یمن میں شدید غذائی قلت قحط پڑنے کا خدشہ
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے یمن کا ایک عرصے سے فضائی اور سمندری محاصرہ کر رکھا ہے
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے یمن کا ایک عرصے سے فضائی اور سمندری محاصرہ کر رکھا ہے . فوٹو : فائل
سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی اب بتدریج کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے، چند روز قبل یمن سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایئرپورٹ کو میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جسے اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا، اب سعودی فوجی اتحاد نے یمن کی وزارت دفاع پر میزائلوں سے حملہ کر دیا ہے۔ ان حملوں سے کیا نقصان ہوا، ابھی تک اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے یمن کا ایک عرصے سے فضائی اور سمندری محاصرہ کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں وہاں شدید غذائی قلت پیدا ہونے سے لاکھوں افراد کا قحط میں مبتلا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر یہ صورت حال یونہی جاری رہی اور اس بحران کا کوئی مناسب حل تلاش نہ کیا گیا تو ایک بڑی آبادی کا قحط سے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے۔
سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازعات چند سال پیشتر اس انداز سے ابھر کر سامنے آئے کہ دونوں انھیں پرامن طریقے سے حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے برسرپیکار ہو گئے، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت آتی چلی جا رہی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغی اس کی سلامتی اور بقاء کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں جنھیں ختم کرنے کے لیے وہ کارروائی کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کا فضائی اور سمندری محاصرہ ختم کیا جائے تاکہ غذا اور دیگر امدادی سامان وہاں لوگوں تک پہنچایا جا سکے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہاں بہت بڑے پیمانے پر اموات کا خطرہ ہے۔ایک جانب اقوام متحدہ یمن کے شہریوں سے ہمدردی جتانے کے لیے محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے تو دوسری جانب برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ نے یہ چشم کشا انکشاف کیا ہے کہ برطانوی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب ہے۔ جب سے یمن پر اس نے حملہ کیا ہے، اس خریداری میں پانچ سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے اور یمن جنگ کے پہلے دو سال میں اس نے برطانیہ سے 4 ارب 60 کروڑ پاؤنڈ (تقریباً 6 کھرب 34 ارب 57 کروڑ روپے) کے ہتھیار خریدے ہیں۔
اس صورت حال کے تناظر میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ سعودی عرب اور یمن کے تنازعات کو ابھارنے میں مغربی طاقتوں اور امریکا کے مفادات پوشیدہ ہیں۔ امریکا کی معیشت کا بڑا انحصار اسلحے پر ہے لہٰذا وہ اس کی وسیع پیمانے پر فروخت کے لیے دنیا میں کہیں نہ کہیں تنازعات کو ابھارتا رہتا ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے پس منظر میں بھی امریکی ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایک جانب امریکا اور اس کے اتحادی مسلم ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب مسلم ممالک خود بھی باہمی تنازعات میں الجھ کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو رہے ہیں۔ یہ صورت حال مسلم دنیا کے اتحاد اور سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔بہتر یہی ہے کہ مسلم دنیا باہمی تنازعات میں الجھنے کے بجائے انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا راستہ تلاش کرے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک نے یمن کا ایک عرصے سے فضائی اور سمندری محاصرہ کر رکھا ہے جس کے نتیجے میں وہاں شدید غذائی قلت پیدا ہونے سے لاکھوں افراد کا قحط میں مبتلا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اگر یہ صورت حال یونہی جاری رہی اور اس بحران کا کوئی مناسب حل تلاش نہ کیا گیا تو ایک بڑی آبادی کا قحط سے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے۔
سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازعات چند سال پیشتر اس انداز سے ابھر کر سامنے آئے کہ دونوں انھیں پرامن طریقے سے حل کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے برسرپیکار ہو گئے، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت آتی چلی جا رہی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثی باغی اس کی سلامتی اور بقاء کے لیے مستقل خطرہ بن چکے ہیں جنھیں ختم کرنے کے لیے وہ کارروائی کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یمن کا فضائی اور سمندری محاصرہ ختم کیا جائے تاکہ غذا اور دیگر امدادی سامان وہاں لوگوں تک پہنچایا جا سکے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہاں بہت بڑے پیمانے پر اموات کا خطرہ ہے۔ایک جانب اقوام متحدہ یمن کے شہریوں سے ہمدردی جتانے کے لیے محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے تو دوسری جانب برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ نے یہ چشم کشا انکشاف کیا ہے کہ برطانوی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار سعودی عرب ہے۔ جب سے یمن پر اس نے حملہ کیا ہے، اس خریداری میں پانچ سو فیصد اضافہ ہو گیا ہے اور یمن جنگ کے پہلے دو سال میں اس نے برطانیہ سے 4 ارب 60 کروڑ پاؤنڈ (تقریباً 6 کھرب 34 ارب 57 کروڑ روپے) کے ہتھیار خریدے ہیں۔
اس صورت حال کے تناظر میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ سعودی عرب اور یمن کے تنازعات کو ابھارنے میں مغربی طاقتوں اور امریکا کے مفادات پوشیدہ ہیں۔ امریکا کی معیشت کا بڑا انحصار اسلحے پر ہے لہٰذا وہ اس کی وسیع پیمانے پر فروخت کے لیے دنیا میں کہیں نہ کہیں تنازعات کو ابھارتا رہتا ہے۔ سعودی عرب اور قطر کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کے پس منظر میں بھی امریکی ہاتھ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایک جانب امریکا اور اس کے اتحادی مسلم ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری جانب مسلم ممالک خود بھی باہمی تنازعات میں الجھ کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو رہے ہیں۔ یہ صورت حال مسلم دنیا کے اتحاد اور سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔بہتر یہی ہے کہ مسلم دنیا باہمی تنازعات میں الجھنے کے بجائے انھیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا راستہ تلاش کرے۔