سانحہ کراچی متاثرہ خاندان بچے کھچے سامان کو منتقل کرتے رہے

اپنی مدد آپ کے تحت کرایے پر فلیٹ حاصل کیے ہیں، سامان منتقلی کے دوران شدید مشکلات کا سامنا ہے، متاثرین

بعض متاثرہ افراد کو اب تک سر چھپانے کا ٹھکانہ نہیں مل سکا،تباہ شدہ فلیٹوں اور دکانوں کا ملبہ صاف کرنے کا سلسلہ بھی جاری فوٹو: اے ایف پی

سانحہ عباس ٹاؤن کے متاثرہ خاندانوں کا چوتھے روز بھی اپنے بچے کھچے سامان کے ہمراہ منتقلی کا سلسلہ جاری رہا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ اتوار کو ابوالحسن اصفہانی روڈ عباس ٹاؤن کے قریب رہائش اپارٹمنٹس اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی درمیانی سڑک پر کیے جانے والے ہولناک بم دھماکے کے نتیجے میں اقرا سٹی اور رابعہ فلاور اپارٹمنٹ کے درجنوں فلیٹ اور اپارٹمنٹس کے نیچے قائم دکانیں مکمل طور پر کھنڈر بن گئیں ہیں ، دھماکے کے چوتھے روز بھی بڑی تعداد میں متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کے جدا ہونے اور اپنے نقصان ہونے کے باعث شدت غم سے نڈھال ہونے کے باوجود تباہ شدہ فلیٹوں اور دکانوں سے اپنا بچا کھچا سامان ملبے میں تلاش کرتے اور نکالتے دکھائی دیے۔

اس موقع پر انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ، متاثرہ خاندانوں نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے فوری طور پر یونیورسٹی روڈ ، صفورہ چورنگی، انچولی اور رضویہ سوسائٹی سمیت دیگر علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت کرایے پر فلیٹ حاصل کیے ہیں جبکہ بعض متاثرہ افراد کو اب تک سر چھپانے کا ٹھکانہ نہیں مل سکا اور وہ لوگ اب تک اقرا سٹی اور رابعہ فلاور ہی موجود ہیں، ان کا سامان بھی کھلے آسمان تلے پڑا ہے انھوں نے بتایا کہ بعض متاثرہ خاندان اقرا سٹی اور رابعہ فلاور میں ہی اپنے رشتے داروں کے گھر منتقل ہو گئے ہیں۔




انھوں نے بتایا کہ سامان منتقلی کے دوران انھیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سامان منتقلی کے لیے کوئی بھی لوڈنگ گاڑی جس میں سوزوکی ، شہزور ٹرک اور بڑے ٹرک شامل ہیں ان کے ڈرائیور اقرا سٹی اور رابعہ فلاور آنے سے معذرت کر رہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ سانحے کو4 روز گزر جانے کے باوجود اب تک کسی بھی متعلقہ اعلیٰ شخصیت نے متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کیا ہے نہ ان کی داد رسی کی ہے ، بم دھماکے کے ایک متاثرہ شخص فیاض نے ایکسپریس کو بتایا کہ ان کا فلیٹ تیسری مرتبہ بم دھماکوں میں تباہ ہوا ہے اور دو مرتبہ انھوں نے خود اپنی مدد آپ کے تحت اپنے فلیٹ کی مرمت کرائی۔

انھوں نے کہا کہ ماضی میں دو مرتبہ جب ان کا فلیٹ تباہ ہوا تو فلیٹ مرمت کرانے کے دعوے تو بہت کیے گئے لیکن مرمت کرانے کوئی نہیں آیا ، انھوں نے کہا کہ اب ان کی فیملی یہاں نہیں رہے گی کیونکہ ان کے بچے خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں اور بار بار کہتے ہیں بابا بم پھٹ جائے گا، دوسری جانب ہیوی مشینری سے تباہ شدہ فلیٹوں اور دکانوں کا ملبہ صاف کرنے کا سلسلہ بھی جارہی ہے، دھماکے کے چوتھے روز بھی جعفریہ ڈزاسٹر مینجمنٹ سیل ، مجلس وحدت مسلمین ، ڈپٹی کمشنر کراچی ، شہید فاؤنڈیشن پاکستان اور متحدہ قومی موؤمنٹ سمیت دیگر انجمنوں کے کیمپ بھی قائم رہے جہاں سے متاثرہ افراد کو کھانے پینے کے سامان اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیا فراہم کی جا رہی تھیں، امدادی کیمپوں پر دھما کے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اہلخانہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔
Load Next Story