پاکستان کوادائیگیوں کاتوازن بگڑنے کی سنگین صورتحال کاسامنا
بحران سے بچنے کیلیے آئی ایم ایف سے9ارب ڈالرتک کا نیا پیکیج لیناپڑیگا،ایشیائی بینک.
بحران سے بچنے کیلیے آئی ایم ایف سے9ارب ڈالرتک کا نیا پیکیج لیناپڑیگا،ایشیائی بینک. فوٹو: فائل
ایشیائی ترقیاتی بینک نے کہاہے کہ پاکستان ادائیگیوں کا توازن بگڑنے کی سنگین صورتحال کے قریب پہنچ گیاہے اوراسے بحران سے بچنے کیلیے اس سال کے آخرمیں عالمی مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)سے 9ارب ڈالرتک کا ایک اورپیکیج لینے کی ضرورت ہوگی۔
بدھ کو پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریک وارنرلی پیک نے برطانوی خبررساں ادارے کوانٹرویومیں کہاکہ پاکستان کے پاس اس وقت بمشکل دوماہ کی برآمدات کے لیے پیسہ موجودہے، پاکستان کواس سال کے آخرمیں ایک اورامدادی پیکج لینے کیلیے آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جانا پڑے گا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں وزارت خزانہ کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاگیاکہ رواں سال جون کے آخرتک زر مبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالر تک رہ جانیکا امکان ہے جسکے بعد حکومت کو دیگر ادائیگیوں کے لیے آئی ایم ایف سے 3 سے 5 ارب ڈالرتک نیا قرض لینا پڑے گاجبکہ نیا بیل آوٹ پیکیج 3 سال کے لیے ہوسکتا ہے۔نئے قرض کیلیے آئی ایم ایف سے رابطہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کریگی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے مارچ 2008 میں لیے جانے والے 7 ارب 80 کروڑ ڈالر قرض کی واپسی کا عمل جاری ہے اب تک دس مختلف اقساط میں 3 ارب 23 کروڑ ڈالر سے زیادہ ادا کیے جاچکے ہیں جبکہ رواں سال 30 جون تک آئی ایم ایف کومزید ایک ارب ڈالرادا کیے جائینگے۔
بدھ کو پاکستان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریک وارنرلی پیک نے برطانوی خبررساں ادارے کوانٹرویومیں کہاکہ پاکستان کے پاس اس وقت بمشکل دوماہ کی برآمدات کے لیے پیسہ موجودہے، پاکستان کواس سال کے آخرمیں ایک اورامدادی پیکج لینے کیلیے آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جانا پڑے گا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں وزارت خزانہ کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیاگیاکہ رواں سال جون کے آخرتک زر مبادلہ کے ذخائر 8 ارب ڈالر تک رہ جانیکا امکان ہے جسکے بعد حکومت کو دیگر ادائیگیوں کے لیے آئی ایم ایف سے 3 سے 5 ارب ڈالرتک نیا قرض لینا پڑے گاجبکہ نیا بیل آوٹ پیکیج 3 سال کے لیے ہوسکتا ہے۔نئے قرض کیلیے آئی ایم ایف سے رابطہ انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت کریگی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف سے مارچ 2008 میں لیے جانے والے 7 ارب 80 کروڑ ڈالر قرض کی واپسی کا عمل جاری ہے اب تک دس مختلف اقساط میں 3 ارب 23 کروڑ ڈالر سے زیادہ ادا کیے جاچکے ہیں جبکہ رواں سال 30 جون تک آئی ایم ایف کومزید ایک ارب ڈالرادا کیے جائینگے۔