کہیں تو جا کے رُکے گا سفینہ غم دل
عرض یہ ہے کہ پاکستانی قوم زندگی بچانا اور اسے باقی رکھنا جانتی ہے یہ کام وہ کر چکی ہے اور پھر بھی کر لے گی
Abdulqhasan@hotmail.com
پاکستان کے چیف جسٹس عزت مآب افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ یوں لگتا ہے حکومت جان و مال کی حفاظت میں ناکام ہوگئی ہے اور یہ خود بھی ناکام حکومت ہے۔ جدید دور میں حکومتوں کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کا بندوبست کسی قانونی طریقے سے کیا جا سکے اگر کوئی حکومت یہ نہیں کر سکتی تو وہ حکومت گویا ناکام ہو گئی۔ لیکن جج صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے حکومت جان و مال کی حفاظت میں ناکام نہیں ہوئی بلکہ عوام کی جان و مال کو لوٹنے میں کامیاب ہے اور گزشتہ پانچ برسوں سے اس کامیابی کے عالمی ریکارڈ قائم کررہی ہے۔
جتنی کچھ مہلت باقی ہے یہ ریکارڈ قائم کرتی چلی جا رہی ہے۔ لگتا ہے دمِ واپسیں تک عوام کی یہ خدمت جاری رہے گی۔ گزشتہ دنوں کراچی میں صرف پچاس آدمی جاں بحق ہو گئے اور نہ جانے کتنے زخمی اور یوں باقی ماندہ عمر کے لیے زندوں سے بدتر کسی معذور زندگی میں داخل ہو گئے ،عین اسی وقت عوام کی جان و مال کی محافظ حکومت کراچی میں ہی ایک جشن منا رہی تھی۔ بہت بڑے بڑے لوگ اس جشن میں شریک اور مست تھے، شہر کی پولیس کسی فرض شناس حکومت کی طرح ان کی جان ومال کی حفاظت کے لیے موقع پر موجود تھی۔
جہانتک جان و مال کا تعلق ہے تو یہ قوم اس کے ضایع ہونے سے نہیں گھبراتی کیونکہ جب یہ 63 برس پہلے وجود میں آئی تھی تو نہ مال تھا نہ جان سلامت اور محفوظ تھی۔ دفتر بنانے کے لیے جگہ نہیں تھی صابن کی خالی پیٹیوں پر افسران بیٹھتے تھے اور یہی ان کی میزیں بھی تھیں۔ زندگی بس ویسے ہی خود بخود باقی تھی ورنہ علاج معالجہ تو بہت ناکافی اور جسم کی توانائی کے لیے قدرت کا موسم تھا تو یہ قوم اس بے سروسامانی غربت اور ناداری و افلاس سے بچ گئی اور حیرت کیجیے کہ آج یہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور کل تک یعنی اس حکومت سے پہلے تک ایک خوشحال قوم بھی تھی۔
عرض یہ ہے کہ پاکستانی قوم زندگی بچانا اور اسے باقی رکھنا جانتی ہے یہ کام وہ کر چکی ہے اور پھر بھی کر لے گی لیکن ملک کا بچانا اس کے بس میں نہیں ہے اور کوئی قائداعظم بھی نہیں جو اسے کوئی ملک لے کر دے گا اس لیے جان و مال نہ سہی ملک کا وجود ضروری اور از بس لازم ہے لیکن کرپشن یعنی قومی زندگی کی ہر سطح پر کرپشن اور وہ بھی اربوں میں اس ملک کے لیے قاتل ہے ایک ایسا زہر جس کا کوئی تریاق نہیں بس ایک دھماکہ ہے جو جان بھی لے جاتا ہے اور مکان اور مال بھی۔
