بھارت بات چیت کا ماحول ساز گار بنائے

وزیراعظم شاہد خاقان اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چڑی کوٹ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چڑی کوٹ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا . فوٹو : فائل

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چڑی کوٹ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جمعہ کو آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق جنرل آفیسر کمانڈنگ نے وزیراعظم کو لائن آف کنٹرول پر صورتحال، بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے شہریوں کو نشانہ بنانے اور پاک فوج کی طرف سے پیشہ ورانہ انداز میں اس کا جواب دینے کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے بیگناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی بھارتی غیر پیشہ ورانہ اپروچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے اپنی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔

اب اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اقوام متحدہ سمیت عالمی سربراہوں کی غالب اکثریت نے کنٹرول لائن پر گزشتہ برسوں سے ہونے والی ہلاکتوں، دہشت و وحشت پر مبنی بھارتی بلاجواز اشتعال انگیزیوں سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے، سیکڑوں بے گناہ کشمیریوں پر غیر جنگی اور شہری و دیہی علاقوں پر بہیمانہ گولہ باری کرکے عالمی قوانین سے کھلے انحراف کی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا ہے، یہاں تک کہ عالمی ضمیر کو متوجہ کرنے کی ہر کوشش بے نتیجہ بنا دی گئی۔

مودی حکومت نے پاکستان پر ایک غیر علانیہ جنگ مسلط کرتے ہوئے کنٹرول لائن کو مستقل وار آف تھیٹر بنا دیا جہاں جنگ بندی کی ہزاروں خلاف ورزیاں کی گئیں، توپ خانے گولے برساتے رہے، جس کا پاک فوج نے اسی تسلسل کے ساتھ منہ توڑ جواب بھی دیا مگر کبھی سیز فائر لائن کہی جانے والی اس لکیر کو بھارت نے عالمی اور ہمسائیگی کے غیر عسکری معاہدوں اور سرحد سے ملحقہ علاقوں کے عوام کو ہمیشہ خوف وہراس میں مبتلا رکھا، بھارتی بارڈر فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں بندوق کی نوک پر اہل کشمیر کے حق خود ارادیت کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی، اس تناظر میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کنٹرول لائن کی تشویش ناک صورتحال کا جائزہ لینا ایک بروقت اقدام ہے۔

وزیراعظم نے شہداء و زخمیوں کے خاندانوں کے لیے مالی امداد میں اضافہ کا اعلان کیا اور شہری آبادی کے تحفظ کے لیے کمیونٹی پروٹیکشن بنکرز کی تعمیر کے لیے فنڈز کی منظوری دی، جب کہ چیف آف آرمی اسٹاف نے بھارتی گولہ باری سے ایک ٹانگ سے محروم ہونے والی کمسن لڑکی کو مصنوعی ٹانگ لگانے کے لیے اسے فوری طور پر اے ایف آئی آر ایم منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے ساتھ ہی دیگر کچھ اقدامات کی اطلاعات اس امر کا عندیہ دینے لگی ہیں کہ بھارت عالمی دباؤ کے تحت اب خطے میں کنٹرول لائن پر کشیدگی کم کرنے پر متوجہ ہوا ہے۔


اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ اور نئے امریکی وزیر دفاع پاکستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خاتمہ سے متعلق بھارت کو ہم ذمے داریاں دینے کا مسلسل عندیہ دے رہے ہیں تاہم پاکستان نے اپنی سرزمین کسی طور دہشتگردی کے لیے استعمال نہ کرنے کے عہد کی بار بار تجدید کی ہے اور اسی جذبہ خیر سگالی سے گزشتہ روز پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کا تین روزہ 44 واں اجلاس نئی دہلی میں اختتام پذیر ہوگیا، اجلاس میں سرحد پر معمولی نوعیت کے معاملات مقامی کمانڈرز کی سطح پر حل کرنے پر اتفاق ہوا ہے جب کہ سرحد پر اسمگلنگ روکنے کے لیے موثر اقدامات بھی زیر بحث آئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ اجلاس خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوا، اجلاس میں کہا گیا کہ بلااشتعال فائرنگ روکنے کے لیے 2003 کے جنگ بندی معاہدے کا موثر نفاذ یقینی بنانا ہوگا۔ ادھر ایک اہم پیش رفت کے تحت بھارتی ہائی کمیشن نے کلبھوشن کی اہلیہ کی اپنے شوہر سے ملاقات کے حوالے سے پاکستان کی پیشکش کی تصدیق کردی ہے۔

پاکستان میں قائم بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن کی بیوی کو ملنے کے لیے پاکستانی ویزہ کی امید ہے۔ یاد رہے کلبھوشن یادیو بلوچستان میں دہشتگردی کے ایک نیٹ ورک کی نگرانی کرتا رہا، اس نے ایک ویڈیو میں اعتراف کیا کہ وہ دہشتگرد ی کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے جس کے باعث اب وہ پاکستان کی کسی جیل میں ہے، اس کا مقدمہ عالمی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

ادھر بھارت نے کہا ہے کہ سازگار ماحول اور دہشت سے پاک فضا میں پاکستان سے بات چیت کے مرحلے کا دوبارہ آغاز کیا جاسکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ بات بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے پاک بھارت مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے امکانات کی خبروں پر سوال کا جواب دیتے ہوئے بتائی۔ بلاشبہ خطے کے دیرینہ مسائل اور تنازعات کا حل مذاکرات اور نتیجہ خیز مکالمہ میں مضمر ہے، کافی وقت دو طرفہ لاحاصل ملاقاتوں میں ضایع ہوا، اب ضرورت پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور لائن آف کنٹرول کو امن کے زون میں بدلنے کی ہے، اس مقصد کے لیے چار ملکی اعانتی گروہ کو پیش قدمی کرنا چاہیے۔

 
Load Next Story