تو وہ اکیلی کیا کرے گی؟

اس نے سوچا ڈرپوک تو میں بچپن سے ہی ہوں۔ نانی نے جِنوں اور بھوتوں کی باتیں بتاکر ایسا ڈرادیا ہے کہ رات کے وقت اپنے ہی سائے سے ڈر جاتی ہوں۔

میں نے یہ بات آصف کو بتائی بھی تھی، اسے پتا ہے کہ میں کتنی کم زور دل ہوں لیکن وہ اس طرح کیوں کررہا ہے؟

وہ مجھے جان بوجھ کر ٹارچر کیوں کررہا ہے؟ اگر کوئی ایسی بات ہے تو مجھے بتاتا کیوں نہیں؟ میں تو پوچھ پوچھ کر بے زار ہوگئی ہوں، کہہ رہا ہے کہ کوئی بات نہیں ہے، وہم ہے تمہارا۔ ٹھیک ہے میں وہمی ہوں لیکن اس کا رویہ کتنے دنوں سے بدلا ہوا ہے۔ زبردستی ہو تو بات کرتا ہے۔ وہ بھی تب جب میں بولتی ہوں۔

میری آنکھیں نہیں کہ دیکھ سکوں کہ وہ کتنا بیزار ہوجاتا ہے پورا کھانا بھی تو نہیں کھاتا دو تین نوالے کھاکر اٹھ جاتا ہے۔ میں پوچھتی ہوں،''کیوں جان! کیا بات ہے کھانا اچھا نہیں لگا کیا؟''

تو وہ بے دلی سے کہتا ہے،''نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔''

روز بھوک نہیں ہے! کھانے کے تینوں وقت بھوک نہیں ہے! پھر چلتا کیسے ہے؟ نہیں ... میں جانتی ہوں کہ وہ باہر سے کھانا کھاکر آتا ہے اب تو رات کو بھی گھر دیر سے آتا ہے۔ بیڈ پر منہ اُدھر کرکے لیٹ جاتا ہے۔ میں جب اسے پیار کرنے لگتی ہوں تو میرے بازوؤں کو پکڑ کر مجھے دور کردیتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے مجھ سے کراہت آتی ہو، بس چلے تو میرے ساتھ بیڈ پر سوئے ہی نہیں۔ لیکن ڈبل بیڈ جو ہے پورا ایک مہینہ ہوگیا ہے دو کھڑی پیار کے نصیب نہیں ہوئے، پیار جائے بھاڑ میں، لیکن وہ ایسا کیوں ہوگیا ہے، اتنا بدل کیوں گیا ہے۔

ثریا کو یاد آیا کہ بابین کا دھاگا ٹوٹ گیا تھا اور اس نے کتنی دیر تک سیا نہیں تھا۔ وہ کہنی مشین پر رکھ کر ٹھوڑی ہتھیلی پر جماکر پھر سوچ میں گم ہوگئی۔

وہ مجھے کتنا چاہتا تھا! شادی کی رات مجھ سے کہا تھا کہ ''ثریا! تم شاید اعتبار نہیں کروگی کہ تم میری زندگی کی پہلی اور آخری عورت ہو، تم یقین مانو میں تمہیں اپنی زندگی سے بھی زیادہ چاہوں گا۔''

اور وہ اس سے لپٹ گئی، میں نے اس کی بانہوں کے پناہ کو قبول کرلیا تھا لیکن مجھے پتا نہیں تھا کہ یہ عارضی پناہ ہوگی میرے لیے۔ آصف کہتا ہے کہ میں وہمی ہوں، میں نے تو پہلی رات سے اس کی باتوں پر اعتبار کیا تھا، میں نے سنا تھا کہ مرد شادی کی رات اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ لیکن میں نے تو اس پر ایمان لے آئی۔ ابھی تو ایک سال مشکل سے گزرا ہے کہ یہ باتیں ہوا ہوگئی ہیں۔ اسے کبھی یاد آتا ہوگا کہ اس نے پہلی رات کیا کہا تھا! وہ تو سب بھول چکا ہے اب تو گھر سے جب باہر جاتا ہے تو مجھے بھی بھول جاتا ہے۔

لیکن مجھے لگتا ہے کہ گھر میں بھی جیسے وہ میرے وجود سے بے خبر ہے۔ آخر اسے ہوکیا گیا ہے؟ ایسی کیا بات ہے جو مجھے بتانا نہیں چاہتا؟ کل میں نے اسے اتنا کہا کہتی رہی تو صرف آگے سے اتنا کہا کہ:

''ارے کوئی بات نہیں'' اور اگر ہے بھی تو تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔''

ٹھیک ہے مان لیا کہ میرا اس بات سے کوئی واسطہ نہ ہو لیکن جو اس کی پریشانی ہے میں شیئر کرنا چاہتی ہوں، آخر یہ بات وہ کیوں نہیں مان رہا؟ اسے یہ نہیں پتا کہ وہ خود میری کائنات ہے، اگر وہ خود پریشان ہے تو میں کیسے لا تعلق رہ سکتی ہوں۔ میرے خدا! وہ سمجھتا کیوں نہیں۔

ثریا نے ماتھے کو زور سے رگڑا ایسے سر میں سخت درد محسوس ہونے لگا۔

وہ اتنا پریشان کیوں ہے؟ اس کی پریشانی نے مجھے اس سے کاٹ کر الگ کردیا ہے۔ میں اس کے ہوتے ہوئے بھی اکیلی اور الگ ہوں اور کٹی ہوئی ہوں۔

