رینجرز بھی قیام امن میں ناکامی کی ذمے دار ہے آئی جی شرم ہوتی تو نوکری چھوڑ دیتے سپریم کورٹ سندھ حکومت تح
اتنی بڑی فورس کے باوجود امن قائم نہیں کرسکتی تو رینجرز کا کیا فائدہ ؟، افتخار چوہدری
کراچی: چیف جسٹس افتخار چوہدری از خود نوٹس کیس کی سماعت کیلیے عدالت میں داخل ہورہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ اتنی بڑی فورس کے باوجود رینجرز امن قائم نہیں کرسکتی تو رینجرز کا کیا فائدہ ؟اگر رینجرز اپنی ذمے داری ادا کرتی تو کراچی میں ایک گولی بھی داخل نہ ہوتی۔
کراچی کے داخلی راستوں کو سیل کیا جائے، کراچی میں آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے، شہر کو اسلحے سے پاک کرنا ہوگا۔اگر شہریوں کی جان محفوظ نہیں تو کسی کی بھی نوکری محفوظ نہیں، جمہوریت کا احترام کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی ناکامی کے باوجود اکتوبر2011میں حکومت تحلیل نہیں کی۔اگر کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ صوبائی حکومت تحلیل کردیتی توسب ٹھیک ہوجاتا۔ اگر ایسا کردیتے تو جمہوریت کہاں رہتی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو تو شاید درست صورتحال بتائی ہی نہیں جاتی، انھیں احساس ہوتاتو وہ کارروائی کرتے۔ آئی جی کو شرم ہوتی تو وہ خود ملازمت چھوڑ دیتے ،4گھنٹے تک کوئی جائے حادثہ پر نہیں پہنچا۔ سانحہ عباس ٹاؤن سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، یہاں اچھے پولیس افسران بھی ہیں لیکن من پسند کوہی تعینات کیا جاتا ہے ۔
اگر ایسا عام شہریوں کی قیمت پر کرنا ہے تو عدالت سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔اگر رینجرز اور پولیس میں جرائم کے خاتمے کاعزم ہوتو شہر کو ایک سے دوسرے کونے تک صاف کردیں۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سانحہ عباس ٹاؤن ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس امیرہانی مسلم اورجسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ، عدالت بے بس نہیں ،حکومت کچھ نہیں کرے گی تو شہریوں کے تحفظ کے لیے ہم خود کریں گے۔
کراچی میں دہشت گردی نہیں بلکہ انتظامی بدانتظامی کا بھی معاملہ ہے ۔ عدالت نے حکومت سندھ کی جانب سے آئی جی سندھ فیاض لغاری ، ڈی آئی جی زون ایسٹ علیم جعفری ، ایس ایس پی ملیر راؤانوار اور ایس ایچ او اظہر اقبال کوان کی ذمے داریوں سے فارغ کرنے کے بیان کوریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ نوٹیفکیشن کی نقول عدالت کے چیمبر میں پیش کریں ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ رینجرز بھی امن وامان کی بحالی میں ناکامی کے ضمن میں پولیس کے ساتھ ساتھ برابر کی ذمے دار ہے ،سانحہ عباس ٹاؤن کے سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ اپنی رپورٹ،کمنٹس، وضاحت پیش کریں۔ آئی ایس آئی ، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو بھی اس حوالے سے اپنے وکلا کے توسط سے رپورٹس پیش کریں اور عدالت کی معاونت کے لیے کسی افسرکو بھی تعینات کریں۔
بدھ کو سماعت کے موقع پر آئی جی سندھ فیاض لغاری کی جانب سے ان کے وکیل شاہ خاورنے رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کی تاہم عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک کو ہدایت کی کہ وہ حکومت سندھ کی جانب سے رپورٹ پیش کریں۔ عبدالفتاح ملک نے بتایاکہ وہ وقت کی کمی کے سبب رپورٹ تیار نہیں کرسکے، انھیں کل تک مہلت دی جائے۔ اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آئین اور قانون کسی کا انتظار نہیں کرتے، یہاں بے حسی کی انتہا ہے۔آئی جی فیاض لغاری، ڈی آئی جی عبدالعلیم جعفری، ایس ایس پی راوانواراحمد نے موقف اختیارکیا کہ انھوں نے بروقت پہنچنے کی کوشش کی لیکن مشتعل افراد نے ان کا راستہ روکا تاہم عدالت نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر پولیس افسران کا موقف مستردکردیا۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب جھوٹ بولنے کا زمانہ گزرگیا،سچ بولو، نوکریاں نہ بچاؤ۔ ذرا سی بھی انسانیت ہوتی تو خود اپنے عہدے چھوڑ دیتے ،ہم نے پولیس کی رپورٹس دیکھ لی ہیں یہ تضادات سے بھری ہیں ۔ بتایا جائے کتنے لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی؟۔سب نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں یا انسانی خون ارزاں ہوگیا ہے ، پہلے ایک سانحہ ہوگیا،دوسرا سانحہ یہ ہوا کہ ایک روز بعد تدفین کے جلوس پر بھی فائرنگ ہوئی اورآئی جی کو علم نہیں ، حکومت اپنے آئی جی کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس آئی جی کو تو سرفراز شاہ قتل کیس میں ہی معطل ہوجانا چاہیے تھا،شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر اسکولوں میں پڑے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے وزیراعلیٰ کے حوالے سے کچھ کہنے کی کوشش کی تو فاضل بینچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو احساس ہوتا تو کارروائی کرتے ، لوگوں کی زندگی کی قیمت پر کسی کونوکری نہیں کرنے دینگے۔ جب سے ہم نے کراچی بدامنی کیس کا فیصلہ دیا ہے بتایا جائے کہ اس کے بعد کتنے افراد ہلاک ہوئے ، یہ مرنے والے کوئی غیر نہیں ، آپ کا ہی خون ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان شہریوں کے حقوق مجھ سمیت کسی بھی افسر سے زیادہ ہیں، ہم تنخواہ لیتے ہیں وہ ٹیکس دیتے ہیں۔ حکومت سندھ کے وکیل انور منصور خان نے بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماسٹر پیس قراردیا،تاہم جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ اس فیصلے پرعملدرآمد کرنے کے بجائے دانستہ انحراف کیا جارہا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آپ غفلت بلکہ مجرمانہ غفلت تسلیم کررہے ہیں لیکن پھر وہی انتظامیہ ہے، ایک آدمی بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ دوران سماعت رینجرز کے لیگل آفیسر میجراشفاق بلوچ نے بتایاکہ رینجرز کے حوالے سے 21اگست 2011میں اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری ہواتھا اور ہر3 ماہ بعد اس میں توسیع کردی جاتی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ایک پولیس افسر بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر سمجھتا ہے کہ ملک اس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اس موقع پر ممتاز شیعہ عالم عباس کمیلی نے کھڑے ہوکر عدالت کو بتایاکہ عباس ٹاؤن میں یہ پہلا سانحہ نہیں بلکہ چوتھا دھماکا ہے۔
یہ ایک تنگ مقام ہے جہاں نگرانی کرنا زیادہ مشکل نہیں لیکن انتظامیہ نے یہاں کیمرے تک نصب نہیں کیے کہ آئندہ ملزمان کی شناخت ہی ہوسکے ۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں روز10,15افراد ٹارگٹ کلنگ کاشکار ہوتے ہیں۔ آئی جی کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ پولیس نے گزشتہ دنوں300کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمدکیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن وہ ہمارے ان50شہریوں کی زندگیاں واپس کردے ، ایک شہری کی جان بچانے میں ناکامی بھی حکومت کی ناکامی ہے۔
جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ کراچی میں شہری گھروں میں بم دھماکوں سے مارے جارہے ہیں اور بازاروں سے لڑکیاں اٹھائی جارہی ہیں۔چیف جسٹس نے کلفٹن کے علاقے سے لڑکی کے اغوا کے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے کہ اس میں بڑے لوگوں کے بچے ملوث ہیں اور ابھی تک کوئی گرفتار نہیں ہوا۔آئی جی کے وکیل نے کہا کہ اگر انکے موکل کی تبدیلی سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو پھر یہ کرلیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بالکل یہ مسئلہ اسی طرح حل ہوسکتا ہے کہ پولیس کو سیاست سے پاک کردیا جائے۔جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ ابھی پولیس میں ایسا شخص ڈی آئی جی بھرتی ہوا ہے جس نے زندگی میں کبھی وردی نہیں پہنی۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جب پولیس لوگوں کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکتی تو آگے تو الیکشن کے معاملات آرہے ہیں، پھر کیا کرینگے؟۔