معاوضہ لینے کے لیے لاشوں اور انسانی اعضا پر قبضے کی جنگ

مسلح افراد نے مردہ خانے کو گھیرلیا سہراب گوٹھ کی سروس روڈ بندکردی، اعضا چھین کر لے گئے

مسلح افراد نے مردہ خانے کو گھیرلیا سہراب گوٹھ کی سروس روڈ بندکردی، اعضا چھین کر لے گئے فوٹو: اے ایف پی

سانحہ عباس ٹاؤن میں جاں بحق اور زخمی افراد کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے مالی معاوضے کے اعلان کے بعد لاشوں اور ملبے سے ملنے والے انسانی اعضا پر قبضے کی جنگ شروع ہوگئی۔

نامعلوم افراد ایدھی مردہ خانے سے اسلحے کے زور پر زبردستی انسانی اعضا اپنے ہمراہ لے گئے۔ اتوار کو عباس ٹاؤن میں ہونے والے بم دھماکے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے، واقعے کے فوری بعد سندھ حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے ورثا کے لیے15لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کے لیے10 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا تھا۔




نامعلوم افراد ایدھی سرد خانے پہنچے اور بغیر کسی کاغذی کارروائی کے انسانی اعضا پر دعویٰ کیا، سرد خانے کے عملے نے جب اعضا حوالے کرنے سے معذوری ظاہر کی تو انھوں نے مزید کئی افراد کو وہاں بلالیا ، نامعلوم افراد نے مردہ خانے کو گھیرلیا جبکہ سہراب گوٹھ کی سروس روڈ بھی ٹریفک کے لیے بند کردی، مسلح افراد نے سرد خانے کے عملے کو مغلظات بکیں اور انسانی اعضا زبردستی چھین کر لے گئے، ایدھی مردہ خانے کے عملے نے فوری طور پر سچل پولیس کو بھی مطلع کیا لیکن نامعلوم افراد اتنی دیر میں جاچکے تھے۔

Recommended Stories

Load Next Story