نہیں، یہ میری برداشت سے باہر ہے، اس کی ایسی حالت ہو اور مجھے کچھ پتا نہ ہو اور میں اس کے لیے کچھ نہ کرسکوں! میرے ہاتھوں سے، بازوؤں سے، ہونٹوں سے، جسم سے وہ قوت ختم ہوگئی ہے جو اسے سہارا دے سکے۔ اس کا من بھلاسکے۔ میں تو اس کا بچوں کی طرح خیال رکھتی ہوں، اسے دیکھتی ہوں تو میرے من کے اندر کتنی خوشی بھر آتی ہے۔ چاہتی ہوں کہ اسے دیکھتی رہوں، اسے چلتے، بیٹھتے، سوتے، کھانا کھاتے ہوئے میرے اندر ٹھنڈ پڑجاتی ہے۔ میں اسے کتنا چاہتی ہوں... اس کا اسے اندازہ ہی نہیں شاید!''

اچانک دروازے کی گھنٹی بجی اور ثریا چونک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ دروازے کے قریب جاکر اس نے پوچھا ''کون ہے''

''میں ہوں... آصف!'' وہ جیسے غصے میں کھڑا تھا۔ ثریا نے دروازہ کھولا اور ایک امید سے اس کے چہرے کو دیکھا وہ ایسے ہی تھا، الجھا، الجھا، پریشان، آصف نے ثریا کو بغیر دیکھے اندر چلا گیا۔ ثریا دروازہ بند کرکے اس کے پیچھے گئی۔ آصف بیڈ روم میں جاکر سوفے پر جاکر بیٹھ گیا۔

جان تم کپڑے بدل لو، جب تک میں کھانا گرم کرکے لے آؤں، ثریا نے کہا۔


''نہیں تم تکلیف نہیں کرو۔'' آصف کا ڈوبتا ہوا آواز ابھر آیا اس نے جیسے یہ جملہ بڑی کوشش کرکے بولا ہو۔

''کیوں؟'' ثریا کو یہ جملہ سن کر بہت دکھ ہوا۔

''تکلیف تو پرایوں کے لیے ہوتی ہے۔ تم مجھے پرایا...''

''ثریا پلیز'' آصف ہاتھ اوپر کرکے ثریا کو بولنے سے روک دیا۔

''تم کھانا کھاکر آئے ہو کہیں سے؟'' ثریا نے اپنا غصہ کنٹرول ضبط کرکے پوچھا۔

''نہیں مجھے بھوک نہیں ہے۔''

ثریا نے اپنے نچلا ہونٹ کاٹا، اسے ڈر تھا کہ وہ اپنا ضبط کھو نہ دے اور اگر بات شروع ہوئی تو پتا نہیں کیا کیا بول نہ دے۔

''تم یہاں آکر بیٹھو'' آصف نے ثریا کو بلایا۔

''مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔''

آصف دیوار کی طرف دیکھ کر بات کررہا تھا۔ ثریا نے اسے غور سے دیکھا اور پھر نیچے قالین پر رکھی مشین کے پاس بیٹھ گئی۔

آصف خاموش رہا، ثریا اس کی طرف دیکھنے لگی۔ وہ کتنا پریشان لگ رہا تھا، ثریا کے دل میں اس کے لیے ہمدردی کی لہر اٹھی۔ اس کا دل چاہا کہ اٹھ کر اس کے قریب بیٹھ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ کر اس کے بالوں میں انگلیاں سہلاتی رہے، لیکن وہ اٹھ نہ سکی اور اس نے کہا:

''آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟''

ثریا کو پتا تھا کہ اس کے گھسے پٹے سوال کارٹا ہوا جواب ہی ملے گا۔

''نہیں کوئی خاص بات نہیں! لیکن آصف خاموش رہا، اس نے فقط ایک بار ثریا کی طرف دیکھا اور پھر انگلیاں چٹخانے لگا۔

ثریا کو یہ خیال آرہا تھا کہ وہ چیخ کر سر دیوار سے ٹکراکر کہے کہ:

'' میں نے تمہارا کیا قصور کیا ہے جو تم مجھے اتنا ٹارچر کررہے ہو!''

''ثریا!'' آصف نے آہستہ سے کہا اور ایک بار اس کی طرف دیکھا نظریں ہٹالی اور نیچے دیکھنے لگا۔

''ثریا مجھے پتا ہے کہ میں نے تمہیں بہت پریشان کیا ہے۔ میں چاہ رہا تھا کہ مسئلے کا کوئی حل نکل آئے، لیکن مجھے کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ میں بھی پریشان رہوں اور تمھیں بھی پریشان کروں، اس سے بہتر ہے کہ بات ایک طرف ہوجائے۔۔۔۔۔'' وہ خاموش ہوگیا۔

ثریا کو ایک خوف سا محسوس ہوا۔ اس کا دل زورزور سے دھڑکنے لگا، ڈوبنے لگا۔

''ثریا!۔۔۔ہم دونوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں۔ جن حالات میں ہم رہ رہے ہیں، اس سے بہتر ہے کہ ساتھ نہ ہی رہیں۔ تمہیں مجھ سے سوائے پریشانی کے کچھ نہ مل سکے شاید۔ مجھے افسوس ہے۔۔۔۔لیکن میں کسی کو چاہتا ہوں۔۔۔اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔اس حالت میں۔۔۔۔

چیخ ثریا کے گلے میں آکر پھنس گئی۔ اسے لگا کہ اس کے جسم سے جان نکل رہی ہے۔ پھر وہ نہ جانے کیسے اُٹھ کھڑی ہوئی۔

(خاکہ: نوشابہ نوش)
Load Next Story