کراچی میں دھماکے اور خونریزی اب ماشاء اللہ ایک معمول بن چکے ہیں لیکن اس تازہ دھماکے کو اہل کراچی اور ارباب اقتدار نے لاپرواہی اور خود غرضی کا جو تڑکا لگایا ہے وہ پہلی مثال ہے۔ یہ روم کے بادشاہ نیرو والی بنسری کو یاد دلاتا ہے۔ بے رحم تاریخ کیسے ہزاروں برس بعد بھی اپنے آپ کو دہراتی ہے البتہ تاریخ کو اپنا سبق دہرانے کے لیے ایسے حکمران چاہئیں جیسے اس وقت پاکستان میں برسراقتدار ہیں۔ تاریخ کے ان عجوبہ قسم کے واقعات کی طرح ہماری یہ حکومت بھی جدید دور کا ایک عجوبہ ہے جو دہرانے کے لیے تاریخ کو نصیب ہوتا رہتا ہے۔ خدا نہ کرے کوئی مورخ ہماری آج کی تاریخ کو بھی مدون کرے جو آنے والوں کے لیے ایک تماشا اور ہماری قوم پر ایک الزام اور دھبا بن کر زندہ رہے۔
امن و امان کا ذکر ہو تو اس شعبے کے وزیر صاحب کا اسم گرامی ہر پاکستانی کے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ یہ ہیں جناب رحمن ملک ان کو بھی ہمارے تاریخ ساز حکمران تلاش کرکے لائے ہیں اور ان کا یہ تجربہ کامیاب رہا ہے کیونکہ جو کچھ یہ وزیر صاحب کر رہے ہیں اور جس جرات اور دیدہ دلیری کے ساتھ کر رہے ہیں وہ کسی نارمل پاکستانی کے لیے ممکن نہیں تھا ۔ گزشتہ دور میں بلکہ اب تک بھی خطرناک صورت حال بلوچستان کی رہی۔ وہاں جو تخریب کاری مسلسل ہو رہی تھی اس کے بارے میں ان صاحب سے مسلسل پوچھا جاتا رہا یہ کیا ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے، جواب ایک ہی تھا کہ ایک غیر ملکی ہاتھ ہے اور جب کوئی یہ پوچھتا کہ یہ ہاتھ کس کا ہے تو جواب ملتا یہ کوئی خفیہ گمنام ہاتھ ہے۔ اس جواب میں ہمارے اور ہمارے وزیر کے چار پانچ برس گزر گئے اور بلوچستان جلتا رہا۔
اب موصوف کو ایک نیا عذر اور بہانہ مل گیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ پنجاب کرا رہا ہے کیونکہ اس کے لشکر جھنگوی سے تعلقات اور رابطے ہیں۔ جھنگ کا شہر بلاشبہ پنجاب میں ضرور ہے لیکن علامہ قادری صاحب بھی تو جھنگ کے ہیں اور محترمہ سیدہ عابدہ حسین بھی۔ بہر کیف اب جب تک وزیراعلیٰ پنجاب ان کو کوئی مسکت قسم کا جواب نہیں دیتے وہ چپ نہیں ہوں گے بلکہ پھر بھی نہیں ہوں گے اور ہر فساد کی جڑ پنجاب کو قرار دیتے رہیں گے۔ وہ تو شکر ہے کہ اب کوئی ان کی سنتا نہیں ہے ورنہ وہ میاں شہباز کو کسی میٹرو بس کے ماتھے سے باندھ دیتے۔
کراچی کی اس آبادی نے ایک بار پھر اور بڑے بے رحمانہ انداز میں یہ بتایا ہے کہ اس ملک میں ایک نہیں دو قومیں آباد ہیں ایک دولت مند اور بے فکر اشرافیہ اور دوسرے ان کے ووٹر عوام، جس وقت کراچی کی اس آبادی میں گھر گر گئے تھے زندہ لوگ لاشیں بن گئے تھے اور بچ جانے والے بے گھر زخموں سے چور معذوری کی ایک بھیانک زندگی سے دوچار ہونے والے تھے اس وقت ان بے گھر بے خانماں اور بے آسرا پاکستانیوں کے بڑے لوگ خوشی کی کسی تقریب میں دھت اور رقص کناں تھے۔ پاکستانیوں کی موت اور ان کی لاشوں پر رقص۔