حکومت سندھ کے وکیل نے موقف اختیارکیاکہ دہشت گردوں نے پہلے خیبر پختونخوا کو نشانہ بنایا،وہاں زیادہ فورس لگائی گئی تو وہ بلوچستان آگئے ، وہاں اقدامات کیے گئے تو کراچی کو نشانہ بنایاگیا۔ چیف جسٹس نے ان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے شہریوں کی زندگیاں لوٹادیں ہمیں حکومت سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے عدالت کے استفسار پر بتایاکہ کراچی میں11ہزار ٹروپس تعینات ہیں ، فاضل چیف جسٹس نے آبزرو کیاکہ اتنی بڑی تعداد میں جوانوں کی موجودگی کے باوجود شہر میں دہشت گردی اور دیگر جرائم میں کمی نہ ہونا تشویش کی بات ہے۔
جنرل رضوان نے کہا کہ موجودہ نفری کم ہے ، اس سے شہر کو سیل نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے ان سے پوچھا کہ عباس ٹاؤن کے سانحے سے متعلق انکے پاس پہلے سے کیا اطلاعات تھیں؟ ، اس پر جنرل رضوان نے کہا کہ کوئی ٹھوس اطلاع نہیں تھی۔عدالت نے ڈی جی رینجرز کو ہدایت کی کہ8مارچ کو اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ بعدازاں عدالت نے جمعے کیلیے سماعت ملتوی کردی۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمہوریت کامطلب یہ نہیں ہوتا کہ عوام کو قتل ہونے کیلیے چھوڑ دیا جائے۔ جمہوریت کا مطلب ہر شہری کی عزت کرنا ہے۔ حکومت سندھ کے وکیل انورمنصور نے چیف جسٹس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں ابھی جمہوریت میں وہ کام نہیں ہورہے جو ہونا ضروری ہیں۔
چیف جسٹس نے انور منصور خان سے استفسار کیا کہ آپ حکومت سے نوکری لے رہے ہیں ؟جس پر سابق اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے سوال ٹال دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ جج بنے ہوئے24سال ہوگئے، بڑے بڑے مجرموں کو سزائیں دیں مگر کبھی ہاتھ نہیں کانپا۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک سے استفسارکیاکہ سانحے کے بعد کوئی سرکاری عہدیدار متاثرین کی دلجوئی کے لیے ان کے پاس گیا، انھوں نے بتایا کہ وزیر اعلی سندھ خود گئے تھے اور وہ رات5بجے تک ان کے ساتھ موجود رہے ، تاہم کمرہ عدالت میں موجود متعدد وکلا نے اسکی تردید کی۔۔ بدھ کو سماعت کے موقع پر حکومت سندھ نے پیشکش کی کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے جائے حادثہ پر نہ پہنچنے کی ذمے داری کے تعین کے لیے جوڈیشل انکوائری کرالی جائے ، تاہم فاضل بینچ نے اس کو مسترد کردیا۔
کراچی کے داخلی راستوں کو سیل کیا جائے، کراچی میں آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے، شہر کو اسلحے سے پاک کرنا ہوگا۔اگر شہریوں کی جان محفوظ نہیں تو کسی کی بھی نوکری محفوظ نہیں، جمہوریت کا احترام کرتے ہوئے صوبائی حکومت کی ناکامی کے باوجود اکتوبر2011میں حکومت تحلیل نہیں کی۔اگر کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ صوبائی حکومت تحلیل کردیتی توسب ٹھیک ہوجاتا۔ اگر ایسا کردیتے تو جمہوریت کہاں رہتی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو تو شاید درست صورتحال بتائی ہی نہیں جاتی، انھیں احساس ہوتاتو وہ کارروائی کرتے۔ آئی جی کو شرم ہوتی تو وہ خود ملازمت چھوڑ دیتے ،4گھنٹے تک کوئی جائے حادثہ پر نہیں پہنچا۔ سانحہ عباس ٹاؤن سب کی مشترکہ ذمے داری ہے، یہاں اچھے پولیس افسران بھی ہیں لیکن من پسند کوہی تعینات کیا جاتا ہے ۔
اگر ایسا عام شہریوں کی قیمت پر کرنا ہے تو عدالت سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔اگر رینجرز اور پولیس میں جرائم کے خاتمے کاعزم ہوتو شہر کو ایک سے دوسرے کونے تک صاف کردیں۔ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سانحہ عباس ٹاؤن ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس امیرہانی مسلم اورجسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ، عدالت بے بس نہیں ،حکومت کچھ نہیں کرے گی تو شہریوں کے تحفظ کے لیے ہم خود کریں گے۔
