چپس کا ٹھیا لگانیوالا کاشف عباسی بھی دھماکے میں ہلاک ہوا
مقتول محمد حسنین اسکردو سے تعلیم حاصل کرنے آیا تھا،میٹرک کا طالبعلم تھا.
محمد حسنین / کاشف عباسی فوٹو : فائل
عباس ٹاؤن بم دھماکا میٹرک کے طالبعلم، چپس کا ٹھیا لگانے والے،گفٹ شاپ اور ورائٹی اسٹور کے مالک اور ان کے جواں سال بیٹے کو بھی نگل گیا۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ اتوار کو سچل تھانے کی حدود میں ابوالحسن اصفہانی روڈ عباس ٹاؤن کے قریب واقع رہائشی اپارٹمنٹس اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی درمیانی سڑک پر کیے جانے والے بم دھماکے نتیجے میں میٹرک کا طالب علم محمد حسنین،چپس کا ٹھیا لگانے والا کاشف عباسی، گفٹ شاپ اور ورائٹی اسٹور کا مالک اقبال عالم اور جوان سال بیٹے سمیت جاں بحق ہوئے تھے، دھماکے میں جاں بحق ہونے والے مکان نمبر A-24عباس ٹاؤن کے رہائشی18سالہ محمد حسنین ولد محمد یعقوب کے کزن اطہر حسنین نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول محمد حسنین اسکردو کے علاقے گمبہ سے کراچی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا اور گلزار ہجری G-Mبس اسٹاپ کے قریب واقع غازی فاؤنڈیشن اسکول میں میٹرک کا طالب علم تھا۔
انھوں نے بتایا کہ 4بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر تھا اور مقتول کے والد محمد یعقوب حال ہی میں فوج سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں، انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افتخار حسین کو اس کے بھائی نے گاؤں سے خرچ کے پیسے بھیجے تھے جو افتخار حسین اور محمد حسنین فرنچائزڈ شاپ سے پیسے لینے گئے تھے کہ دھماکا ہو گیا،انھوں نے بتایا کہ مقتول محمد حسنین اور افتخار حسین کی میتیں اسکردو روانہ کردی گئی ہیں، دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے حیدری کے رہائشی کاشف عباسی ولد جعفر عباسی اقرا سٹی میں چپس کا ٹھیا لگایا کرتا تھا۔
مقتول کے دوستوں نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول کاشف شادی شدہ تھا اور مقتول ڈیڑھ سالہ بچی کا باپ تھا، انھوں نے بتایا کہ مقتول کا آبائی تعلق خیر پور سے تھا اور میت بھی خیر پور روانہ کردی گئی تھی، دھماکے کے نتیجے میں اقرا سٹی اپارٹمنٹ کی دکانوں میں قائم گفٹ شاپ اور ورائٹی کے مالک اور مکان نمبر B-31 کے رہائشی اقبال عالم ولد سید محمد عالم اور ان کے بیٹے14سالہ اعتدال عالم بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
اقبال عالم کے بھائی علی تحسین عالم نے ایکسپریس کو بتایا کہ نجی ریسٹورنٹ میں چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائض تھے جبکہ تعطیل کے روز اپنی دونوں دکانوں پر بیٹھاکرتے تھے، انھوں نے بتایا کہ مقتول اقبال عالم 4 بچوں کے باپ تھے اور دھماکے میں جاں بحق ہونے والا مقتول کا جواں سال بیٹا اعتدال عالم سب سے چھوٹا تھا اور کچھ ماہ بعد مقتول اعتدال عالم میٹرک کا امتحان دینے والا تھا، انھوں نے بتایا کہ مقتول اقبال عالم 7بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ اتوار کو سچل تھانے کی حدود میں ابوالحسن اصفہانی روڈ عباس ٹاؤن کے قریب واقع رہائشی اپارٹمنٹس اقرا سٹی اور رابعہ فلاور کی درمیانی سڑک پر کیے جانے والے بم دھماکے نتیجے میں میٹرک کا طالب علم محمد حسنین،چپس کا ٹھیا لگانے والا کاشف عباسی، گفٹ شاپ اور ورائٹی اسٹور کا مالک اقبال عالم اور جوان سال بیٹے سمیت جاں بحق ہوئے تھے، دھماکے میں جاں بحق ہونے والے مکان نمبر A-24عباس ٹاؤن کے رہائشی18سالہ محمد حسنین ولد محمد یعقوب کے کزن اطہر حسنین نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول محمد حسنین اسکردو کے علاقے گمبہ سے کراچی تعلیم حاصل کرنے آیا تھا اور گلزار ہجری G-Mبس اسٹاپ کے قریب واقع غازی فاؤنڈیشن اسکول میں میٹرک کا طالب علم تھا۔
انھوں نے بتایا کہ 4بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر تھا اور مقتول کے والد محمد یعقوب حال ہی میں فوج سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں، انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افتخار حسین کو اس کے بھائی نے گاؤں سے خرچ کے پیسے بھیجے تھے جو افتخار حسین اور محمد حسنین فرنچائزڈ شاپ سے پیسے لینے گئے تھے کہ دھماکا ہو گیا،انھوں نے بتایا کہ مقتول محمد حسنین اور افتخار حسین کی میتیں اسکردو روانہ کردی گئی ہیں، دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے حیدری کے رہائشی کاشف عباسی ولد جعفر عباسی اقرا سٹی میں چپس کا ٹھیا لگایا کرتا تھا۔
مقتول کے دوستوں نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول کاشف شادی شدہ تھا اور مقتول ڈیڑھ سالہ بچی کا باپ تھا، انھوں نے بتایا کہ مقتول کا آبائی تعلق خیر پور سے تھا اور میت بھی خیر پور روانہ کردی گئی تھی، دھماکے کے نتیجے میں اقرا سٹی اپارٹمنٹ کی دکانوں میں قائم گفٹ شاپ اور ورائٹی کے مالک اور مکان نمبر B-31 کے رہائشی اقبال عالم ولد سید محمد عالم اور ان کے بیٹے14سالہ اعتدال عالم بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
اقبال عالم کے بھائی علی تحسین عالم نے ایکسپریس کو بتایا کہ نجی ریسٹورنٹ میں چیف اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائض تھے جبکہ تعطیل کے روز اپنی دونوں دکانوں پر بیٹھاکرتے تھے، انھوں نے بتایا کہ مقتول اقبال عالم 4 بچوں کے باپ تھے اور دھماکے میں جاں بحق ہونے والا مقتول کا جواں سال بیٹا اعتدال عالم سب سے چھوٹا تھا اور کچھ ماہ بعد مقتول اعتدال عالم میٹرک کا امتحان دینے والا تھا، انھوں نے بتایا کہ مقتول اقبال عالم 7بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