[یہ حوصلہ اور جگرا صرف اشرافیہ کا ہی ہو سکتا ہے جو صرف عوام پر حکمرانی کو ورثے میں لے کر پیدا ہوتا ہے اور نسل در نسل کبھی آمریت کے سائے میں اور کبھی ووٹ کے ذریعے غریبوں مسکینوں سے چھینی ہوئی اس طاقت سے حکمرانی کرتا ہے۔ میں عمر بھر وہ واقعہ نہیں بھولوں گا جو شادی کی ایک تقریب میں میرے ساتھ پیش آیا۔ میں اگر ضد کروں اور بے دھڑک ہو کر بے شرمی کے ساتھ اپنے حسب و نسب اور چھوٹا سا فیوڈل لارڈ ہونے کا اعلان کر دوں تو میں ایسے واقعات سے بچ سکتا ہوں۔
اس تقریب میں میرے ساتھ ایک صاحب کلف سے اکڑے ہوئے کھڑ کھڑ کرتے کپڑے زیب تن کر کے تشریف فرما ہوئے، تعارف ہوا تو وہ ملتان کے ایک معروف خاندان کے چشم و چراغ تھے اور میں نے صرف ایک اخبار نویس ہونے کا تعارف کرایا تو وہ منہ بنا کر چند لمحوں بعد اٹھ کر چلے گئے۔ یہ تقریب چونکہ ایک جدی پشتی فیوڈل لارڈ کی تھی جو میرے دوست تھے اس لیے یہ ملتانی رئیس زادے اس غلط فہمی میں رہے کہ میں بھی کوئی بڑا آدمی ہوں گا لیکن وہ اندر سے اخبار نویس نکلا۔
یہ ایک عام سا واقعہ ہے لیکن اس طبقے کے کھوکھلے پن اور گم ہوتی ہوئی رعونت کی ایک بے رحم نشانی ہے۔ لطف یہ ہے کہ نئے دولت مند جنھیں نو دولتا کہا جاتا ہے ایک ابھرتا ہوا نیا طبقہ جو اپنی اندر کی غربت اور بے نام ماضی پر قابو پانے کے لیے ان لوگوں کی پذیرائی کر کے ان کی میتوں کو کندھا دیتا ہے ان میں شامل ہونے کے لیے۔ قصہ یوں ہے کہ ایک طبقہ مر رہا ہے اور دوسرا خلا کو پر کرنے کے لیے اس کی جگہ آ رہاہے یوں اس طرح یہ سلسلہ چلتا جا رہا ہے لیکن کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل اور کہیں تو ہو گا شب سست موج کا ساحل۔
جتنی کچھ مہلت باقی ہے یہ ریکارڈ قائم کرتی چلی جا رہی ہے۔ لگتا ہے دمِ واپسیں تک عوام کی یہ خدمت جاری رہے گی۔ گزشتہ دنوں کراچی میں صرف پچاس آدمی جاں بحق ہو گئے اور نہ جانے کتنے زخمی اور یوں باقی ماندہ عمر کے لیے زندوں سے بدتر کسی معذور زندگی میں داخل ہو گئے ،عین اسی وقت عوام کی جان و مال کی محافظ حکومت کراچی میں ہی ایک جشن منا رہی تھی۔ بہت بڑے بڑے لوگ اس جشن میں شریک اور مست تھے، شہر کی پولیس کسی فرض شناس حکومت کی طرح ان کی جان ومال کی حفاظت کے لیے موقع پر موجود تھی۔
جہانتک جان و مال کا تعلق ہے تو یہ قوم اس کے ضایع ہونے سے نہیں گھبراتی کیونکہ جب یہ 63 برس پہلے وجود میں آئی تھی تو نہ مال تھا نہ جان سلامت اور محفوظ تھی۔ دفتر بنانے کے لیے جگہ نہیں تھی صابن کی خالی پیٹیوں پر افسران بیٹھتے تھے اور یہی ان کی میزیں بھی تھیں۔ زندگی بس ویسے ہی خود بخود باقی تھی ورنہ علاج معالجہ تو بہت ناکافی اور جسم کی توانائی کے لیے قدرت کا موسم تھا تو یہ قوم اس بے سروسامانی غربت اور ناداری و افلاس سے بچ گئی اور حیرت کیجیے کہ آج یہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور کل تک یعنی اس حکومت سے پہلے تک ایک خوشحال قوم بھی تھی۔