کراچی میں دہشت گردی نہیں بلکہ انتظامی بدانتظامی کا بھی معاملہ ہے ۔ عدالت نے حکومت سندھ کی جانب سے آئی جی سندھ فیاض لغاری ، ڈی آئی جی زون ایسٹ علیم جعفری ، ایس ایس پی ملیر راؤانوار اور ایس ایچ او اظہر اقبال کوان کی ذمے داریوں سے فارغ کرنے کے بیان کوریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو ہدایت کی کہ وہ نوٹیفکیشن کی نقول عدالت کے چیمبر میں پیش کریں ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ رینجرز بھی امن وامان کی بحالی میں ناکامی کے ضمن میں پولیس کے ساتھ ساتھ برابر کی ذمے دار ہے ،سانحہ عباس ٹاؤن کے سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ اپنی رپورٹ،کمنٹس، وضاحت پیش کریں۔ آئی ایس آئی ، ملٹری انٹیلی جنس اور انٹیلی جنس بیورو بھی اس حوالے سے اپنے وکلا کے توسط سے رپورٹس پیش کریں اور عدالت کی معاونت کے لیے کسی افسرکو بھی تعینات کریں۔
بدھ کو سماعت کے موقع پر آئی جی سندھ فیاض لغاری کی جانب سے ان کے وکیل شاہ خاورنے رپورٹ پیش کرنے کی کوشش کی تاہم عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک کو ہدایت کی کہ وہ حکومت سندھ کی جانب سے رپورٹ پیش کریں۔ عبدالفتاح ملک نے بتایاکہ وہ وقت کی کمی کے سبب رپورٹ تیار نہیں کرسکے، انھیں کل تک مہلت دی جائے۔ اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آئین اور قانون کسی کا انتظار نہیں کرتے، یہاں بے حسی کی انتہا ہے۔آئی جی فیاض لغاری، ڈی آئی جی عبدالعلیم جعفری، ایس ایس پی راوانواراحمد نے موقف اختیارکیا کہ انھوں نے بروقت پہنچنے کی کوشش کی لیکن مشتعل افراد نے ان کا راستہ روکا تاہم عدالت نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر پولیس افسران کا موقف مستردکردیا۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب جھوٹ بولنے کا زمانہ گزرگیا،سچ بولو، نوکریاں نہ بچاؤ۔ ذرا سی بھی انسانیت ہوتی تو خود اپنے عہدے چھوڑ دیتے ،ہم نے پولیس کی رپورٹس دیکھ لی ہیں یہ تضادات سے بھری ہیں ۔ بتایا جائے کتنے لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی؟۔سب نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں یا انسانی خون ارزاں ہوگیا ہے ، پہلے ایک سانحہ ہوگیا،دوسرا سانحہ یہ ہوا کہ ایک روز بعد تدفین کے جلوس پر بھی فائرنگ ہوئی اورآئی جی کو علم نہیں ، حکومت اپنے آئی جی کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس آئی جی کو تو سرفراز شاہ قتل کیس میں ہی معطل ہوجانا چاہیے تھا،شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہوکر اسکولوں میں پڑے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے وزیراعلیٰ کے حوالے سے کچھ کہنے کی کوشش کی تو فاضل بینچ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو احساس ہوتا تو کارروائی کرتے ، لوگوں کی زندگی کی قیمت پر کسی کونوکری نہیں کرنے دینگے۔ جب سے ہم نے کراچی بدامنی کیس کا فیصلہ دیا ہے بتایا جائے کہ اس کے بعد کتنے افراد ہلاک ہوئے ، یہ مرنے والے کوئی غیر نہیں ، آپ کا ہی خون ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان شہریوں کے حقوق مجھ سمیت کسی بھی افسر سے زیادہ ہیں، ہم تنخواہ لیتے ہیں وہ ٹیکس دیتے ہیں۔ حکومت سندھ کے وکیل انور منصور خان نے بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماسٹر پیس قراردیا،تاہم جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ اس فیصلے پرعملدرآمد کرنے کے بجائے دانستہ انحراف کیا جارہا ہے۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ آپ غفلت بلکہ مجرمانہ غفلت تسلیم کررہے ہیں لیکن پھر وہی انتظامیہ ہے، ایک آدمی بھی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ دوران سماعت رینجرز کے لیگل آفیسر میجراشفاق بلوچ نے بتایاکہ رینجرز کے حوالے سے 21اگست 2011میں اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری ہواتھا اور ہر3 ماہ بعد اس میں توسیع کردی جاتی ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ایک پولیس افسر بکتر بند گاڑی میں بیٹھ کر سمجھتا ہے کہ ملک اس کے بغیر نہیں چل سکتا۔ اس موقع پر ممتاز شیعہ عالم عباس کمیلی نے کھڑے ہوکر عدالت کو بتایاکہ عباس ٹاؤن میں یہ پہلا سانحہ نہیں بلکہ چوتھا دھماکا ہے۔
