ایمنسٹی اسکیم غیر قانونی کاروبار کی پشت پناہی ہے پاماڈا

ایف بی آر کا فیصلہ آٹو انڈسٹری کیلیے تباہ کن اور چند بااثر افراد کے لیے فائدہ مند ہوگا

غیر قانونی تجارت کو فروغ ملے گا، افغان بارڈر سے گاڑیاں اسمگل کی جاسکیں گی، اقبال شاہ فوٹو: فائل

آٹو کمپنیوں کے مجاز ڈیلرز کی ایسوسی ایشن پاماڈا نے اسمگل شدہ گاڑیوں کے لیے ایمنسٹی اسکیم مسترد کرتے ہوئے اس اسکیم کو مجرموں کی پشت پناہی قرار دے دیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین اقبال حسین شاہ نے بغیر ڈیوٹی دیے اسمگل شدہ گاڑیوں کیلیے ایمنسٹی اسکیم کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے فیصلے کو آٹو انڈسٹری کیلیے تباہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے اسکیم کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی کاروبار کی پشت پناہی قرار دیا اورکہا کہ اس اسکیم سے غیرقانونی تجارت کو فروغ ملے گا اور چند لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جبکہ ملک کی آٹو انڈسٹری اور اس سے وابستہ لاکھوں کو نقصان پہنچے گا۔ایف بی آر نے منگل کو جاری کردہ اپنے ایس آر او 172(1)/2013 کے ذریعے ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسمگل شدہ گاڑیوں کے مالکان اپنی گاڑیاں اسکیم سے فائدہ اٹھا کر قانونی کراسکیں گے، یہ گاڑیاں کسٹم حکام کے پاس 31 مارچ سے قبل قبضے میں لی گئی تھیں یا پھر مالکان نے انہیں خود کسٹم حکام کے حوالے کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قابل افسوس پہلو یہ بھی ہے کہ اسمگل شدہ 5 سال سے زائد پرانی گاڑیاں بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھاسکیں گی جو آٹو انڈسٹری کو واضح طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی عجیب صورت حال ہے حکومت اربوں روپے کی حامل مقامی آٹو انڈسٹری کو سپورٹ کرنے کی بجائے اسے غیر مستحکم کررہی ہے۔ وائس چیئرمین پاماڈا نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد صرف بااثر لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے جو گاڑیوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں اور مقامی آٹو انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایک کسٹم انٹیلی جنس کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اسکیم سے 2.3 ملین ڈیوٹی ادا نہ کرنے والی گاڑیوں کو فائدہ پہنچانا اور مقامی انڈسٹری کو نقصان پہنچانا ہے۔




اس اسکیم کے تحت پانچ سال پرانی استعمال شدہ گاڑیوں پر 60 فیصد سے 70 فیصد فرسودگی الائونس دیا گیا ہے جبکہ پانچ سال سے زائد پرانی گاڑیوں کی صورت میں پانچ فیصد فرسودگی الائونس فی سال کی اجازت دی گئی ہے، اسی طرح 14 سال پرانی گاڑیوں پر 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے ڈیوٹی رکھی گئی ہے جبکہ صرف ایک فیصد ریڈیمپشن فائن پرانی گاڑیوں پر چارج کیا گیا ہے۔ اس وقت حکومت نے تین سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی ہوئی ہے تاہم ایمنسٹی اسکیم کے تحت اسمگل شدہ گاڑیوں کی میعاد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کی وجہ سے مقامی انڈسٹری کی تباہی کا کون ذمے دار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 1800cc سے کم گاڑی کیلیے صرف 500 ڈالر اور 1800cc سے زائد گاڑیوں کیلیے 1ہزار ڈالر کا مطلب ہے کہ 1998 کی لینڈ کروزر یا 2000 کا ماڈل صرف 1ہزار ڈالر ڈیوٹی کی مد میں دے کر قانونی گاڑی بنائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح ایمبولینسوں کیلیے ایمنسٹی اسکیم کا غلط فائدہ اٹھایا گیا تھا اور آج یہ گاڑیاں کمرشل بنیادوں پر استعمال کی جارہی ہیں، سب سے بڑا خطرہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ہے اب ان گاڑیوں کو آسانی سے قانونی قرار دیا جاسکتا ہے اور ان پر ڈیوٹی بھی انتہائی کم ہے، ہر کوئی افغان بارڈر کے ذریعے اسمگلنگ کے مسائل سے آگاہ ہے، اب گاڑیاں اس روٹ کے ذریعے آسانی سے اسمگل کی جاسکیں گی اور انہیں قانونی درجہ مل سکے گا، اس اسکیم سے ایسے لٹیروں کو ایک اور موقع ملے گا جو پاکستان کو پہلے ہی نقصان پہنچارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ گاڑیاں ایک بڑا سیکیورٹی رسک بھی ہیں کیونکہ ان کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے اور اسمگل شدہ گاڑیاں دہشت گردی کے جرائم میں استعمال کی جاسکتی ہیں۔
Load Next Story