افغانستان طالبان نے17مغوی افغان فوجیوں کو قتل کر دیا
امریکا سے بگرام جیل کا کنٹرول آئندہ ہفتے مل جائے گاافغان شہریوں پر تشدد میں مقامی اہلکار بھی ملوث ہیں، صدرحامدکرزئی۔
7 اہلکارجنگجوؤں کے بدلے میں آزاد، وردگ میں طالبعلم قتل، امریکا 2014 کے بعد 6 ارب ڈالر کا عسکری سامان افغانستان کے حوالے کردیگا. فوٹو: اےایف پی
افغانستان میں طالبان نے فائرنگ کرکے17 مغوی افغان فوجیوں کو ہلاک کردیا ۔
جبکہ 7 فوجیوں کو طالبان کی رہائی کے بدلے میں آزاد کروالیا گیا، صوبہ وردگ میں امریکی فوجیوں نے یونیورسٹی کے طالبعلم کو قتل کردیا۔ صدر کرزئی نے کہا ہے کہ امریکا کے زیر انتظام بگرام جیل کو آئندہ ہفتے مقامی تحویل میں دے دیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان نے ہفتے کو صوبہ بدخشاں سے17 افغان فوجیوں کو اغوا کیا تھا جنہیں گزشتہ روز طالبان نے گولیوں سے چھلنی کردیا۔
نائب پولیس چیف جہانگیر کرامت کے مطابق ہلاک ہونے والے افغان اہلکاروں کی لاشوں کو تاجکستان، چین اور پاکستان کی سرحد سے ملنے والے صوبہ بدخشاں کے ضلع واردوج سے برآمد کرلیا ہے،7 افغان فوجیوں کو طالبان کی رہائی کے بدلے میں طالبان سے آزاد کروالیا گیا ہے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے۔ طالبان نے افغان فوجیوں کی ہلاکت کی ذمے داری قبول کرلی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتیں لڑائی کے دوران ہوئی ہیں، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغان فوج کے بھاری اسلحہ اور 2 گاڑیوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔
صوبہ وردگ میں امریکی فوجیوں نے یونیورسٹی کے طالبعلم کو قتل کردیا، طلبا نے طالبعلم کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی پرچم نذر آتش کیا۔ اے ایف پی کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکا کے زیر انتظام بگرام جیل اور اس میں قید تمام قیدیوںکو چند دنوں میں مقامی حکام کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔
دوسری طرف اطلاعات کے مطابق امریکا 2014 میں افغانستان سے جاتے وقت6 ارب ڈالر مالیت کا فوجی ساز وسامان افغانستان کے حوالے کردے گا۔ افغانستان میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز میٹس نے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد بھی 13 ہزار00 6فوجی موجود رہنا ضروری ہے۔
جبکہ 7 فوجیوں کو طالبان کی رہائی کے بدلے میں آزاد کروالیا گیا، صوبہ وردگ میں امریکی فوجیوں نے یونیورسٹی کے طالبعلم کو قتل کردیا۔ صدر کرزئی نے کہا ہے کہ امریکا کے زیر انتظام بگرام جیل کو آئندہ ہفتے مقامی تحویل میں دے دیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان نے ہفتے کو صوبہ بدخشاں سے17 افغان فوجیوں کو اغوا کیا تھا جنہیں گزشتہ روز طالبان نے گولیوں سے چھلنی کردیا۔
نائب پولیس چیف جہانگیر کرامت کے مطابق ہلاک ہونے والے افغان اہلکاروں کی لاشوں کو تاجکستان، چین اور پاکستان کی سرحد سے ملنے والے صوبہ بدخشاں کے ضلع واردوج سے برآمد کرلیا ہے،7 افغان فوجیوں کو طالبان کی رہائی کے بدلے میں طالبان سے آزاد کروالیا گیا ہے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے۔ طالبان نے افغان فوجیوں کی ہلاکت کی ذمے داری قبول کرلی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتیں لڑائی کے دوران ہوئی ہیں، طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغان فوج کے بھاری اسلحہ اور 2 گاڑیوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا ہے۔
صوبہ وردگ میں امریکی فوجیوں نے یونیورسٹی کے طالبعلم کو قتل کردیا، طلبا نے طالبعلم کے قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی پرچم نذر آتش کیا۔ اے ایف پی کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکا کے زیر انتظام بگرام جیل اور اس میں قید تمام قیدیوںکو چند دنوں میں مقامی حکام کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔
دوسری طرف اطلاعات کے مطابق امریکا 2014 میں افغانستان سے جاتے وقت6 ارب ڈالر مالیت کا فوجی ساز وسامان افغانستان کے حوالے کردے گا۔ افغانستان میں تعینات امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز میٹس نے کہا ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد بھی 13 ہزار00 6فوجی موجود رہنا ضروری ہے۔