یہ ایک تنگ مقام ہے جہاں نگرانی کرنا زیادہ مشکل نہیں لیکن انتظامیہ نے یہاں کیمرے تک نصب نہیں کیے کہ آئندہ ملزمان کی شناخت ہی ہوسکے ۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں روز10,15افراد ٹارگٹ کلنگ کاشکار ہوتے ہیں۔ آئی جی کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ پولیس نے گزشتہ دنوں300کلوگرام دھماکا خیز مواد برآمدکیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن وہ ہمارے ان50شہریوں کی زندگیاں واپس کردے ، ایک شہری کی جان بچانے میں ناکامی بھی حکومت کی ناکامی ہے۔
جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ کراچی میں شہری گھروں میں بم دھماکوں سے مارے جارہے ہیں اور بازاروں سے لڑکیاں اٹھائی جارہی ہیں۔چیف جسٹس نے کلفٹن کے علاقے سے لڑکی کے اغوا کے واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے کہ اس میں بڑے لوگوں کے بچے ملوث ہیں اور ابھی تک کوئی گرفتار نہیں ہوا۔آئی جی کے وکیل نے کہا کہ اگر انکے موکل کی تبدیلی سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو پھر یہ کرلیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بالکل یہ مسئلہ اسی طرح حل ہوسکتا ہے کہ پولیس کو سیاست سے پاک کردیا جائے۔جسٹس امیرہانی مسلم نے کہا کہ ابھی پولیس میں ایسا شخص ڈی آئی جی بھرتی ہوا ہے جس نے زندگی میں کبھی وردی نہیں پہنی۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جب پولیس لوگوں کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکتی تو آگے تو الیکشن کے معاملات آرہے ہیں، پھر کیا کرینگے؟۔حکومت سندھ کے وکیل نے موقف اختیارکیاکہ دہشت گردوں نے پہلے خیبر پختونخوا کو نشانہ بنایا،وہاں زیادہ فورس لگائی گئی تو وہ بلوچستان آگئے ، وہاں اقدامات کیے گئے تو کراچی کو نشانہ بنایاگیا۔ چیف جسٹس نے ان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے شہریوں کی زندگیاں لوٹادیں ہمیں حکومت سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے عدالت کے استفسار پر بتایاکہ کراچی میں11ہزار ٹروپس تعینات ہیں ، فاضل چیف جسٹس نے آبزرو کیاکہ اتنی بڑی تعداد میں جوانوں کی موجودگی کے باوجود شہر میں دہشت گردی اور دیگر جرائم میں کمی نہ ہونا تشویش کی بات ہے۔
جنرل رضوان نے کہا کہ موجودہ نفری کم ہے ، اس سے شہر کو سیل نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے ان سے پوچھا کہ عباس ٹاؤن کے سانحے سے متعلق انکے پاس پہلے سے کیا اطلاعات تھیں؟ ، اس پر جنرل رضوان نے کہا کہ کوئی ٹھوس اطلاع نہیں تھی۔عدالت نے ڈی جی رینجرز کو ہدایت کی کہ8مارچ کو اس ضمن میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ بعدازاں عدالت نے جمعے کیلیے سماعت ملتوی کردی۔چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمہوریت کامطلب یہ نہیں ہوتا کہ عوام کو قتل ہونے کیلیے چھوڑ دیا جائے۔ جمہوریت کا مطلب ہر شہری کی عزت کرنا ہے۔ حکومت سندھ کے وکیل انورمنصور نے چیف جسٹس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں ابھی جمہوریت میں وہ کام نہیں ہورہے جو ہونا ضروری ہیں۔
چیف جسٹس نے انور منصور خان سے استفسار کیا کہ آپ حکومت سے نوکری لے رہے ہیں ؟جس پر سابق اٹارنی جنرل نے مسکراتے ہوئے سوال ٹال دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ جج بنے ہوئے24سال ہوگئے، بڑے بڑے مجرموں کو سزائیں دیں مگر کبھی ہاتھ نہیں کانپا۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ عبدالفتاح ملک سے استفسارکیاکہ سانحے کے بعد کوئی سرکاری عہدیدار متاثرین کی دلجوئی کے لیے ان کے پاس گیا، انھوں نے بتایا کہ وزیر اعلی سندھ خود گئے تھے اور وہ رات5بجے تک ان کے ساتھ موجود رہے ، تاہم کمرہ عدالت میں موجود متعدد وکلا نے اسکی تردید کی۔۔ بدھ کو سماعت کے موقع پر حکومت سندھ نے پیشکش کی کہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے جائے حادثہ پر نہ پہنچنے کی ذمے داری کے تعین کے لیے جوڈیشل انکوائری کرالی جائے ، تاہم فاضل بینچ نے اس کو مسترد کردیا۔