عرض یہ ہے کہ پاکستانی قوم زندگی بچانا اور اسے باقی رکھنا جانتی ہے یہ کام وہ کر چکی ہے اور پھر بھی کر لے گی لیکن ملک کا بچانا اس کے بس میں نہیں ہے اور کوئی قائداعظم بھی نہیں جو اسے کوئی ملک لے کر دے گا اس لیے جان و مال نہ سہی ملک کا وجود ضروری اور از بس لازم ہے لیکن کرپشن یعنی قومی زندگی کی ہر سطح پر کرپشن اور وہ بھی اربوں میں اس ملک کے لیے قاتل ہے ایک ایسا زہر جس کا کوئی تریاق نہیں بس ایک دھماکہ ہے جو جان بھی لے جاتا ہے اور مکان اور مال بھی۔
کراچی میں دھماکے اور خونریزی اب ماشاء اللہ ایک معمول بن چکے ہیں لیکن اس تازہ دھماکے کو اہل کراچی اور ارباب اقتدار نے لاپرواہی اور خود غرضی کا جو تڑکا لگایا ہے وہ پہلی مثال ہے۔ یہ روم کے بادشاہ نیرو والی بنسری کو یاد دلاتا ہے۔ بے رحم تاریخ کیسے ہزاروں برس بعد بھی اپنے آپ کو دہراتی ہے البتہ تاریخ کو اپنا سبق دہرانے کے لیے ایسے حکمران چاہئیں جیسے اس وقت پاکستان میں برسراقتدار ہیں۔ تاریخ کے ان عجوبہ قسم کے واقعات کی طرح ہماری یہ حکومت بھی جدید دور کا ایک عجوبہ ہے جو دہرانے کے لیے تاریخ کو نصیب ہوتا رہتا ہے۔ خدا نہ کرے کوئی مورخ ہماری آج کی تاریخ کو بھی مدون کرے جو آنے والوں کے لیے ایک تماشا اور ہماری قوم پر ایک الزام اور دھبا بن کر زندہ رہے۔
امن و امان کا ذکر ہو تو اس شعبے کے وزیر صاحب کا اسم گرامی ہر پاکستانی کے ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ یہ ہیں جناب رحمن ملک ان کو بھی ہمارے تاریخ ساز حکمران تلاش کرکے لائے ہیں اور ان کا یہ تجربہ کامیاب رہا ہے کیونکہ جو کچھ یہ وزیر صاحب کر رہے ہیں اور جس جرات اور دیدہ دلیری کے ساتھ کر رہے ہیں وہ کسی نارمل پاکستانی کے لیے ممکن نہیں تھا ۔ گزشتہ دور میں بلکہ اب تک بھی خطرناک صورت حال بلوچستان کی رہی۔ وہاں جو تخریب کاری مسلسل ہو رہی تھی اس کے بارے میں ان صاحب سے مسلسل پوچھا جاتا رہا یہ کیا ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے، جواب ایک ہی تھا کہ ایک غیر ملکی ہاتھ ہے اور جب کوئی یہ پوچھتا کہ یہ ہاتھ کس کا ہے تو جواب ملتا یہ کوئی خفیہ گمنام ہاتھ ہے۔ اس جواب میں ہمارے اور ہمارے وزیر کے چار پانچ برس گزر گئے اور بلوچستان جلتا رہا۔
اب موصوف کو ایک نیا عذر اور بہانہ مل گیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ پنجاب کرا رہا ہے کیونکہ اس کے لشکر جھنگوی سے تعلقات اور رابطے ہیں۔ جھنگ کا شہر بلاشبہ پنجاب میں ضرور ہے لیکن علامہ قادری صاحب بھی تو جھنگ کے ہیں اور محترمہ سیدہ عابدہ حسین بھی۔ بہر کیف اب جب تک وزیراعلیٰ پنجاب ان کو کوئی مسکت قسم کا جواب نہیں دیتے وہ چپ نہیں ہوں گے بلکہ پھر بھی نہیں ہوں گے اور ہر فساد کی جڑ پنجاب کو قرار دیتے رہیں گے۔ وہ تو شکر ہے کہ اب کوئی ان کی سنتا نہیں ہے ورنہ وہ میاں شہباز کو کسی میٹرو بس کے ماتھے سے باندھ دیتے۔
کراچی کی اس آبادی نے ایک بار پھر اور بڑے بے رحمانہ انداز میں یہ بتایا ہے کہ اس ملک میں ایک نہیں دو قومیں آباد ہیں ایک دولت مند اور بے فکر اشرافیہ اور دوسرے ان کے ووٹر عوام، جس وقت کراچی کی اس آبادی میں گھر گر گئے تھے زندہ لوگ لاشیں بن گئے تھے اور بچ جانے والے بے گھر زخموں سے چور معذوری کی ایک بھیانک زندگی سے دوچار ہونے والے تھے اس وقت ان بے گھر بے خانماں اور بے آسرا پاکستانیوں کے بڑے لوگ خوشی کی کسی تقریب میں دھت اور رقص کناں تھے۔ پاکستانیوں کی موت اور ان کی لاشوں پر رقص۔
[یہ حوصلہ اور جگرا صرف اشرافیہ کا ہی ہو سکتا ہے جو صرف عوام پر حکمرانی کو ورثے میں لے کر پیدا ہوتا ہے اور نسل در نسل کبھی آمریت کے سائے میں اور کبھی ووٹ کے ذریعے غریبوں مسکینوں سے چھینی ہوئی اس طاقت سے حکمرانی کرتا ہے۔ میں عمر بھر وہ واقعہ نہیں بھولوں گا جو شادی کی ایک تقریب میں میرے ساتھ پیش آیا۔ میں اگر ضد کروں اور بے دھڑک ہو کر بے شرمی کے ساتھ اپنے حسب و نسب اور چھوٹا سا فیوڈل لارڈ ہونے کا اعلان کر دوں تو میں ایسے واقعات سے بچ سکتا ہوں۔
اس تقریب میں میرے ساتھ ایک صاحب کلف سے اکڑے ہوئے کھڑ کھڑ کرتے کپڑے زیب تن کر کے تشریف فرما ہوئے، تعارف ہوا تو وہ ملتان کے ایک معروف خاندان کے چشم و چراغ تھے اور میں نے صرف ایک اخبار نویس ہونے کا تعارف کرایا تو وہ منہ بنا کر چند لمحوں بعد اٹھ کر چلے گئے۔ یہ تقریب چونکہ ایک جدی پشتی فیوڈل لارڈ کی تھی جو میرے دوست تھے اس لیے یہ ملتانی رئیس زادے اس غلط فہمی میں رہے کہ میں بھی کوئی بڑا آدمی ہوں گا لیکن وہ اندر سے اخبار نویس نکلا۔
یہ ایک عام سا واقعہ ہے لیکن اس طبقے کے کھوکھلے پن اور گم ہوتی ہوئی رعونت کی ایک بے رحم نشانی ہے۔ لطف یہ ہے کہ نئے دولت مند جنھیں نو دولتا کہا جاتا ہے ایک ابھرتا ہوا نیا طبقہ جو اپنی اندر کی غربت اور بے نام ماضی پر قابو پانے کے لیے ان لوگوں کی پذیرائی کر کے ان کی میتوں کو کندھا دیتا ہے ان میں شامل ہونے کے لیے۔ قصہ یوں ہے کہ ایک طبقہ مر رہا ہے اور دوسرا خلا کو پر کرنے کے لیے اس کی جگہ آ رہاہے یوں اس طرح یہ سلسلہ چلتا جا رہا ہے لیکن کہیں تو جا کے رکے گا سفینہ غم دل اور کہیں تو ہو گا شب سست موج کا ساحل۔